fbpx

داد بیداد….اسلام آباد کا مو سم

اسلام آباد کا بیرونی مو سم خو شگوار ہے مگر اندرونی مو سم طو طا نوں کی زد میں ہے طو فان ایک نہیں کئی طو فان ہیں جو وفاقی دار لحکومت کی رگوں میں پیو ست ہیں اور اسلام آباد وا لوں کو بے چین و بے قرار کر رہے ہیں ایک طرف مولا نا فضل الرحمن کی طرف سے چلنے وا لی آند ھیاں ہیں اگر چہ آندھیوں میں اتنی سکت نہیں مگر اسلام آباد کے مکین انتظا می بحران کا شکار ہیں اس لئے کسی بڑے طو فان کا خطرہ مو جو د ہے دوسری طرف راولپنڈ ی سے چلنے وا لی ہوا ئیں پہلے کی طرح موا فق نہیں ان ہوا وں کو چوہدری نثار اور شہباز شریف نے خا صا مسموم کیا ہوا ہے اب شیخ رشید پر تکیہ کرنے کی گنجا ئش نہیں رہی تیسری طرف آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے چلنے وا لی ہوا وں میں وہ گرم جو شی نہیں رہی شاید امریکہ کی طرف سے نیا اشا رہ مل گیا چنا نچہ ”نہ وہ غزنوی میں تڑ پ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں“ چنا نچہ اُدھر سے با قاعدہ اشارہ مل چکا ہے کہ ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ یہ چند زمینی حقا ئق ہیں اس ملے جلے مو سم میں آپ وفاقی دارالحکومت کی آب و ہوا کا سر سری جائزہ لیں تو حا لات کسی بڑی تحریک کے لئے مو زوں ہیں لیکن طاہر القادری بھاگ گیا ہے خا دم حسین رضوی نے راستہ بدل لیا ہے مو لا نا فضل الرحمن کی توجہ لو گوں کے اصل مسائل پر نہیں ہے لو گوں کے مسا ئل چار ہیں پہلا مسئلہ مہنگائی ہے، دوسرا مسئلہ بے روز گاری ہے تیسرا مسئلہ سر مایہ کاری کا فقدان ہے اور چوتھا مسئلہ کساد بازاری ہے ان کا ذکر مو لا نا کی زبان پر کبھی نہیں آتا مولا نا جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ آسیہ ملعونہ کا معا ملہ ہے تو ہین رسا لت کا قا نون ہے قا دیا نیوں کی سر پرستی ہے اور عا فیہ صدیقی کی رہا ئی ہے ان چار مسا ئل کا عوام کی روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں ان مسا ئل سے روٹی سستی نہیں ہو گی، بے روز گاری پر کوئی فرق نہیں پڑے گا مہنگائی میں کمی نہیں ہو گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا نعرے بہت خوب صو رت اور جذباتی ہیں لیکن ان نعروں میں عوام کے لئے کوئی ترغیب اور کشش نہیں ہے 5اگست 2019سے پہلے کشمیر کا سودا بھی ایک پر کشش نعرہ تھا مگر 5اگست 2019کے بعد اس میں جان نہیں رہی کھیل کا پا نسہ اُلٹ دیا گیا ”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چُگ گئیں کھیت“ اس نعرے میں اب جان نہیں رہی اگر مو لانا نے معیشت، مہنگا ئی بے روز گاری، نظم نسق کی خرابی اور بیرونی دنیا میں پا کستان کی تنہائی کو نعروں میں ڈھا ل کر عوام کو متحرک کیا تو ان کے آزادی مارچ میں جا ن پیدا ہو جائیگی نان ایشو پر عوام کو متحرک کرنا بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہو گا دوسری اہم بات یہ ہے کہ را ولپنڈی کا مو سم کسی بھی تحریک کو تقویت دیتا ہے یا بے وقعت کر دیتا ہے طا ہر القادری اور خا دم حسین رضوی کے دھر نوں کو راولپنڈی سے چلنے والی ہوائیں راس آیا کر تی تھیں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں را ولپنڈی کی ہو اوں کا رخ جاننے والے پیر پگا ڑا کہا کرتے تھے کہ ابھی ہمارے نئے گھوڑے میدان میں آئینگے اگر مو جودہ حا لات میں راولپنڈی ”ریس کو رس“ کا مو سم نئے گھوڑوں کی آزما ئش کے لئے مو زوں نظر آئے تو مو لا نا کو ”مرغ باد نما“ کے طور پر سامنے لا یا جا سکتا ہے حا لات کا رخ متعین کرنے کے بعد مو لانا کا شکر یہ ادا کرکے نئے گھوڑوں کی آزمائش پر کام کیا جا سکتا ہے اور یہ بعید از قیاس نہیں تیسری بات یہ ہے کہ معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے بین لاقوامی دلا لوں کو ان کا سر مایہ بمعہ سود واپس ملنے کی اُمید ہے یا نہیں؟ اگر دلا لوں کی صورت میں اپنے سر ما یے اور سود کو ”یو ٹر نیات “ کے سمندر میں ڈوبتا ہوا دیکھنا شروع کیا ہے تو وہ بھی حا لات کو تبدیل کرنے کے خوا ہاں ہو نگے تجربہ اس بات کی شہا دت دیتا ہے کہ یہی عوا مل پا کستان، افغا نستان اور میانمر جیسے مما لک میں ہواوں کا رُخ متعین کرتے ہیں ورنہ ہمارے در دیوار پر جا وید اختر کی نظم ”نیا حکم نا مہ“ ہمیشہ اویزاں رہتا ہے
ساری ہوائیں ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں
کہ ان کی سمت کیا ہے؟
ہوا ؤں کو بتا نا یہ بھی ہو گا
چلیں گی جب تو کیا رفتار ہوگی؟
کہ آندھی کی اجا زت اب نہیں ہے
ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں
یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں
حفا ظت ان کی کرنا ہے ضروری
یہ سب جا نتے ہیں
کہ اندھی ہے ان کی پرانی دشمن
نیا حکم نا مہ اگر پورا سن لیا جائے تو ہماری مو جودہ صورت حا ل کی پوری عکا سی کر تا ہے شاعر جس ملک کا بھی ہو، وہ عالمی سچا ئیوں کو سامنے لا تا ہے اس لئے نیا حکم نا مہ ہمارے لئے بھی ہے اسلام آباد کے مو جودہ مو سم کا اس طرح کی صورت حا ل سے گہرا تعلق ہے اب مو لانا کی ہمت پہ منحصر ہے کہ وہ اس مو سم سے کتنا فائدہ اٹھا تے ہیں کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ جو لوگ مولا نا کے ساتھ آزادی مارچ میں شریک نہیں شکار ہاتھ آنے کے بعد ہوائیں ان کو لکڑ بھکڑ کی طرح لا کر جنگل کے باد شاہ کی خد مت میں پیش کریں اور جنگل کا بادشاہ پورا شکار ہی ان کی طرف پھینک دے اس کا دارو مدار سکر پٹ پر ہے اور خد اجانے سکرپٹ میں کیا لکھا ہے؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق