fbpx

داد بیداد…..بی اے کی ڈگری

گزشتہ روز خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت کا نیا حکمنا مہ اخبارات کی زینت بن چکا ہے حکمنا مے کی رو سے صو بائی سطح کے ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے بے اے /بی ایس سی کی ممنو عہ ڈگری کو ایک سال مزید جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور صو بے میں قا ئم تما م یونیور سٹیوں کو مرا سلہ بھیجا ہے کہ بی اے اور بی ایس سی کی ڈگری کے امتحا ن کو مزید ایک سال کے لئے جا ری رکھا جائے لیکن یو نیورسٹیاں اس حکم کو ماننے پر آما دہ نہیں ہیں یو نیورسٹی حکام کا مو قف یہ ہے کہ وہ وفا قی حکومت کے ہائیر ایجو کیشن کمیشن (HEC) کے تحت کام کرتی ہیں اور اُسی کے احکا ما ت کو ماننے کے پا بند ہیں وفاقی حکومت نے بی اے،بی ایس سی کا نام ہی ختم کر دیا ہے یو نیور سٹیاں اس نام سے کوئی ڈگری جاری نہیں کر سکتیں خیبر پختونخوا کی حکومت اگر اس ڈگری کو مزید ایک سال جاری رکھنا چا ہتی ہے تو وفا قی حکومت کے ذریعے HECکی طرف سے حکمنا مہ جاری کروائے چنا نچہ معا ملہ پھر لٹک گیا ہے مو جو دہ حکومت نو جوا نوں کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے مگر اس کی پا لیسیاں وہی ہیں جو نواز شریف کی حکومت نے 2015ء میں نو جو انوں کے خلاف بنا ئی ہوئی تھیں 2015ء میں نواز حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ 2017ء کے بعد دوسالہ ڈگری پرو گرام ختم ہو گا اخبارات اور سو شل میڈیا میں اس کے خلا ف سخت ردّ عمل آیا تو ہائیر ایجو کیشن کمیشن نے 2020ء تک دو سالہ ڈگری پرو گرام بی اے /بی ایس سی کو جا ری رکھنے کا اعلا ن کیا، اور حکم دیا کہ 2018ء کے بعد بی اے /بی ایس سی میں کسی کو داخلہ نہیں ملے گا 2018ء میں داخلہ لینے وا لوں کا امتحان 2020میں ہو گا اس کے بعد کوئی امتحا ن بھی نہیں ہوگا نیز کسی غریب اور نا دار گھر انے کے طا لب علم کو آرٹس کے مضا مین میں پرائیویٹ امتحا ن دینے کی اجا زت بھی نہیں ہو گی پھر خد ا کا کر نا ایسا ہو ا کہ نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا غریب اور نا دار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نو جوا نوں نے کہا ان کو ہما ری بد عا لگ گئی 2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت آئی شفقت محمود اورخسرو بختیار وفاقی کا بینہ میں شامل ہوئے تو ملک بھر کے نو جوا نوں میں خو شی کی لہر دوڑ گئی کہ اب بی اے /بی ایس سی کے دو سالہ پرو گرام پر سے پا بندی ہٹا ئی جائے گی اور جو لوگ کسی ادارے میں باقاعدہ داخلہ نہیں لے سکتے وہ آر ٹس میں پرائیویٹ امتحا ن دے سکینگے اب جوان دوست حکومت آگئی ہے فاخر اور اُن کے ساتھی کا دو گانہ مشہور ہے ؎
اے جواں اے جواں جیت ہے تیرا نشاں
منزل ہے آسماں ہے تو ہی پاکستان
جواں دوست حکومت نے زندگی کے تمام شعبوں میں نواز شریف کی پا لیسیوں کو اٹھا کر گلی میں پھینک دیا ہے لیکن نو جوا نوں کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کا در وا زہ غریبوں پر بند کرنے کے حوا لے سے نواز کی پا لیسی کو جا ری رکھا ہے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نو جو انوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ کر کے استدعا کی تھی کہ دو سالہ ڈگری پرو گرام ختم ہونے سے غریب اور نا دار گھر انوں کے جواں بچوں اور بچیوں کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے اس لئے پرو گرام کو جا ری رکھا جائے وزیر اعلیٰ نے میٹنگ بلائی تو ان کو بتا یا گیا کہ اٹھا ر ویں تر میم کے تحت تعلیم کا شعبہ صو بائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آ تا ہے وزیر اعلیٰ کے حکم سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے نے وفاقی حکومت اور ہائیر ایجو کیشن کمیشن سے رابطہ کیا اور باقاعدہ گفت شنید کے بعد دو سالہ ڈگری پرو گرام کو مزید ایک سال جا ری رکھنے کا فیصلہ ہوا مگر ”آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا“HECاور یو نیور سٹی حکام کہتے ہیں کہ جب تک وفاقی حکومت اپنا فیصلہ واپس نہ لے تب تک دو سالہ ڈگری پرو گرام نہیں چل سکتا چاہے اس کا نام بی اے /بی ایس سی ہو یا ایسو سی ایٹ ڈگری ہو ایسو سی ایٹ ڈگری دوسالہ تعلیم کا وہ پرو گرام ہے جس کی اجا زت HECنے دے رکھی ہے مگر کڑی شرائط کے ساتھ مثلاً سو شل سائنسز میں پرائیویٹ امتحا ن دینے کی اجا زت نہیں ہو گی سارا پرو گرام سمسٹر سسٹم کے تحت ہو گا اور HECکے دیئے ہوئے گائیڈ لائن کے مطا بق ہو ٹل انڈسٹری، کوکنگ، ڈیزائننگ وغیر ہ کے کورسز میں ہوگا عمو می تعلیم فزکس، جعرافیہ، کیمسٹری، انگریزی، پو لیٹکل سائنس،اردو یا اسلامیات وغیر ہ میں نہیں ہو گا HECنے ابھی تک نئے کو رسوں کا نصاب نہیں بنا یا اس لئے نصاب آنے تک کچھ بھی نہیں ہو گا چنانچہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر کلہاڑی کا وار کیا گیا ہے یا ڈرون حملہ ہوا ہے بعض مبصرین نے اس کو HECکا خود کش دھما کہ بھی قرار دیا ہے صو بائی حکومت کا فیصلہ لائق تحسین ہے مگر وفا قی حکومت اس پر عمل در آمد ہونے نہیں دے گی کیونکہ HECآسمانوں پر ہے اور پاکستان کے نو جواں زمین کے مکین ہیں ؎
واں تک بات اپنی پہنچتی نہیں
عا لی رتبہ ہے جناب بہت

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق