fbpx

ارندو کسٹم چیک پوسٹ کی نوٹفیکیشن ہوچکی ہے باقاعدہ کام عنقریب شروع ہوجائے گا۔ کلکٹر کسٹم پشاور احسان علی شاہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) کلکٹر کسٹم پشاور احسان علی شاہ نے کہا ہے۔ کہ ارندو کسٹم چیک پوسٹ کا قیام ارندو اور چترال کی ترقی کا سنگ میل ہے۔ جس کی نوٹیفیکیشن ہو چکی ہے،تاہم باقاعدہ کام عنقریب شروع ہوجائے گا۔ جس سے چترال خصوصاً پسماندہ علاقہ ارندو کو ناقابل یقین کاروباری ترقی ملے گی۔ اور علاقے میں محرومیوں کی جگہ خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ارندو کے مقام پر کسٹم چیک پوسٹ کے قیام کے حوالے سے افتتاحی پروگرام میں لوگوں سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نعیم بُخاری پی آر او کسٹم، تنویر احمد سپرنٹنڈنٹ کسٹم ڈرائی پورٹ پشاور، لفٹننٹ کرنل شرجیل،میجر محمد عثمان، تمیزالدین آئی بی، صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چترال سرتاج احمد خان،سابق صدر چیمبر حاجی محمد خان، رہنما پاکستان تحریک انصاف حاجی سلطان محمد، محمد قاسم،سابق ناظم ارندو شیر محمد کے علاوہ علاقائی عمائدین اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کلکٹر کسٹم نے کہا کہ کسٹم چیک پوسٹ کا قیام لوگوں کیلئے ترقی و خوشحالی کی نوید ہے۔ اور مقامی لوگوں کو چاہیے۔ کہ وہ قانونی طور اپنے کاروبار کو وسعت دے کر اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ ایمپورٹ ایکسپورٹ سے ہی کاروبار کو وسعت ملتی ہے۔ اور اس سے حکومت اور کاروباری لوگوں دونوں کو فوائد ملتے ہیں۔ انہوں نے زرعی پیداوار کے کاروبار سے زیادہ صنعتی کاروبار کو فروغ دینے کی بات کی اور کہا کہ اس سے بے پناہ فوائد ملیں گے۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ کہ آپ نے افغان جنگ اور ملک کے اندر دہشت گردی کی وجہ سے محرومیوں اور مایوسیوں میں وقت گزارا اور کئی قیمتی جانوں کی قربانی دی۔ لیکن آج اُس کا صلہ آپ کو کسٹم چیک پوسٹ کے کھلنے کی صورت میں مل رہا ہے۔ اس سے آپ کے پاس وسائل آئیں گے۔ اور آپ کی زندگی میں ناقابل یقین خوشحالی اور ترقی آئے گی۔ آپ کی تعلیم سے محروم بچے تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔ اور آپ کی زندگی میں انقلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا۔ گو کہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ تاہم عملی کام میں تھوڑا وقت لگے گا۔ کیونکہ کچھ چیزیں جو کسٹم چیک پوسٹ کے قیام کیلئے ضروری ہیں اُن پر کام ہو رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ارندو روڈ کی حالت درست نہیں اس لئے ٹرکوں کو سامان لے کر آنے جانے میں بڑی مشکلات ہوں گی جبکہ بینک کا قیام اور بجلی کا مستقل نظام بھی ضروری ہیں جن پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اور دیگر ضروریات بھی قانون کے مطابق حل کئے جارہے ہیں۔ احسان علی نے کہا کہ ہم نے چترال چیمبر کے صدر سرتاج احمد خان کے جذبے اور چترال کی ترقی کیلئے اُن کے درد کو محسوس کرتے ہوئے کئی اجلاسوں کے بعد یہ قدم اُٹھایا ہے۔ اور یہ چترال کی بہتر مستقبل کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کسٹم ہاؤس کیلئے جگہ درکار ہوگی۔ جبکہ ٹرکوں کی مرمت وغیرہ کیلئے بھی انتظام کرنا پڑے گا۔ جس کیلئے مقامی لوگوں کی معاونت درکار ہوگی۔ کسٹم کلکٹر نے کہا کہ کسٹم چیک پوسٹ میں جو عملے درکار ہوں گے۔ اُن کیلئے مقامی نوجوانوں سے آسامیاں پُر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر صدر چترال چیمبر آف کامرس چترال سرتاج احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے۔ جو چترال اور خصوصا ًعلاقہ ارندو کی ترقی کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ چترال کو اللہ نے پانی اور پہاڑوں میں معدنیات کے وسیع ذخائر دیے ہیں۔ لیکن آج تک اُن سے کوئی فائدہ لیا جا سکا ہے۔ یہی وجہ سے کہ چترال آج بھی پسماندگی کا شکار ہے۔ اس لئےمیں بھر پور اُمید ہے کہ کسٹم چیک پوسٹ کے ذریعے کراس بارڈر ٹریڈ کے مواقع ملیں گے۔ تو علاقے میں خوشحالی آئے گی۔ اور محرومیاں دور ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ پانچ سالوں سے ارندو اور شاہ سلیم میں کسٹم چیک پوسٹ کے قیام کے سلسلے میں کوشش کر رہا تھا اور مجھے خوشی ہے کہ کسٹم حکام اور حکومتی دیگر اداروں نے اس بات کو سنجیدہ لیا اور دونوں مقامات پر کسٹم چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور نوٹیفیکیشن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال چیمبر کی کوشش ہے کہ یہاں ڈرائی پورٹ بنے اور چترال خصوصاًارندو کی قسمت میں تبدیلی آئے اور مجھے یقین ہے کہ بہت کم عرصے میں یہ دوبئی کی طرح کاروباری حب بنے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حاجی سلطان محمد نے اپنے خطاب میں گذشتہ افغان جنگ کی وجہ سے اس علاقے پر بیتنے والے حالات اور علاقے کی معاشی زبون حالی پر تفصیل سے روشی ڈالی اور کہا کہ یہاں کے لوگوں نے افغان جنگ کے دوران کئی مرتبہ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی،اور قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور آج بھی انتہائی مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں مگر اتنی سختیاں جھیلنے کے باوجو د یہ سب سے زیادہ محب وطن اور ان کوملک کی مٹی سے بڑا پیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے 72سال ہو چکے ہیں لیکن ارندو کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حاجی سلطان نے کہا کہ ارندو کسٹم چیک پوسٹ سے جائز کاروبار کو فروغ ملے گا اور علاقے پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ قبل ازین جب کسٹم کلکٹر اور دیگر مہمان ارندو پہنچے تو اُن کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اُنہیں پھولوں کے ہار اور چترالی ٹوپی اور اونی چادر پہنائے گئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق