fbpx

گاوں لاوی میں چراگاہ /شاملات اور سرکاری زمین کے بارے میں حقائق

چترال ایکسپریس(نمائندہ خصوصی)ایلیان لاوی کے (250) گھرانے کےنمایئدہ گان ناصر محمود ،خورشید احمد، امیں محمودلنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اوی تقریبا 250 گھرانوں پر مشتمل تحصیل دروش کا ایک گاون ہے۔ جہاں لوگ  دیگر زرئعہ معاش کے ساتھ مال مویشان پال کر زند گی گزارتے ہے۔ اور مال مویشیون کو پالنے کے لیےعلاقے میں چراگاہین موجود ہے۔ اں چراگاہون میں ایک کا نام لشٹ ڈپ ہے۔ جو قومی چراگاہ/شاملات  ہونے کے ساتھ بچون کے کھلنے کا واحد میداں بھی ہے۔  2009 کو کچھ لوگوں نے اس چراگاہ میں  تجاوزات کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معاملہ عدالت میں چلا  گیا۔ اور سول جج دروش حقایق تک پہنچنے کے لیے کمیشن بنایا۔ اور کمیشن رپورٹ لف ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سول جج دروش نے اپنا فیصلہ دیا۔ جس میں جایداد کو قومی چراگاہ/شاملا ت قرار دیکر 1975 نوٹیفیکیشن کے تحت سراکاری ملکیت قرار دی گئی۔

اس حکم کے خلاف ایک فریق سیشن جج میں  اپیل دایر کی اور بعد میں اپیل بصیغہ واپسی خارج کی گئی۔

سنہ 2010 سے لیکر 2017 تک اس چراگاہ کی حیثیت بد ستور قائم رہی۔ اور کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔  جبکہ 2017 کو کچھ لوگوں نے اس میں مداخلت کرنے کی کوشیش کی تو اہلیان لاوی نے اسسٹنت کمشنر دروش کو درخواست دی ۔ اور اے سی دروش نے  سٹلمنٹ تحصیلدار اور روینو تحصیلدار دروش کو مو قع پر بھجا اور انھون نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ پر اے سی دروش نے فیصلہ سنایا۔

2018 کو جب لاوی ہایڈل پراجیکٹ پر کام شروع ھوا۔ تو چند لوگوں نے پھر اس چراگاہ پر تجاوزات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس کے خلاف اہلیاں لاوی قانونی اور دیگر محازوں پر لڑ رہے ہیں۔ اہلیاں لاوی کا بنیادی مقصد اس چراگاہ میں تجاوزات  اور کسی قسم کی غیر قانونی انتقال کو روکنا ہے۔ اور اس چراگاہ کے  بابت  کسی بھی اوارڈ کی صورت میں جو  قانونی معاوٖضہ بنتا ہے۔ وہ معاوٖضہ تمام لوگوں میں مساوی تقسیم کرنا ہے۔ اور اس چراگاہ کے بابت عدالتی فیصلہ کا احترام کرنا ہے۔ چونکہ اس چراگاہ کو عدالت نے 1975 کے نوٹیفیکیشن کے تحت سرکاری ملکیت قرار دی ہے۔  لہذا اس کی تحفظ  کرنا اور وہاں تجاوزات کو روکنا حکومتی اداروں کی زمہ داری بھی بنتی ہے۔

جو لوگ اس چراگاہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھون نے سرج روڈ کے اوارڈ میں حکومتی اداروں کو غلط اطلاعات پہنچا کر اس متنازعہ اوارڈ کے ذریعے  اس چراگاہ کے کچھ حصوں پر ناجایز قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جو کہ عدالتی احکامات کے سراسر خلاف ورزی ہے۔ اور اس  چراگاۃ کے باببت متنازعہ اوارڈ کو  اہلیان لاوی نے عدالت میں بھی چلنج کی ہے۔  اور مقدامات عدالتوں  میں ہیں۔ ۔اہلیاں لاوی  مہذب اور زمہ دار  شہری کی حیثیت سے   چراگاہون،شاملات،  کھیل کے میدانوں اور دیگر سراکاری املاک میں تجاوزات کے خلاف صوبائی اور وفاقی حکومت کے شانے بشانے کھڑے ہیں   ان معزز شہریوں کی سا کھ کو مجروح کرنے لیے چند دن پہلے لاوی کے چند لوگوں کے زریعے پرس کانفرسن کی گئی۔ جن لوگوں نے اس پرس کانفرنس میں حصہ لیا۔ ان کا مقصد اس چراگاہ پر غیر قانوںی طور پر قبضہ کرنا اور تجاوزات کرنا ہے۔ اس پرس کانفرنس میں اں لوگوں نے مہذب اور زمہ دار شہریوں کے لیے شرپسند کے الفاظ استعمال کی ہے۔ جس سے ہمارے ساکھ کو نقصاں پہنچا ہے۔ اور ہم اں لوگوں کے خلاف ہتک  عزت کا دعوا بذریعہ وکیل ہھج رہے ہیں۔

اُنہوں نے اہلیان لاوی وزیر اعظم ، صوبائی حکومت اور خصوصاً وزیر اعلی، وزیر مالیات شکیل خان ، چیف سیکرٹری کے پی ، سنیر ممبر بورڈ اف روینو،کمشنر ملاکنڈ ، ڈپٹی کمشنر چترال ، آسسٹنت کمشنر چترال ،اسسٹنٹ کمشنر دروش سے دراخواست کیا۔ کہ جو لوگ ہمارے چراگاہ/شاملات جس کو عدالت نے سرکاری ملکیت قرار دی ہے۔ ان پر ناجائز تجاوزات کرنے کی مزموم کوشش کررہے ہیں۔ اور ان چراگاہوں کو غیر قانونی طور پر اپنے نام منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان  کی تحفظ میں ہماری مدد کرین۔ اور جو لوگ اس چراگاہ میں تجاوزات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے خلاف سخت قانونی چارو جوئی کی جاے۔ اور قومی چراگاہوں جس کو سراکاری ملکیت قرار دی گئی ہے اس کو غیر قانوںی طور پر اپنے نام منتقل  کرنا سنگیں کرپشن کے زمرے میں اتا ہے۔  اور غیر قانوںی طور پر اپنے اپ کو اوارڈ میں شامل کرنے کی پاداش میں ان لوگوں  کے خلاف سرکاری سطح پر نیب میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کی جائے۔  تجاوزات کے خلاف مہم میں ہم صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر یہ لوگ ہماری چراگاہ میں تجاوزات کرین گے۔ تو ہمارے مال موشیوں کو چرانے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گا۔ اور ساتھ ہمارے بچوں کے لیے اس چراگاہ میں واحد کھیل کا میداں ہے۔ جس پر یہ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ وقاقی اور صوبائی حکومتیں کھیل کے میدانوں کو پھیلا کر کھیل کود اور صحت مند ماحول کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ہم ڈپٹی کمشنر صاحب سے دراخواست کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس جگہ کا دورہ کریں۔ جہان ہم  خود ڈپٹی کمشنر صاحب کو حقیقت حال سے بخوبی اگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم سول سوسائٹی، پولیٹیکل پارٹیز اور  انسانی حقوق کے تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ تجاوزات کے خلاف اور چراگاہوں پر قپضہ کے خلاف اس نیک مہم ہماری مدد کریں۔ اللہ ہم سب کا حامی اور ناصر ہو۔

ایلیان لاوی (250) گھرانے بذریعہ نمایئدہ گاں

۔ ناصر محمود  موبایل نمبر: 03451561217

۔ خورشید احمد موبایل نمبر: 03415780053

۔ امیں محمود

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق