fbpx

 ترش و شیرین………سانحہء مولدہ ایون

یہ دس بندوں پر مشتمل محنت کشوں کی ایک جوائنٹ فیملی ہے۔ ان کا گزر بسر محنت مزدوری پر ہوتا ہے۔ والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کی وجہ سے خاندان کی سربراہی بوڑھی والدہ کے ناتواں کندھوں کو مزید ناتواں کئے جا رہی ہے۔ دونوں بیٹوں نے نہ صرف شادیاں کر رکھی ہیں بلکہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بچوں بچیوں سے بھی نوازا ہے۔ بیٹوں میں ایک کا نام شاکر جبکہ دوسرے کو لوگ منظور کہہ کر بلاتے ہیں۔  بچوں میں لڑائی جھگڑے اور ان جھگڑوں کو لے کر بڑوں میں تین پانچ کسی بھی جوائنٹ فیملی کی طرح یہاں بھی چلتا رہتا ہے لیکن بوڑھی والدہ کی موجودگی معاملہ تین پانچ سے آگے  بڑھنے نہیں دیتی۔
یہ یکم اکتوبر کی ایک معتدل شام تھی ۔ ایون میں ستمبر تا اکتوبر کے پہلے عشرے تک کی شامیں ٹھنڈی ہوتی ہیں نہ زیادہ گرم۔  مطلب چادر اوڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی پنکھا چلانے کی۔
 دن بھر دنیا بھر کو روشن رکھنے کا فریضہ للہ فی اللہ  سر انجام دے کر تھکا ماندہ سورج جیسے ہی خراماں خراماں ایون کے مغربی پہاڑوں کے پیچھے آرام کرنے چلا گیا تو دن بھر کے موضوعات پر مذکورہ فیملی کے مرد و خواتین کی “کچن میٹنگ”  کچن میں ہی شروع ہو گئی۔ اتفاق سے یہی وہ دن تھا جب تین کلو والے سلنڈر میں بازار سے تین کلو گیس ٹھونس کر لایا گیا تھا جسے استعمال کی نوبت اگرچہ نہیں آئی تھی تاہم باورچی خانے میں ایک طرف اس سلنڈر کو بھی دھرا گیا تھا۔ اُدھر لکڑی کی آگ میں ہلکی آنچ پر دیگ میں ڈَلے چاول پکنے کے قریب تھے۔  مسجدوں سے اٹھنے والی اذانیں تقریباً خاموش ہو چکی تھیں۔منظور کے محلے کی مسجد میں صفیں سیدھی ہونے کے بعد موذّن کلماتِ اقامت کی ادائی میں، جب کہ باقی لوگ دائیں بائیں دیکھ کر صفیں سیدھی کرنے میں مصروف تھے، ادھر گھر میں بوڑھی والدہ برآمدے پر لگے لکڑی کے تخت پر کر نماز پڑھنے کے لئے نیت باندھ رہی تھی، منظور اور شاکر نامی یہ دونوں بھائی بھی اٹھ کر مسجد جانے کا ارادہ باندھ ہی رہے ہوں گے کہ ایک کان پھاڑ دھماکے کی صدا بلند ہوئی۔دراصل یہ آواز سلنڈر کا دہانہ اُکھڑ کر دباؤ اور تیزی کے ساتھ یکدم اندر موجود تمام گیس کے باہر آنے کی تھی۔ دھماکے کی آواز سن کر امامِ مسجد نے نماز شروع کرنے میں توقف  کرکے صف بستہ مقتدیوں کو صورت حال معلوم کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ باہر نکل کر مقتدیوں نے دیکھا تو مسجد کے قریب اسی منظور اور شاکر کے گھر میں آہ و فغاں برپا ہے۔۔ پلک جھپکنے میں تمام لوگ  وہاں پہنچے تو کہ ایک ہی گھر کے تمام مرد و خواتین اور بچے آگ میں لِپٹے مدد کے لئے ادھر اُدھر دوڑ رہے ہیں ۔ آگ اِن کے کپڑوں کو جلا کر جلد تک پہنچ چکی ہے۔ بہرحال مدد کے لئے پہنچنے والوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ انتہائی پُھرتی کے ساتھ ان کے جسموں پر لگی اگ بجھا کر انہیں مزید آگ میں جلنے اور تڑپنے سے بچانے کے لئے ابتدائی طبی امداد بہم پہنچانے قریبی ہسپتال پہنچا دیا۔ وہاں سے اہل ِ محلہ نے انہیں ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال، پھر وہاں سے مزید علاج کے لیے ایمبولینس کے ذریعے پشاور پہنچا دیا۔ جہاں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں انتہائی نگہداشتی میں ان کا علاج جاری ہے۔ والدہ چونکہ باورچی خانے سے تھوڑے سے فاصلے پر اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھی اس لئے باقیوں سے کم متاثر ہوئی۔ ان کا علاج ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ہی ہوا۔۔والدہ کے علاوہ دو بچے بھی جھلسنے سے مکمل محفوظ رہے یہ دونوں بچے صحن میں کھیلنے سے فارغ ہو کر اس وقت تک کچن کی طرف نہیں آئے تھے۔
زندہ لوگوں کے یوں جلنے کا منظر کتنا تکلیف دہ اور صبر آزما ہوتا ہے اسے الفاظ میں ڈھالنا ممکن نہیں ہے۔ والدین کے سامنے اُن کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے جسموں پر آگ لگی ہو اور والدین خود آگ زدہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے جسموں پر لگی آگ بُجھا نہ پا رہے ہوں ، اُن پر کیا گزری ہو گی؟؟ اس کا تصور کرکے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے سانحات کے بعد ریاست ماں والا اپنا کردار نبھائے۔ ریاست کب تک اشعار اور ناولوں میں ہی ماں جیسی رہے گی؟ عام نہ سہی، کم از کم خاص حالات میں ماں بن کر ایسے متاثرین کو علاج و معالجے اور سانس کے ساتھ رشتہ برقرار رکھنے کی سہولت دینے میں ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ پیچھے بچ جانے والی بوڑھی والدہ اور دو کمسن بچوں کے لئے یہ کسی بھی طور پر ممکن نہیں کہ وہ بُری طرح جلے ہوئے ان سات بندوں (بشمول تین بچوں) کی کفالت و خبر گیری کر سکیں۔
بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ ایسے مواقع پر دل کھول کر متاثرین کی مدد کرنا ہماری ایک مسلّمہ امتیازی وطیرہ رہا ہے۔ جب بھی ایسا موقع آتا ہے تو ہمارے پاکستانی بھائی متاثرین کی مالی و جسمانی مدد بڑھ چڑھ کر اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔  قوی اُمید یہی ہے کہ اس شکستہ فیملی کی بھی دل کھول کر مدد کی جائے گی۔ جھلسنے کے بعد رِیکَوَر ہونے میں کم نہیں، کافی وقت لگتا ہے۔ علاج و معالجہ الگ خرچہ مانگتا ہے۔ تب تک کے لئے یہ پورا کنبہ مخیّرین کے رحم و عنایت پر ہو گا۔
 محلے کے پیشِ امام مولانا نصر اللہ صاحب سے مالی تعاون و دیگر معلومات کے حوالے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق