fbpx

داد بیداد…..احتساب کو عزت دو

وفاقی کا بینہ کے اجلا س کے بعد صحا فیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اطلا عات و نشریات کے لئے وزیر اعظم کے معاون خصو صی ڈاکٹر فردوس عا شق اعوان نے کہا ہے کہ دیگر اہم امور کے علا وہ اس بات پر بھی غور ہوا کہ کا رو باری طبقے اور سر مایہ کاروں کو احتساب کے خوف سے آزاد کرنے اور افسر شاہی کے اوپر احتساب کی لٹکتی ہوئی تلوار کو ہٹا نے کے لئے نیب کے مو جودہ قوانین میں کس نو عیت کی تر میم کی جائیں تا کہ کاروبار اور سر مایہ کا ری کے لئے بہتر ما حول پیدا ہو اور افسر شاہی کے کام میں خلل نہ آئے یعنی ”احتساب کو عزت دو“ اور نیب کے اوپر بھتہ خوری کا لیبل لگنے نہ دو،وفاقی کا بینہ کا یہ قا بل تعریف اقدام ہے اب جا ئداد خرید نے وا لا بھی خوف زدہ ہے،بیچنے والا بھی خوف کا شکار ہے بینک میں اپنی بچت جمع کرنے والا نیب سے ڈر تا ہے باہر سے دو چار پیسے پا کستان لانے وا لا نیب سے خوف زدہ رہتا ہے، لاکھ،ڈیڑھ لاکھ کے سر کاری بل پر دستخط کرنے وا لاافیسر نیب کے خوف سے فائل کو نہیں کھولتا ملک کے اندر تر قیا تی کام، تعمیرا تی کام اور سر مایہ کی گر دش کا سارا نظام اس لئے رکا ہوا ہے کہ نیب والے ”اپنا حصہ“ لینے کے لئے آجا ئینگے اور 90دنوں کے ریمانڈ پر اندر کرینگے نیب کے موجودہ قوانین نے احتساب کمیشن کے قوانین سے خون کشید کی ہے احتساب کے قوانین سیف الرحمن نے 1992ء میں محترمہ بے نظیر بھٹوکی سیا سی طاقت کو کم کرنے کے لئے بنائے تھے اُن کا ہدف کرپشن نہیں تھا ان کا ہدف محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وقت نے پلٹا کھا یا 2001ء میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی سیا سی طاقت کو ختم کرنے کے لئے احتساب کمیشن کی جگہ نیشنل اکاونٹیبلٹی بیورو (NAB) بنا یا اور نیب کے قوانین میں ایسے نکا ت شامل کئے جو حکمرا ن کو مخا لف پارٹی کے کسی بھی لیڈر کے خلا ف نیب کا استعمال کرنے کی اجا زت دیتے تھے 2002سے لیکر 2008تک نیب قوانین کو مخا لف پارٹی کے سیا ستدانوں کو ڈرا، دھمکاکرحکمران پارٹی میں شامل کرنے کے لئے بے دریغ استعمال کیا گیا یہاں تک کہ مبصرین نے نیب کو لانڈری قرار دیا جس میں داخل ہو کر بد عنوان شخص پاک و صاف ہوجا تا ہے اور ”فرشتوں“ کی جما عت میں صف آرا ہونے کے قابل ہوتا ہے آج بھی نیب پر یہی لیبل لگا ہوا ہے اس لیبل کی وجہ سے احتساب کو انتقام کا نام دیا جا تا ہے اگر 1992ء میں سیف الرحمن اور نواز شریف احتساب کو ذاتی انتقام نہ بنا تے اور بد عنوا نی کا سد باب کرنے میں مخلص ہوتے تو اس مقصد کے لئے انٹی کرپشن کا فعال محکمہ مو جو د تھا اس محکمے کے اندر تجربہ کار اور دیا نت دار افیسروں کی ٹیم کام کرتی تھی آڈٹ کا بے حد محترم اور فعال ادارہ مو جود تھا اسمبلی کی پار لیمانی کمیٹی مو جو د تھی سسٹم کے اندر احتساب کی گنجا ئش تھی احتساب کے ادارے تھے ان اداروں میں دیا نت دار اور تجربہ کار لو گ تھے با ہر سے کسی کو لا نے کی ضرورت نہیں تھی نیا ادارہ بنا نے کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی مگر ایک پرانی حکا یت ہے کہ جنگل کے باد شاہ نے جب دیکھا کہ چیونٹیاں دن رات محنت کر کے خوراک ذخیرہ کرتی ہیں اس کو مر بوط اور بہتر بنا نے کے لئے لال بیگ کو ڈیو ٹی دیدی گئی، لال بیگ نے جھینگر کو ساتھ ملا یا جھینگر نے اُلّو کو بلا یا بڑے بڑے دفاتر بنے چیونٹیوں کو میٹنگوں میں بلا یاگیا الّو نے ہر میٹنگ میں محنت کی عظمت اور خوراک ذخیرہ کرنے کی فضیلت پر بصیرت افروز تقریریں کیں چند سال گزر نے کے بعد پتہ چلا کہ چیو نٹیو ں کا وقت مٹینگوں میں ضا ئع ہوا اُن کا کام دھرے کا دھرا رہ گیا خوراک کے تمام ذخا ئر ختم ہوئے اب چیونٹیوں کی بستی میں قحط کا ما حول ہے جنگل کے باد شاہ نے میٹنگ بلا ئی تو لومڑی نے مشورہ دیا کہ عالی جا ہ! چیو نٹیو ں کی بستی کا نظام ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اس میں لا ل بیگ، جھینگر اور الّو کی مدا خلت نہیں ہو نی چاہئیے تھی چنا نچہ تینوں کو فارغ کر دیا گیا تو چیونٹیاں پہلے کی طرح کا م پر لگ گئیں نیب کو لا ل بیگ، جھینگر اور الّو کی طرح کنسلٹنٹ بننے سے روکنے کے لئے نیب قوا نین میں ترمیم کی بے حد ضرورت ہے یہ ترا میم اب نہیں ہونگی تو کبھی نہیں ہونگی معقول تجویز یہ ہے کہ سیف الرحمن اور جنرل مشرف کے ادوار میں جو کچھ ہواتھا اُس گند کو سامنے رکھ کر نیب کو ختم کرکے انٹی کرپشن،آڈٹ اور پار لیما نی کمیٹی کو دو بارہ فعال کیا جائے اگر نیب میں کام کرنے وا لوں کی نو کریوں کو بچا نا ہے تو نیب قوانین میں ایسی ترا میم کی جائیں کہ احتساب اور بھتہ خوری کا فرق واضح ہو کر سامنے آئے الزام لگا نے وا لا ادارہ اُس وقت تک کسی کو گرفتار نہ کرے جب تک الزام کو عدالت میں ثا بت نہ کرے الزام لگا کر کسی معزز شہری، کاروباری شخصیت،سر مایہ کار یا سر کاری افیسروں کو گرفتار کرنے کاا ختیار نیب کو ”ڈریکولا“ بنا دیتا ہے احتساب اور بھتہ خوری کا فرق ختم ہو جا تا ہے اس لئے کا بینہ کا فیصلہ خو ش آئیند ہے اگر نیب قوانین میں ترامیم کی گئیں تو احتساب کو عزت ملے گی احتساب کرنے والے اداروں کو عزت ملے گی نیز احتساب اور سیا سی انتقام میں فرق بھی نظر آئے گا ؎
ان کا جو کام ہے اہل سیا ست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق