تازہ ترین

کچھ شرپسند عناصر آبائی جائیداد سے محروم کرنے کی مذموم کوشش کرکے انہیں ہراسان کررہے ہیں جس کا پی ٹی آئی حکومت فوری نوٹس لے۔عمائیدن لاوی کی پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) لاوی دروش کے عمائیدن مولانا صابراللہ، مفتاح الدین، حمید الرحمن،ذولفقار احمد، عبدالاکبر، نورحاجی خان اور دوسروں نے حکومت خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ لاوی گاؤں کے چند شرپسند عناصر کی علاقے میں 2ہزارایکڑ سرکاری اراضی کی موجودگی کے بارے میں پھیلائی گئی غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے جوکہ علاقے کے خود ساختہ اکابر اور رہنما بنے ہوئے ہیں جبکہ ان کی وجہ سے علاقے کی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ لاوی گاؤں میں ابپاشی کے لئے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے اراضی کا بڑا حصہ زیرزیادہ تر بنجر رہتا ہے اور صرف بارشوں کی بہتات کے سال اسے زیر کاشت لاتے ہیں لیکن چند عناصر نے ان کے غیر زیر کاشت زمینات کو سرکاری قرار دینے کے لئے میڈیا میں بیانات جاری کررہے ہیں جس میں ایک صحافی شامل ہے جس کا تعلق اس ضلعے سے بھی نہیں ہے اورانہیں اس صورت حال بھی کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پرحیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خورشید احمد، ناصر محمود، لیکچرار غنی الرحمن اور خیرالاعظم گاؤں کے احاطے میں واقع دوسروں کی ملکیتی اراضی کو سرکاری قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن گاؤں کی حدود سے باہر جنگل کے قریب وہ خود کئی ایکڑ اراضی پر قابض ہوکر اسے اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں جوکہ ان کی دوغلاپن کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ لینڈ سیٹلمنٹ کے وقت انہوں نے متعلقہ اسٹاف کے سامنے اپنی ملکیت کو ثابت کیا تھا جس پر یہ اراضی ان کے نام پر درج بھی ہوئے ہیں لیکن یہ شرپسند عناصر ان کو آبائی جائیداد سے محروم کرنے کی مذموم کوشش کرکے انہیں ہراسان کررہے ہیں جس کا پی ٹی آئی حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ عناصر اپنے حصے کی اراضی پہلے ہی فروخت کرچکے ہیں جس پر 35سے ذیادہ خاندان باہر سے آکر آبادہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لاوی پاؤر پراجیکٹ میں ان کو زمینات کا معاوضوں کو ادائیگی بھی فوری طور پر کی جائے جوکہ اس شوشے کی وجہ سے روک دئیے گئے ہیں جبکہ مخالفین بہت پہلے اپنے حصے معاوضے لے چکے ہیں اور انہی پیسوں کی بل بوتے پر ان کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق