fbpx

تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی کمی، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

رپورٹ: کریم اللہ )تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی میں طبی عملے بالخصوص ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا کرنا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہے۔ ہسپتال میں کل ملا کے ڈاکٹرز کے 17 پوسٹیں ہیں جن میں ایم ایس کے علاوہ ایک لیڈی ڈاکٹر اور تین میل ڈاکٹر کام کررہے ہیں جبکہ باقی مانندہ پوسٹ خالی پڑے ہیں۔ ہسپتال کے اندر صبح کے وقت ایک ڈاکٹر ڈیوٹی دیتے ہیں سہہ پہر کو ایک اور ایک ڈاکٹر رات کو ڈیوٹی دیتے ہیں جبکہ لیڈی ڈاکٹر کو بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی میں رہنا پڑ رہا ہے۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ صبح کے اوقات میں ڈیوٹی پر موجود واحد ڈاکٹر 150 سے 200 مریضوں کو چیک کرتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ڈاکٹر تھک جاتے ہیں بلکہ مریضوں کا پراپر معائینہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ خواتین مریضوں کو مشکل پیش آرہی ہے کیونکہ دور دراز سے آنے والے مریضوں کو چیک اپ کے بعد دوبارہ گھروں کو بھی جانا ہوتا ہے اور بارہ بجے کے بعد انہیں گاڑی نہیں ملتی جس کی وجہ سے انہیں بونی میں رشتہ داروں کے ہاں یا ہوٹلوں میں ٹہرنا پڑ رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں صرف ایک سوئیپر موجود ہے جسے بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینا پڑ رہا ہے بصورت دیگر ہسپتال میں گندگی پھیل سکتی ہے۔ ہسپتال کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق دو برس قبل یہاں 11 ڈاکٹرز تعینات تھے جن میں سے غیر مقامی ڈاکٹرز ڈومیسائل کی بنیاد پہ صرف چار ماہ بعد یہاں سے ٹرانسفر ہوگئے جبکہ تین چترالی ڈاکٹر مزید پڑھائی اور کورسز کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر شہری علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی تھی تو ایک آدھ برس قبل کیوں باہر سے اتنی تعداد میں ڈاکٹرز یہاں بھیجے گئے تھے۔۔؟؟ یاد رہے ایک آدھ برس قبل نہ صرف ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد آئی تھیں بلکہ بی ایچ یوز اور ڈسپنسریوں میں بھی ڈاکٹرز تعینات کئے گئے تھے اور اب ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بھی ڈاکٹرز موجود نہیں۔۔۔ عوامی حلقے حکومت وقت سے مطالبہ کررہے ہیں۔ کہ وہ صحت کے انصاف کے خالی خولی دعوں اور وعدہ وعید کی بجائے ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی میں طبی عملے کی کمی کو جلد از جلد پوری کرنے کا بندوبست کریں بصورت دیگر بھر پور تحریک چلائی جائے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Print Friendly, PDF & Emailاس خبر کو پرنٹ میں حاصل کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق