fbpx

جب تک ایس ڈی پی او بونی کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز نہیں کیا جاتا ہڑتال جاری رہے گی۔چترال کے وکلاء برادری کی پریس کانفرنس

چترال (محکم الدین) ڈسٹرکٹ بار ایسوی ایشن لوئر چترال، ڈسٹرکٹ بار اپر چترال کے وکلاء کا ایس ڈی پی او بونی کے خلاف احتجاج چھٹے روز بھی جاری رہا۔ جمعرات کے روز بھی تمام وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ اور عدالت سے اتالیق چوک تک ریلی نکالی۔ جہاں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بار کے معزز رکن سیاد برھان شاہ ایڈوکیٹ کو ایس ڈی پی او بونی کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اور حکومت سے فوری طور پر ایس ڈی پی او بونی کو معطل کرکے اُن کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد آزان احتجاجی ریلی پریس کلب تک آیا جہاں صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خورشید حسین مغل، ممبر صوبائی بار کونسل عبد الولی ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ، قاضی سجاد احمد ایڈوکیٹ، غلام مصطفی ایڈوکیٹ،وقاص احمد ایڈوکیٹ وغیرہ نے ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ ایس ڈی پی او بونی چترال میں راؤ انور جیسا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ بار چترال کے ایک سنیئر وکیل سے نہ صرف بد تمیزی کی۔ بلکہ اُسے حراست میں لے کر سنگین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جبکہ اس حوالے سے ڈی پی او چترال سے اُن کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہا۔ کہ اس سلسلے میں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال شریف لوگوں کی جگہ ہے۔ یہاں سزا یافتہ لوگوں کو مقرر کرکے چترال کے ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے۔ اور مذکورہ ایس ڈی پی او کا سابقہ ریکارڈ دوسرے علاقوں میں اچھا نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ایس ڈی پی او کو معطل کیا جائے اور اُن کے خلاف انکوائری کی جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر احتجاج کے باوجود وزیر اعلی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایس ڈی پی او مذکور کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز نہیں کیا جاتا، اُن کی ہڑتال جاری رہے گی۔ احتجاجی وکلاء نے کہا۔ کہ موجودہ حکومت خیبر پختونخوا پولیس کی تعریف کرکے نہیں تھکتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی یہ صوبہ بدترین پولیس گردی کی لپیٹ میں ہے۔ جس کا ثبوت حالیہ واقعہ ہے۔ جو کہ چترال ڈسٹرکٹ بار کے سنیئر رکن سید برھان شاہ کے ساتھ روا رکھا گیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق