fbpx

صدائے بے ہنگم….زمہ دار کون؟

………..تحریر:ناجی خان ناجی………

بیٹا:۔ امی جان! آپ چنے کی دال اور کدو سبزی نہ پکائیں!
امی:۔ کیوں بیٹے کیا ہوا؟
بیٹا:۔ ہم ہاسٹل میں اس بے مزہ سبزی (کدو) اور چنے کی بے روغن اور بدمزہ دال سے الرجی ہوگئے ہیں۔پھر باپ سے مخاطب ہوکر ابا جان!ہم ان چھٹیوں کے بعد ہاسٹل واپس جاکر پڑھنا نہیں چاہتے!
ابا:۔ کیوں بیٹے کیوں پڑھنا نہیں چاہتے؟
بیٹا:۔ دیکھیں ابا جان!آپ کو ہرمہینے پچیس ہزار وظیفہ(پنشن) ملتا ہے،پندرہ ہزار گھریلو اخراجات کیلئے اور دس ہزار ماہوار میری تعلیمی اخراجات کیلئے ہوتے ہیں اس کمر توڑ مہنگائی میں دس ہزار کی یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔یونیورسٹی میں ہاسٹل نہیں چترال کے ایک نجی ہاسٹل سے سین لشٹ کا ماہوار کرایہ ساڑھے تین ہزار روپے بنتا ہے،ساڑھے سات ہزارروپے ہاسٹل کا ماہوار فیس اس بھاری فیس کے باوجود ہاسٹل میں ناقص خوراک اور غیر معیاری کھانوں سے صحت خراب ہوتی جارہی ہے۔دوسری طرف کپڑوں کی دھلائی کے پیسے،بیماری کی صورت میں ادویات کی ضرورت کیلئے آنے جانے کا کرایہ وغیرہ ہمارے جیب میں موجود رہنا لازمی ہوتا ہے۔آپ کے حقیر وظیفے سے دس ہزار پرآجکل اکتفا کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے اسلئے بہتر یہی ہے کہ ہم تعلیم کو خیر آباد کہہ کر کہیں مزدوری کو نکلیں“۔
ایک طالب علم کا والدین کے ساتھ یہ دردناک مکالمہ جو حقیقت پر مبنی ہے حکومت اور انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ اور قابل توجہ ہے۔ایک طرف مہنگائی کا نہ تھمنے والا طوفان برپا ہے۔دوسری طرف زمانے کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہے۔حکومت کے پاس تعلیمی نظام کا فقدان ہے اس سے فائدہ اُٹھاکر کاروباری حضرات اس میدان میں کود پڑے ہیں اور حسبِ منشا اس موقع سے فائدہ اُٹھارہے ہیں۔کوئی پبلک سکول قائم کرکے پیسے بٹوررہا ہے۔کوئی ہاسٹلنگ کا نظام چلاکر حسب توفیق کمارہا ہے۔اگرچہ بظاہر یہ کاروبارقومی تعلیمی خدمات تصور کئے جاتے ہیں ہم انکی مذمت نہیں کرتے بشرطیکہ انصاف کا دامن تھامے رکھیں اور انتظامیہ کے کڑی نگرانی میں چل رہے ہوں مگر ایسا نہیں لگ رہا ہے ہر تعلیمی نجی ادارہ خواہ وہ سکول ہے یا ہاسٹل اپنی من مانیت سے نونہالان قوم کے کھال اُتارنے پر تلے ہوئے ہیں۔
یہ دیکھ کر دوردراز علاقوں کے رہنے والے غیر مقیم طلباء وطالبات کے والدین چترال کے انتظامیہ،ایم این اے،ایم پی اے اور تحریک انصاف کے مقامی باختیار حضرات کی توجہ اس آن لائن اخبار کے وساطت سے مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ناقابل برداشت فیسوں کو غریب طلباء وطالبات کے لئے قابل برداشت بنایا جائے ہاسٹلوں میں معیاری کھانوں کا اہتمام کیا جائے اور چترال انتظامیہ ان نجی ہاسٹلوں کی فیسوں اور ناقص کھانوں کی روک تھام اور معیاری کھانوں کی نگرانی فرمائے۔اگر اس مسئلے پر فوری توجہ مبذول نہ کی گئی تو اسکے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔اسکے زمہ دار کون؟والدین،ہاسٹل مالکان یا حکومت؟؟۔
نوٹ:۔ یہ کالم علاقہ تورکھو مقام شاگرام کے غیر مقیم طلباء وطالبات کے والدین سے ایک ہنگامی نشست کے دوران انکے اصرار اور مطالبے پرلکھا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق