fbpx

بے بس آرزو۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاگرام کا پانی پینے کے قابل نہیں۔ایم این اے،ایم پی ایز اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال نوٹس لیں

تحریر:شریف شہیم تورکہو۔۔۔۔

پرندے پھر وہی ہونگے شکاری چال بدلے گا۔۔۔۔مہینے پھر وہی ہونگے سنا ہے سال بدلے گا
وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی غاصب۔۔۔۔بتاؤکتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا
ملک خداداد پاکستان کو وجود میں آئے 71سال گزر چکے ہیں اتنے طویل عرصے میں وطن میں بسنے والے غریب عوام کے حالات نہ بدل سکے۔ملک365خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال عوام بے حال،معاشرہ بدحال ہوتا چلا گیا۔لیکن عوا م انتخابی نعروں پر یقین کرتے چلے گئے کوئی سوشلزم کا خواب دکھاکر عوام کی نیندیں اُڑاتے گئے کوئی اسلامنزم کا نعرہ لگاکر ووٹ حاصل کرتے آئے،کوئی روٹی کپڑا مکان کا وعدہ کرکے اور عہد بھول گئے۔کوئی قائداعظم کے نام پر ووٹ حاصل کرتا رہا اور غریب کا وہی حال،کسی نے نیا پاکستان،خوشحال پاکستان کاوعدہ کرکے عوام کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔وہی حال چترالی عوام کا بھی ہے۔اُنہوں نے کھبی بھی اپنے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں سے یہ سوال نہیں کیا۔کہ آپ الیکشن کے وقت چترال کے غریب عوام کو سہانے خواب دکھاتے تھے۔آج ان سے جینے کا حق بھی چھین رہے ہو۔تورکہو چترال کا بالائی علاقہ اور پسماندہ وادی ہونے کے علاوہ ایک مردم خیز سرزمین کی حیثیت رکھتا ہے۔ریاستی حکمران جو بھی مقرر کیا جاتا وہ اکثر تورکہو کے گورنر مقر رہوکر پھر تخت پر تاج سرسجاتے۔لیکن آج علاقے کی حالت یہ ہے۔2007میں تورکہو روڈ پر کام شروع ہوا۔2019میں بھی اس کی حالت وہی کی وہی ہے۔باقی ماندہ کسر پی ٹی سی ایل کیبل والوں نے پوری کردی۔حکمران نظر نہیں آرہے ہیں۔قطع نظر اسکے کے راقم الحروف کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔بحیثیت پاکستانی نشاندہی اور یاد دہانی مجھ پر فرض اور قرض ہے۔
علاقے کا پینے کا پانی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ناقابل استعمال ہے۔کئی بار متعلقہ ادارے اور انتظامیہ کو بذریعہ فون،درخواست اور بالمشافہ آگاہ کرتے رہے کہ تورکہو کے ہیڈ کوارٹر شاگرام کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔بذریعہ اخبار بھی ان کو یاد دہانی کی کہ پانی کی انسانی زندگی میں کیا مقام ہے۔بچے جلدی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے،کوئی گردوں کے بیمار تو کوئی ہیپاٹائٹس کا رونا رورہا ے۔مقامی آبادی کسی نہ کسی بیماری کا شکا ر ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق علاقہ شاگرام کے پینے کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔تین قسم کی جراثیم سرکاری میڈیکل رپورٹ کے مطابق پانی میں پائیے گئے ہیں۔ہم نے ایم این اے چترال،ایم پی ایز کو بذریعہ ٹیلیفون،ایس ایم ایس،خطوط اور بذات خود اس معاملے کے بارے اُنہیں اگاہ کیا۔مگر ابھی تک وعدہ کرنے کے باوجود سب لاپتہ ہوگئے ہیں۔ایم این اے صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ میں ڈی سی اپر چترال سے رابطہ کرونگا۔ایمرجنسی کے لئے ڈی سی آفس میں رقم موجود ہے۔دو مہینے گذر جانے کے باوجود عوام علاقہ داد رسی کے منتظر ہیں۔موسم سرد ہوتا جارہا ہے۔جہاں سے شاگرام کو پانی آتا ہے25ستمبرکے بعد وہاں برف پڑے گا۔اس وجہ سے وہاں کوئی کام نہیں ہوگا۔علاقہ شاگرام میں اس پانی کو15کے قریب سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی استعمال کررہے ہیں۔لیکن وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔لہذا عوام تورکہو بالخصوص عوام شاگرام ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان سے اس سنگین مسئلے کا فوراً نوٹس لینے کا اور پانی کے اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کامطالبہ کرتی ہیں۔بصورت دیگر علاقے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی تمام تر زمہ داری ایم این اے،ایم پی ایز،ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پبلک ہیلتھ پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق