fbpx

موڈی… ایک ولولہ تازہ دیا تونے دلوں کو

…………..(تحریر۔شہزادہ مبشرالملک) shmubashir99@gmail.com

اردو کے ایک مشہور شعر کا حصہ ہے کہ ؎ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔آج کشمیر کے حالات کو دیکھ کر میرا دماغ پھٹنے کے قریب ہے۔اشعار کا ایک نہ تھمنے والا ریلہ ہے جو میرے دل کی دنیا کو برباد کرتا ہوا روان دوان ہے۔
؎ ؎ آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
؎ اگر فردوس بروئے زمین است ہمین است ہمین است ہمین است
؎ غارت گری اہل ستم بھی کوئی دیکھے گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے۔
؎ ہر گل کی جبین پُر شکن ہے کشمیر لُٹا ہو ا چمن ہے پھولوں نے چھپا رکھا ہے ورنہ زخموں سے اٹاہوا بدن ہے
پھلا ہوا ہاتھ برہمن کا اس چاند کا مستقل گہن ہے جلتے ہوئے گھر چھینے ہوے کھیت ہر شخص وطن میں بے وطن ہے۔
ہمارے پاس حسین یادوں، آہوں آرزوں، مایوسیوں، ستم زریفوں اور خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔افغانستان اور کشمیر سے مجھے عشق ہے اور اس کی تلخ یادیں ہی میرے لیے سرمایہ حیات ہیں کوئی بھی رات ایسی نہیں گزری کہ ان دو مقامات کی خبرین سن کر خوشی یا غمی سے میری آنکھوں کے سمندر میں تغیانی نہ آئی ہو۔اگر ان دو مقامات کی خبریں ٹی وی میں سننے کو نہ ملے تو ریڈیو کے پیچھے لپکے وہاں سے بھی مایوسی ہوئی تو دل کی دنیا میں دستک دی کیونکہ…. ؎ دل کے آئینے میں ہے تصویر یار جب ذرا گردن جُھکالی دیکھ لی۔
ستائیس سال پیچھے جاکے دیکھتا ہوں تو یہ دونوں مقامات آتش فشان کا نظارہ پیش کر رہے تھے۔ افغانستان مجاہدین اسلام کے ہاتھوں میں آکے دنیا میں اسلامی طرز حیات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ دنیا بھر کے مجاہد ین مشن کی تکمیل کے بعد… غزوہ ہند… کے لیے پر تول رہے تھے۔ کشمیر کا بچہ بچہ انڈین آرمی کے لیے… بارود کا ڈھیر… بن چکا تھا بس اسے ایک عدد چنگاری کی ضرورت تھی۔ خالصتان کے حریت پسند عقاب … ہندو گدھوں… کو جابجا نوچ رہے تھے۔ ہندوستان کے درجنوں مقامات میں آزادی کا شعلہ… ہل من مزید…. کا ترانہ الاپ رہا تھا۔
کہ ناگہاں قسمت نے پلٹا کھایا،اسلامی، جہادی ویژن رکھنے والوں کو منظر سے ہٹانے کے بعد… پاکستان… میں ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جو عالم اسلام اور پاکستان کی مجبوریوں اور مشکلات کا صحیح ادراک نہیں رکھتے تھے۔یا….روش خیالی… کے چراغ سے دنیا کے حالات کو روشن رکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے بڑے وفود کے تبادلے کیے۔ بڑے بڑے ثقافتی دورے کرائے۔ انسانیت کے نام پر چوراہوں، پریس کلبوں اور پارکوں میں ممبتیاں جلائے، گل دستوں اور ساڑھییوں کے تحائف بھیجے گئے۔مہمان کی خوشی کے خاطر کشمیر ہاوس تک کے بورڈ اکھاڑے گئے۔ امن و آشتی کے نام پر خالصتان کے حریت پسندوں کے لسٹ.. راجوجی… کے حوالے ہوئے۔واجپائی جی کے ساتھ مراسم نبھائے گئے دوستی کے عہد و پیمان ہوئے۔ حضرت مولانا دام برکات ھو ھو ھو کو طویل عرصے تک 55 کڑور کی کشمیر کمیٹی کا چیرمین بناکے… کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ وہی چیر مین نے…. دیوبند… جاکے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو… جہاد… کہنے سے انکار کیا۔
تاریخ نے ایک اور کروٹ لی…. مشرف نام کا ایک کمانڈو یہاں کے سیاہ سفید کے طویل عرصے تک مالک رہے جگہ جگہ وہ…مکا… لہر اتے رہے بعد میں پتہ چلا وہ دوسروں کی بجائے ان سرفروشوں کو مکا دیکھا رہے تھے جو بیس سالوں تک اس کے دست و بازو بن کے… روس… جیسے سپر پاور کو… کھنگال… کرانے کا ذریعہ بنے تھے۔ انہی جہادی گروہوں کو۔ آرمی۔ لیوی، اسکاوٹس، پولیس، خاصہ دار فورس میں بھرتی کرانے کی بجائے عالمی دباو میں آکر نہ صرف ٹیشو پیپرز کی طرح پھینکاگیا۔بلکہ انہیں تہس نہس کیا گیااور عالمی سازش کے تحت ایک بار پھر… روشن خیالی… کے… جن… نے سابق افغان مجاہدین کے بعد…. طالبان… کے اسلامی حکومت کو بھی…نگل… لیا۔ عرب مجاہدین جن کی جذبہ ایمانی اور دولت کی فراوانی کے گواہ افغانستان کے غیور محاہدین ہیں ان سے کھائے ہوئے ہمارے موقع شناس … کھیلاڑی… جن کی تجوریاں آج بھی ڈالرز اورریال کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔
جنرل مشرف… کے بعد پھر وہی… مکا مکا… والی اور…. چھیراپکی… سرکار کی حکومت قائم ہوئی جس نے مشرف کے دلیرانہ اقدام کے طفیل….چاروں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی… کے ڈھیر پہ بیٹھ کر…قوم کو سہارا دینے کی کوشیش کیں اور سخت اقدامات کیے مگر نفرتوں کے دیوار بیج میں حائل ہوچکے تھے۔دشمن اپنا نیٹ ورک مضبوط بناچکا تھا اپنے اور پرائے کی تمیز ختم ہوچکی تھی۔فوج کے لیے کھٹن دن تھے۔ فوج نے ان حالات کا مردانہ وار اوردانش مندانہ مقابلہ کیا…طالبان… کی بے اعتمادی ختم کی اور اندرونی محاذ پر توجہ دی۔ مگر شومی قسمت کشمیر کمیٹی پر پھر حضرت جلوہ افروز ہوئے اور نواز دور کے پانچ سالوں تک بھی… چراغ تلے اندھیرا ہی رہا۔
تبدیلیوں والے سرکار نے بھی…. مدینہ کے ریاست کی طرح جس میں بھولے سے بھی اسلام نظام کی ہوائیں داخل نہ ہوں کشمیر کے مسلہ کو اہمیت نہ دی اور ایک…. جن نما… زلفوں والے سرکار کو وزیر بناکر جسے کشمیر کے پانچ شہروں کے نام اور مسئلہ کشمیر ہے کیا کا اے بی سی بھی معلوم نہیں اور جو روز ٹی وی شوز میں مذاق کا نشانہ بننے کا اعزاز ہی حاصل کرتے ہیں۔یہ ہیں وہ دردناک حقاق جو اختصار کے ساتھ میں نے بیاں کیے۔ اس ملک کے ساتھ کیسے گل دستوں، موم بتیوں، آم، ساڑھیوں، دوستی بسوں، ریلوں کو چلا کر دوستی کی جاسکتی ہے جو لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ہو؟جس کی ستم ظریفوں کے بدولت پاکستان وجود میں آیا ہو؟جس کے ساتھ تین مرتبہ جنگ ہوچکی ہو؟جس کی مکاریوں سے بچنے کے لیے ہم پیٹ کاٹ کے اٹیم بم بنا رہے ہوں؟ جس کے قبضہ میں ہماری شہ رگ ہو؟ جس کے قبضے میں ہمارے پانچ دریاہوں کا ممبا ہو؟جو جب چاہے پانی روک کے ہمیں بنجر بنا دے اور جب چاہے سالابوں میں ڈبو دے؟ایسے مکار دشمن سے دوستی ہوسکتی ہے جس پہ یلغار کی ہمیں… چودہ سو سال… پہلے ہدایت کی گئی ہو؟
ہمارے روشن خیال… نیا فلاحی ریاست یورپ کے طرز پر شاید بنانے میں کامیاب ہوں تو ہوں لیکن… مدینے کی ریاست…. ؎ این خیال است و محال است و جنون کے سوا کچھ نہیں۔ میں بصد احترام مودی جی کا مشکور ہوں جس نے اس سوئے ہوئے قوم کو جگایا۔جسے ستر سالوں سے کوئی نہیں جگا سکا۔اے موڈی جان ایک ولولہ تازہ دیا تو نے دلوں کو تو اگر یہ حرکت نہ کرتا تو کشمیر کا مسئلہ دب چکا تھا۔ جہاد کے شعلے بھجنے والے تھے۔ اپنوں میں دوریاں آچکی تھیں تو نے پھر دلوں کو ملا دیا جو کام بہت دیر سے ہونی تھی تو ہی ہمارے ایجنٹ کا کردار ادا کر کے اس منتشر آبادی کو… قوم… بنانے کا موقع فراہم کیا۔تو نے پھر شیروں کو للکاراتو نے خود اپنے بارڈرز روندنے کی دعوت دی۔
؎ میں اسی قبیلے کا فرد ہوں جو حریف سیل بلا رہا اسے مرگ زار کا خوف کیوں جو کفن بدوش صدا رہا۔
ان حالات میں آرمی چیف کو مزید تین سال کے لیے مہلت دینا وقت کا تقاضا تھا جنرل صاحب ایک زیرک کمانڈر ہیں انہیں چائیے کہ فوری طور پر کالجوں میں جوفوجی تربیت دی جاتی تھی وہ بحال فرمائیں اگر انڈیا کے لاکھوں کی تعداد میں دہشت گرد مختلف تنظیموں کی شکل میں فوج کا ساتھ دے سکتی ہیں تو یہاں پابندی کیوں فوری طور پر جہادی گرپوں کو فعال کیا جائے اور ان کی نارضگیوں کو دور کیا جائے تاکہ مکار دشمن کا مردانہ وار مقابلہ ہو۔ عالمی حالات اور دباؤ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جہادی عناصر کو بھی احتیاط وحکمت سے کام لینا چائے وہ پرانے زمانے کی روش،مست گلانا رنگ، صلاح الدین نانہ ڈھنگ،اظہارانا بھنگ، حافطانہ سنگ مناسب نہیں۔
؎ دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل سن لو کہ یہی وقت کا فرمان جلی ہے
ہم راہ رو دشت و بلا روز ازل سے اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق