fbpx

دروش ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرز بھیجنے پر ڈی سی،ڈی ایچ او،ایم ایس اور تمام لیڈی ڈاکٹروں کا شکریہ۔قاری جمال عبدالناصر

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جمعیت علماء اسلام چترال کے سینئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں ڈپٹی کمشنر چترال، ڈی ایچ او چترال،ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال اور تمام لیڈی ڈاکٹروں کے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے باہم مشاورت سے عوام دروش کا اہم مسئلہ عارضی طور پر حل کرنے میں کردار اداء کیا۔اگرچہ مستقل بنیادوں پر مسئلے کی حل کی آشد ضرورت ہے تاہم نہ ہونے سے کچھ ہونا بھی بہتر ہے۔اُنہوں نے کہا کہ چترال سے جو لیڈی ڈاکٹر صاحبان ڈیوٹی کے لئے عارضی بنیادوں پر دروش آرہی ہیں وہ اپنے دروش کی خواتین کی تکالیف کے پیش نظر آرہی ہیں ہمیں اس حقیقت کا بھی علم ہے کہ ڈی ایچ او کے زیر کمانڈ ایک لیڈی ڈاکٹر صاحبہ عرصہ تین سالوں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ڈیوٹی دے رہی تھی اُس وقت دروش ہسپتال میں دو لیڈی ڈاکٹر خدمات انجام دے رہی تھی اس وقت درو ش میں مسائل نہیں تھے دروش سے دو لیڈی ڈاکٹروں کو ڈی ایچ کیو ٹرانسفر کرنے کے بعد دروش میں سنگین مسائل پیدا ہوئے۔جب کہ دو لیڈی ڈاکٹروں کی پھر سے مدت ملازمت کم از کم دو سال مکمل ہو نے سے پہلے صرف ایک دن اور دوسرے کو تین مہینے میں تبدیل کیا گیا چونکہ دروش اور چترال ایک ہی علاقے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم علاقائی تعصب پر یقین نہیں رکھتے لیکن دروش کے خواتین کے مسائل کا ادراک بھی ہر ذی شعور پر لازم ہے اگر دروش میں محکمہ کے لئے ٹنشن پیدا ہو جائے تو کیا اس ٹنشن کاخاتمہ محکمہ کے دیگر ذمہ داران پر لازم نہیں ہے ۔اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر نوید احمد، ڈی ایچ او مجیب الرحمان اور ایم ایس ڈاکٹر اکبر شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے عوام دروش کی مشکلات کے پیش نظر وقتی طور پر مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کیا۔قاری جمال نے کہا کہ اگر ہم خود وکیل بن کر بعض قانونی حوالہ جات کاذکر کریں تو اہالیان دروش بھی اپنے اس مطالبے میں حق بجا نب ہوں گے کہ دروش سے جن دو لیڈی ڈاکٹروں کو ڈی ایچ کیو چترال سروس ٹینیور پورا کرنے سے پہلے تبدیل کی گئی ہے واپس دروش تبدیل کی جائے،عارضی ڈیوٹی دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اُنہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو مجاز آفیسر کہاں بھی ڈیوٹی پر بھیجنے کا حق رکھتا ہے اگر ملازم اس عمل کو غیر قانونی تصور کریگا اس سے بڑھ کر اعلیٰ حکام سے اپیل کریگا تین مہینہ میں فیصلہ نہ آنے یا فوری آنے کی صورت میں سروس ٹریبونل میں باقاعدہ مقدمہ دائرکرنے کا حق رکھتا ہے قانونی پیچیدگیوں میں جانے سے قبل ہی ہم اپنے دختران چترال اپنے محسن لیڈی ڈاکٹروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے ملتمس ہیں کہ دروش کے لئے ڈاکٹر آنے تک اپنی ماوں بہنوں بیٹیوں کے تکالیف کے پیش نظر دروش تشریف لاکر ثواب دارین بھی حاصل کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق