fbpx

بچوں کو پولیو کے ہاتھوں عمربھر کی معذوری سے بچانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کوآرڈینیٹر کیپٹن(ر)کامران احمد آفریدی

پشاور(چترال ایکسپریس)ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹر کیپٹن(ر)کامران احمد آفریدی نے کہا ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے ہاتھوں عمربھر کی معذوری سے بچانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااوراس راہ میں تمام تر چیلنجز اور مشکلات کے باوجود حکومت خیبرپختونخوا سے پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے پوری طرح پرعزم ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز ای او سی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف کاوشوں کے نتیجہ میں مثبت پیش رفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال2014ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو کے 238کیس سامنے آئے جبکہ اس کے مقابلے میں رواں سال کے دوران صوبہ میں پولیو کے صرف 41کیس رپورٹ ہوئے ہیں کامران احمد آفریدی نے کہاکہ ان کیسوں کے سامنے آنے میں متعدد عوامل کارفرما رہے جن میں کمزور لازمی ایمونائزیشن، پولیو ویکسینیشن کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈے کے نتیجہ میں والدین کا بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکاراور پولیو قطرے پلائے بغیر بچوں کی جعلی فنگر مارکنگ شامل ہیں انہوں نے کہا کہ انسداد پولیوپروگرام کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈے کی روک تھام اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے کئی ایک اقدامات اُٹھائے ہیں، جعلی ویکسینیشن کے رحجان کے خاتمہ کے لئے پالیسی میں بنیادی تبدیلی متعارف کی گئی اسی طرح صوبہ میں یونین کونسل کی سطح پر انکاراوراس پر اثرانداز ہونے والوں کی نشاندہی اور روک تھام کے لئے کمیونیکیشن سٹریٹیجی میں تبدیلی کی گئی، اس کے ساتھ پولیو کے خاتمہ کے لئے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا کوموثر طور پر بروئے کار لایا گیااور کرائسس کمیونیکیشن منیجمنٹ کے تصور کو متعارف کیا گیاجس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں ای او سی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ اپنے مستقبل کو پولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے کے مقدس فریضہ کی راہ میں دسمبر 2012ء سے اب تک 76پولیو ورکر اور سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے جن میں دو پولیو ورکر اس سال شہید ہوئے ہمارے بہادر پولیو ورکر جان کی دھمکیوں اور دیگر مشکلات کے باوجود اپنے فرض کی ادائیگی میں مگن ہیں یہ پولیو ورکرزہمارے ہیرو ہیں اور ان کی بے مثال قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں انہوں نے کہا کہ پیر26اگست سے صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت صوبے کے 27اضلاع پشاور،چارسدہ،نوشہرہ،صوابی،مردان،بونیر،سوات،شانگلہ، تورغر،ہری پور، مانسہرہ،کوہستان، بٹگرام،خیبر،باجوڑ،مہمند، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، ہنگو، کرک، ٹانک،ڈی آئی خان، کرم،اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی جس کے دوران 46لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے کامران احمد آفریدی نے کہا کہ اس پولیو مہم کے لئے جامع سیکورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے جبکہ بچوں کو پولیو قطرے پلانے کے لئے تربیت یافتہ ہیلتھ روکرز پر مشتمل 16800ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جس میں سے 13ہزار884موبائل ٹیمیں، 1ہزار222فیکسد ٹیمیں، 792ٹرانزٹ اور902رومنگ ٹیمیں شامل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق