fbpx

چترال کے معروف شاعر و ادیب افضل اللہ افضل کا کھوار شعری مجموعہ”اوغ اوچے انگار“کی تقریب رونمائی

چترال (محکم الدین) چترال کے معروف شاعر و ادیب افضل اللہ افضل کا کھوار شعری مجموعہ”اوغ اوچے انگار“کی تقریب رونمائی ٹاون ہال چترال میں ہوئی۔چترال کی ممتاز شخصیت پروفیسر اسرار الدین صدر محفل اور پاکستان تحریک انصاف چترال کے صدر عبدالطیف مہمان خصوصی تھے ، سینئر ادیب کرم الہی کرم اور ناصر احمد نے اعزازی مہمان کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی ۔ اس موقع پر تقریب کے منتظم ادیب محبوب الحق حقی، ادیب و شاعر و محقق صالح ولی آزاد، کھوار ادب میں صنف غزل کے مشہور شاعر ذاکر محمد زخمی،مایہ ناز دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کتاب کے حوالے سے اپنے مقالات پڑھے۔ انہوں نے کہا۔ کہ افضل اللہ افضل وہ شاعر ہیں۔ جن کے دل سے شعر نکلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ان کے کلام میں انفرادیت اور حساسیت ہے۔ گو کہ افضل کسی بڑے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہیں ہیں۔ لیکن اُن کے بلند خیالات اور نہایت لطیف احساسات کا اظہار ہر ایک کو متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔ اُنہوں نے کہا۔ کہ کتاب کا نام اوغ او چے انگار (آگ اور پانی) بھی نہایت اچھوتا ہے۔ جو ہمیشہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ لیکن افضل نے اُن کو ایک احاطے کے اندر لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ مختصر عرصے میں افضل اللہ افضل کے دومجموعے منظر عام پر آنا اُن کی انتہائی ادب دوستی اور کھوار ادب پر احسان ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ کھوار زبان کے بعض متروک الفاظ اور ضرب المثل اور روزمرہ و محاورے کو انہوں نے اپنے کلام میں استعمال کیا۔ وہ کھوار ادب کا سرمایہ ہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا۔ کہ ڈھائی سو سال پہلے اتالیق محمد شکور غریب نے کھوار میں غزل گوئی کا آغاز کیا۔ با بافردوس فردوسی، مولانا حبیب اللہ فراق برنسوی نے اس صنف کو خوب ترقی دی۔ اس وقت مقامی زبان میں غزل کو سلوک کہا جاتا تھا۔ جو عشق حقیقی اور عشق مجازی میں محبت و عقیدت کے اظہار کیلئے کہے گئے۔ افضل اللہ افضل کے شعری مجموعے کو پڑھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے۔ کہ کلام کا ہر مصرعہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جگہ گھیرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاعر کا کمال یہ ہے۔ کہ وہ حالات و واقعات کی منظر کشی کرتا ہے۔ اور یہ خوبیاں افضل کی شاعری میں بے پناہ موجود ہیں۔ مقالہ نگاروں نے اتنی خوبصورت کتاب کی اشاعت پر افضل اللہ افضل، صدر انجمن ترقی کہوار اور ناشر کتاب نصر اللہ منصور کی تعریف کی۔ تقریب کے دوران انصار نغمانی نے افضل اللہ افضل کا کلام ترنم سے پیش کیا۔ جبکہ صاحب کتاب افضل اللہ نے خطاب کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں، مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اور تقریب میں شرکت کرکے اُن کی حوصلہ افزائی کرکے سب کی تعریف کی۔ مہمان خصوصی عبد اللطیف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ کہ شاعری اللہ پاک کی طرف سے ودیعت شدہ ہے۔ اور یہ انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ جو لوگ شاعری کو پسند نہیں کرتے، اُن پر رحم کیا جانا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی نے اُنہیں ایک لطیف احساس سے محروم کیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ یہ فخر کامقام ہے۔ کہ چترال کے شعرا انتہائی بلند خیالات کے مالک ہیں۔ اور ہمیں اپنی زبان اور اس کے فروغ اور تحفظ کیلئے کام کرنے والے شعرا و ادباء پر فخر ہے۔ جو شعرو ادب کی زبان میں اس کی بقا کا بیڑا اُ ٹھایا ہے۔ صدر محفل پروفیسر اسرارالدین نے اپنے خطاب میں کہا۔ کہ افضل اللہ افضل کا نہ صرف کلام منفرد ہے بلکہ اس کوپیش کرنے کا انداز بھی بہت مختلف ہے۔ یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ مختصر عرصے میں افضل کی دو کتابیں شائع ہوئیں۔ یہ اُن کی شعرو ادب اور زبان سے عشق ومحبت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا۔ قابل فخر امر یہ ہے۔ کہ ہمارے نوجوان شعراء تصوف اور سلوک کے حوالے سے بھی ایسے شعر کہتے ہیں۔ کہ اُنہیں دیکھ کر ملک کے بلند پایا اور نامی گرامی شعراء کے کلام کا گمان ہوتا ہے۔ پروفیسر اسرارالدین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا۔ کہ باوجود کوششوں کے کہوار لکھائی فروغ نہیں پا رہا۔ جبکہ کھوار شعراء کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہوار کتابوں کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا۔ اور کہا۔ کہ جس طرح شعر و شاعری پرتوجہ دی جارہی ہے۔ نثر پر بھی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے انجمن ترقی کھوار کو ایک ویب سائٹ ڈویلپ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق