fbpx

پرنسپل لینگ لینڈ سکول مس کیری چترال کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانے پر تُلی ہوئی ہے۔لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے اساتذہ اور طلبہ کا احتجاج

چترال (محکم الدین) چترال کے معروف درسگاہ دی لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے اساتذہ اور طلبہ نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پُر زور مطالبہ کیا۔ کہ فوری طور پر سکول کی غیر مُلکی پرنسپل کو برطرف کرکے سکول کی ساکھ اور تعلیمی معیار کو بحال رکھا جائے۔ جو کہ وجودہ پرنسپل کی تعیناتی کے بعد بُری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ بدھ کے روز سکول کے اساتذہ اور سینکڑوں طلبا نے سکول سے ڈپٹی کمشنر آفس چترال تک احتجاجی ریلی نکالی۔ اور ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیا۔ اس موقع پر طلبہ نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے۔ جن پر گو کیری گو کے نعرے درج تھے۔ بعد آزان ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال ذاکر حسین جدون نے مظاہرین اساتذہ سے مذاکرات کئے۔ جس پر احتجاجی اساتذہ نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بتایا۔ کہ موجودہ پرنسپل کے آنے کے بعد سکول تعلیمی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا بُری طرح شکار ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے طلبہ کی انرولمنٹ دن بدن گھٹ رہی ہے۔ جبکہ اس سکول کو ضلع چترال کا بہترین سکول ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اور اس کے طلبہ ملک کے اندر اور باہر اعلی عہدوں پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن آج اس سکول کے نتائج انتہائی طور پر مایوس کُن اور افسوناک ہیں۔ اور سکول کی اس تباہ حالی اور تعلیمی انحطاط کی ذمہ دار موجودہ برٹش پرنسپل مس کیری شیفلڈ ہیں۔ اس لئے ہم اپنے سکول کو اس طرح تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کہا۔ کہ سکول کی تعلیمی اور انتظامی پالیسی حکومت پاکستان کی تعلیمی پالیسی، انسانی حقوق اور لیبر قوانیں کے خلاف ہیں۔ سکول کے وسائل طالب علموں اور سکول پر خرچ ہونے کی بجائے صرف پرنسپل پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اور سکول کے طلبہ کو ڈسپلن کے نام پر یرغمال بنایا گیا ہے۔ اور قید خانہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی طلبہ میں نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ اور درس و تدریس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ معاشی بد انتظامی اور بدعنوانی سے صاف نظر آرہا ہے۔ کہ موجودہ پرنسپل چترال کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانے پر تُلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ پرنسپل نے اسٹاف ہاؤس کے نام سے دیڑھ کروڑ کی لاگت سے بلڈنگ بنائی ہے۔ لیکن اُس میں کسی اور ٹیچر کو رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ دیگر کئی مالی بد عنوانیاں موجود ہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ذاکر حسین جدون نے مظاہرین اساتذہ کے مطالبے پر یقین دلایا۔ کہ فوری طور پر سکول کے مالی حسابات کی اڈٹ کی جائے گی۔ تاکہ حقیقت واضح ہو۔ انہوں نے کہا۔ کہ پشاور میں اسی سلسلے میں جمعرات کے دن اہم اجلاس ہو رہا ہے۔ اور ڈی سی چترال اس میٹنگ کیلئے پشاور پہنچ چکے ہیں۔ جہاں اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جاسکے گا اے ڈی سی کی یقین دھانی کے بعد اساتذہ اور طلبہ نے احتجاج ختم کیا۔ درین اثنا چند طالبات اور اساتذہ نے موجود ہ پرنسپل کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔ اور اُن کا کہنا ہے۔ کہ مس کیری کے آنے کے بعد سکول کا ڈسپلن بہتر ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے بعض طلبہ اور اساتذہ اور طلبہ اس کو برداشت نہیں کر پارہے ہیں۔ اس لئے اُن کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ جس کو ہم سپورٹ نہیں کرتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق