fbpx

تحصیل دروش ترقیاتی کاموں کے حوالے سے خوش قسمت تحصیل

جائزہ رپورٹ:۔

دروش(چترال ایکسپریس)تقریبا1 لاکھ 30 ہزار آباد ی سے زائد آبادی والا تحصیل دروش ضلع چترال میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے خوش قسمت تحصیل ہے 2017 کو  پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے دروش کو تحصیل چترال سے الگ کرکے باقاعدہ طور پر الگ تحصیل یعنی تحصیل دروش کا درجہ دے کر اس کی ایک الگ حیثیت قائم کی۔ جس کی وجہ سے مختلف لائن ڈیپارٹمنٹز کیلئے اپنے اپنے دفاتر  تحصیل ہیڈ کوارٹر دروش میں قائم کرنے کا موقع ملا  جس سے کئی ایک دفاتر تو کھل گیے باقی  کھلنے والے۔تحصیل دروش کے قیام کے ساتھ ساتھ دروش میں ٹی ایم اے کا آفس بھی قائم کیا گیا  جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں ہی 25 ارب روپے کی لاگت سے لاوی ہائیڈو پاؤر اسٹیشن کا افتتاح جناب عمران خان نے کیا جس پرزور شور سے کام  جاری ہے،ہیلتھ کے شعبے میں دروش ہسپتال کو کیٹیگری ڈی میں ڈال کر تقریباً 12 کڑور روپے کی لاگت سے دروش ہسپتال کا نیا بلڈنگ تیار ہو چکا ہے۔ یقیناً میگا پراجیکٹز میں  لاوی ہائیڈو پاؤر پراجیکٹ، 12 کڑور روپے کی لاگت سے دروش ہسپتال کی بلڈنگ،ٹی ایم اے آٖفس دروش کا قیام اور خاص کر تحصیل دروش کو الگ تحصیل بنانا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا اہم کارنامہ ہیں۔ جس کیلئے یقینی طور پر سابق ایم پی اے بی بی فوزیہ اور سابق ضلعی نائب صدر رضیت با اللہ  کو کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔جنہوں نے ان پراجیکٹس کے حوالے سے بھر پور جدوجہد کی اور صوبائی حکومت کا دروازہ بار بار کٹھکٹھایا۔

جبکہ ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی  کی حکومت میں سابق ایم پی اے سلیم خان کی کوششوں سے گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج دروش کی خوبصورت بلڈنگ تقریباً 60 کڑور روپوں کی لاگت سے تیار ہو چکی ہے جبکہ شیشی کوہ تا دروش پبلک ہیلتھ اسکیم کے تحت  ایک میگا واٹر پراجیکٹ بھی تیار ہو چکا ہے جس سے لوگ  استعفادہ کر رہے ہیں۔ جس کیلئے یقینی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی  کی حکومت میں قابل ستائش ہے۔

تحصیل دروش  کی ایک اور خوش قسمتی یہ کہ افواج پاکستان نے  ملاکنڈ ، گلگت بلتستان میں تحصیل  کو اپنے سب سے میگا پراجیکٹ یعنی فرنٹئیر کور پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج کیلئے چنا جس پہ تقریباً 1 ارب سے زائد کی لاگت آچکی ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ ضلع چترال ، گلگت بلتستان اور ملاکنڈ میں سب سے بڑا سکول اور کالج ہے اس کے ساتھ ساتھ پٹے نگر سے ارسون ٹاپ تک بھی روڈ کی تعمیر کیلئے آرمی انجینئرنگ کور میں اپنا سروئے مکمل کر لیا اور عنقریب 65 کڑور روپے کی لاگت سے اس منصوبے پر بھی کام شروع ہو جائے گا جبکہ کپٹن اجمل شہید اسٹیڈیم اوسیک کو  تعمیر کر کے دروش کے نوجوانوں کے حوالے کر دیا گیا۔  یقینی طور پر ان کاموں کے حوالے کرنل خرم   نذیر  اور کرنل معین الدین قابل تحسین ہیں۔

پبلک سیکٹر میں دیکھا  جائے  تو دروش میں مارکیٹس کا قیام روز شور سے جاری ہے اور خوش قسمتی سے ضلع چترال کا پہلا لفٹ والا بلڈنگ جس کی اونچائی 6منزلہ ہے اور جس پر 10 کڑور روپے کی لاگت ائے گی کام شروع ہو چکا ہے جس میں مارکیٹس کے حوالے سے  چترال میں اپنی نوعیت کا پہلا پلازہ ہوگا جس میں  تقریباً 300 کے قریب دوکانیں ، آٖفسس، فلیٹس، میٹنگز حال کے علاوہ ایک جدید نما ہوٹل بھی تعمیر ہو رہا ہے۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق