fbpx

قربانی کے مسائل(5)

کالم نگار: مفتی محمد غیاث الدین
………قربانی عقل کی نظر میں……….
اللہ رب العزت نے اس حضرت انسان کے ذمہ دو کام لگائے ہیں:ایک یہ کہ انسان دنیا کی اشیاء سے ٹھیک نفع اٹھائے اور دوسرا یہ اللہ کی مرضیات کے مطابق زندگی گزارے۔ظاہر ہے کہ ان دوکاموں کو نبھانے کے لئے علم درکار ہے۔تحصیل ِ علم کے لئے اللہ رب العزت نے انسان کو جو ذرائع عطا فرمائے ہیں وہ تین ہیں : ایک حواسِ خمسہ دوسرا عقل،اور تیسرا ذریعہ وحی ہے۔یہ تینوں ذرائع ِ علم اپنی اپنی حدود میں کام کرتے ہیں ،اور ان کے کام کرنے کا ایک دائرہ ہے اس سے آگے یہ کام نہیں کر سکتے۔مثلاً ہم پیچھے بیٹے بندے کے کپڑوں کا رنگ کا علم عقل سے کبھی بھی حاصل نہیں سکتے،کیونکہ یہ حواس خمسہ میں سے آنکھ کا دائرہ ہے۔اسی طرح ہم دس جمع دس مساوی بیس کو حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں،کیونکہ یہ عقل کا دائرہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ ذرائع ِ علم میں سے شروع کے دو ذرائع ( عقل اور حواس ِ خمسہ) کو استعمال کرکے ہم دنیا کی اشیاء سے ٹھیک ٹھیک فائدہ اٹھانے کا علم حاصل کرسکتے ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضیات کا علم ہمیں حواس خمسہ اور عقل سے کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔مثلاً زید کو دیکھ کر ہم حواس خمسہ کے ذریعہ پہچان جاتے ہیں کہ یہ زید ہے،عقل ہمیں یہ علم دیتی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے والدین سے پیدا فرمایا ہے۔لیکن جب یہ سوال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاس کو کیوں پیدا فرمایا ؟ تو حواس خمسہ اور عقل دونوں کام نہیں کرتے۔اب یہاں ضرورت پڑتی ہے تیسرے ذریعۂ علم یعنی وحی کی۔وحی نے بتا دیا کہ اللہ تعالی ٰ نے انس وجن کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔اب یہ علم کہ اللہ تعالی ٰ کی عبادت(بندگی) کس طرح کرنی چاہئے یہ علم ہمیں صرف اور صرف تیسرے ذریعۂ علم یعنی وحی سے حاصل ہوسکتا ہے ،ہم اگر اس کو عقل یا حواس ِخمسہ سے حاصل کرنا چاہیں تویہ ناممکن ہے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو علم ہمیں وحی سے حاصل ہو اس کو اگر ہم عقل کے ترازو پر تولنا شروع کریں گے تو گمراہی کے سوا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم اور احادیث ِ مبارکہ میں خالق کو پہچاننے کے لئےعقل استعمال کرنے کی  بار باردعوت دی گئی ہے،لیکن احکامِ خدا وندی میں عقل استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔کیونکہ دین کی بنیاد عقل نہیں وحی ہے۔لہذا احکامِ الٰہیہ میں عقلی گھوڑے نہیں دوڑانے چاہیے۔اگر ایسا کریں گے تو انسانی عقل کبھی بھی اس کو نہیں سمجھ سکے گی مثلاً حج شریعت کا ایک حکم ہے اگر ہم اس کو عقل کے ترازو پر رکھیں تو شروع سے لیکر آخر تک حج کے مناسک میں کوئی ایک منسک بھی اس ترازو میں درست نہیں ٹہرتا۔ لیکن یہ اللہ رب العزت کا عظیم حکم اور اسلام کا پانچواں رکن ہے۔اسی  طرح دین کے بہت سارے احکام ایسے ہیں مثلاً موزوں پر مسح کرنا۔شریعت کہتی ہے کہ موزوں کے اوپروالے حصے پر مسح کرو،حالانکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ موزوں کے نچلے والے حصے پر مسح ہو، کیونکہ گندگی وغیرہ  نچلے حصے میں لگنے کا خطرہ  ہوتاہے  تو مسح بھی وہاں ہو۔اوپر کے حصے پر مسح کرنے کا کیا مطلب ہے؟لیکن شریعت کہتی ہے کہ نہیں ، تم اوپر  مسح کرو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھاکہ اگر دین عقل کا تابع ہوتا تو میں موزوں کے  نچلے والے حصے پرمسح کرتالیکن میں نے حضورﷺ کو موزوں کے اوپر  والے حصے پر مسح فرماتے دیکھا ہے۔
لہٰذا دین کے کسی بھی حکم کو عقل کے ترازو پر تولنا بالکل غلط ہے ،اور خود عقل یہی تقاضا کرتی ہے۔دیکھئے نا اگر کوئی آفیسراپنے کسی ملازم کو پانی لانے کا حکم دے  تو ملازم پر لازم ہے کہ پانی لائے۔لیکن اگر وہ یہ سوچنے لگے اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے کہ سر نے پانی کیوں مانگوایا؟اب تو سردی کا موسم ہے سر کو پیاس تو نہیں لگی ہوگی پھر وہ پانی کیوں مانگتے ہیں ۔اس طرح اگر وہ یہ سوچ سوچ کر خالی ہاتھ واپس آجائے تو اس ملازم کو پاگل کہا جائےگا۔اسی طرح اللہ نے جب کسی کام کوکرنے کا حکم دیا تو بس کرنا لازم ہے، عقلی گھوڑے دوڑائیں گے تو پاگل کہلائیں گےبھلا اپنی نظر میں ہم کتنے ہی اسکالر کیوں نہ ہوں۔استاذ محترم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اکثر فرماتے ہیں:وحی کو عقل کے ترازو میں مت تولو،کیونکہ وحی  کی پرواز وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں پر عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے”۔
اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔قربانی بھی وحی سے ثابت ہے۔اس کو اگر ہم ایک جگہ بیٹھ کر عقل کے ترازو میں رکھیں تو عقلی کہتی ہے کہ قربانی کے جانور کے پیسوں سے جانور خریدنے کے بجائے یہ پیسے کسی ہسپتال میں لگانا ،کسی غریب کی مدد کرنا،کسی جگہ کنواں نکالنا،کسی کو کپڑے خرید کر دینا،کسی مریض کے آپریشن میں خرچ کرنا وغیرہ وغیرہ  زیادہ بہتر اور زیادہ باعثِ اجر وثواب ہے۔اسی طرح عقل یہ بھی کہتی ہےکہ تین دنوں میں اتنے سارے جانوروں کو ذبح کرناظلم ہونے کے ساتھ ساتھ گوشت اور پیسوں کا ضیاع بھی ہے۔نیز گوشت کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔پھر اس کثرت سے جانوروں کو ذبح کرنے کی وجہ سے پورا محلہ بلکہ پورا شہر اور پورا ملک جانوروں کے الائشوں سے بھر جاتا ہے ،ہر جگہ گندگی کے ڈھیر ہی ڈھیر ہوتے ہیں۔اس لئے اگر قربانی کرنی  بھی ہے تو ترتیب سے اپنی ضرورت کے مطابق جونوروں کو  ذبح کرناچاہئے۔
قرآن وسنت سے نابلد ہمارے معاشرے کے بعض لوگ عقل کی اتباع میں یہی کرتے ہیں ،چنانچہ وہ کسی غریب کی مدد کرکے یا کسی ہسپتال میں پیسے جمع کرکے یا کسی غریب کے بیٹے یا بیٹی کی شادی کراکر یہ سمجھتے ہیں کہ قربانی ادا ہوگئی کیونکہ ہم نے جانور ذبح کرنے سے بڑا کام کیا۔بلاشبہ یہ  سارے کام بھی عبادت ہیں لیکن قربانی کی عبادت ان کاموں سے ادا  نہیں ہوگی،وہ الگ عبادت ہیں اور یہ الگ عبادت۔بھلا ایک عبادت کو انجام دینےسے دوسری عبادت کیونکر ادا ہوگی؟نماز پڑھنے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی تو صدقہ دینے سے قربانی کیسے ادا ہوگی؟یاد رکھیں یہ صرف ہماری عقل اور نفس وشیطان کا دھوکہ ہے۔خود شیطان نے بھی رب کے حکم پر عقلی گھوڑے دوڑا کر گمراہ ہوا تھا،اللہ نے سجدے کا حکم دیا تو عقل استعمال کرتے ہوئے کہا:اے اللہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے(میں اونچی مخلوق ہوں تو میں کیسے اس کو سجدہ کرسکتا ہوں)۔عقلی اعتبارسے اگر دیکھا جائے تو یہ دلیل بالکل درست ہے لیکن اس نے وحی کو عقل کے ترازو میں رکھاتو ملعون مردود قرار پایا۔
یہ حکم صرف قربانی سے متعلق نہیں ہے بلکہ ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئےکہ جب قرآن وسنت سے کوئی بات واضح طور پر ثابت ہو اس میں کبھی بھی عقل استعمال نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم رہنا چاہئے۔حتیٰ کہ بعض علماء کرام نے احکام ِ خدا وندی میں حکمتیں تلاش کرنے کو بھی ناپسند فرمایا ہے،کیونکہ انسانی عقل ان حکمتوں کا ادراک کر ہی نہیں سکتی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق