fbpx

چترال پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف گھیرا تنگ کر کے کئی منشیات فروشوں کوجیل میں ڈالے گئے ہیں۔ڈی پی او وسیم ریاض

چترال(شہریار بیگ سے) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئیر چترال وسیم ریاض نے کہا ہے کہ چترال کے امن آمان کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گااور کسی کو بھی چترال کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک عوام کا تعاون حاصل نہیں ہوگا پولیس وہ اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جمعرات کے روز پولیس لائن چترال میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر موجود چترال شہر کے عمائیدین نے کھلی کچہری میں عوامی مسائل پیش کیں۔ڈی پی او وسیم ریاض نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چترال پولیس نے منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے کئی منشیات فروش اس وقت جیل میں ڈالے گئے ہیں اور منشیات کے اڈوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے کوئی بھی منشیات فروش قانوں سے بچ نہیں سکتا،منشیات کا عادی شخص معاشر ے پر بوجھ ہوتا ہے جس کا انجام بہت بھیا نک ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ چترال میں کم سن ڈرائیوروں کی ڈرائیونگ اور تیز رفتاری پر ٹریفک پولیس گہری نظر رکھا ہوا ہے۔جو ٹریفک قوانین کے مطابق کام کر رہی ہے اور کسی کو بھی ٹریفک قوانین توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جس کے لئے ٹریفک پولیس کے تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ بازار میں ون وے ٹریفک سے عوام اور ڈرائیورز دونوں مطمن نظر آتے ہیں جس سے حادثات کی روک تھام میں کافی حد تک مدد ملی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی ملک کے کسی بھی حصے میں جا کر قانونی کاروبار کر سکتا ہے جس کو قانون نہیں روک سکتا۔تاہم اگر کوئی تاجرسودی کاروبار میں ملوث پایا گیا تو اُنہیں گرفتار کرکے قانونی کاروائی کی جائے گی۔DPOنے کہا کہ بحیثیت مسلمان فحاشی کا خاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے غیر مقامی بھکاریوں پر پولیس کی نظر ہے۔اُنہوں نے عمائیدین سے کہا کہ کھلی کچہری منعقد کرنے کا مقصد عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور اُن کے مسائل براہ راست سننا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میرے دروازے عوام کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں جس کا جو بھی مسئلہ ہو وہ دفتر آکر یا ٹیلی فون کے زریعے مجھ سے رابطہ کرے۔دریں اثناء DPOوسیم ریاض کی صدارت میں DRCکا اجلاس منعقد ہوا۔جس میں روان سال کے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔اُنہوں نے توقع ظاہر کی کہ DRCممبران فعال کردار ادا کرکے بہت سارے مسائل حل کریں گے جس سے لوگوں کو فائیدہ ہو گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق