fbpx

دشمن کون ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:تقدیرہ اجمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری حالات میں پاکستان اور عمران خان کی حکومت پر اندرونی اور بیرونی دشمن حملہ آور ہیں۔پاکستانی عوام تماشہ بین اوراہل علم و قلم کئی ٹولیوں میں تقسیم ہیں۔ایسے حالات میں جب عوام خاموش اور اہل علم اغیار کی زبان بولنے لگ جائیں تو ملکی سلامتی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
عمران خان کی حکومت روز اوّل سے ہی مشکلات کے بھنور میں گھوم رہی ہے اور ایک سال گزرنے کے باوجود حکومتی کشتی اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکی۔عمران خان کی حکومتی ٹیم بھڑ بولی، غیر ذمہ دار، ناتجربہ کار اور کافی حدتک بے صبری ہے۔ عمران خان کی پارٹی کا ہر سینیٹر اور پارٹی ورکر اپنے طریقے سے حکومت چلانا چاہتا ہے اور ہر روز عمران خان سے ملکر اسے ہدایات دینا چاہتا ہے۔پارٹی ورکروں اور لیڈروں کا خیال ہے کہ وہ اپنے قائد سے زیادہ عقلمند اور زیرک ہیں۔ عمران خان کی ناکامیوں کی وجہ ان کے مشوروں پر عمل نہ کرنے سے ہے۔
دنیا کی حکومت خدائی حکومت کا نمونہ ہوتی ہے۔جس طرح خدائی حکم سے ساری کائنات کا نظام بغیر کسی رخنے، رکاوٹ کے ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک چلتا رہے گا اسی طرح کسی بھی خطہ زمین پر ایک ہی حکمران کی حکومت ہوتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ خدا کے قوانین اٹل اور دائمی ہیں جبکہ دنیا کے حکمرانوں کو خدا کے قوانین کے تابع طبعی قوانین کے اجراء کی ضرورت رہتی ہے۔ہر خطہ کے انسانوں کی ضرورت کے مطابق قوانین بنائے جاتے ہیں اور پھر وقت کے ساتھ ان میں ردو بدل بھی ہوتا ہے۔قوانین اور عوامی فلاح و بہود کے لیے ضابطے اورمنصوبے معاشرے اور ریاست میں موجود بہترین علمی وعقلی استعداد کھنے والے افراد مل کر بناتے ہیں اور حاکم وقت اپنے حکم سے ان کااجراء کرتا ہے۔
قوانین او رمنصوبہ بندی کسی ایک آدمی کے بس کاروگ نہیں ہوتا۔ قوانین بنانے اور منصوبہ بندی کرنے والے افراد کا تعلق کسی ایک ہی شعبے سے نہیں ہوتابلکہ ہر شعبہ زندگی سے ماہرین کی ایک جماعت ملکر یہ کام کر تی ہے تاکہ عوام کی بہتری اور خوشحالی کے کاموں میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ قوانین مرتب کرنے اور منصوبہ بندی کرنے والی جماعت کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہونے کے علاوہ ایماندار،بے لوث، باجرا ت اور عوام کا دکھ در د رکھنے اور معاشرتی ماحول سے باخبر ہوں۔کسی بھی بے حس اور غیرلچکداررویہ رکھنے والے متکبر،بے رحم اور کینہ پرور شخص کو ایسی ٹیم کا ممبر نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ایسا شخص اس ٹیم کا ممبر یا سر برا ہ ہوگا تو اس کی رائے سے بنا قانون اور منصوبہ کبھی کامیاب نہ ہوگا۔ اجتماعی ذہانت کا اصول تب ہی کار گر ثابت ہوسکتا ہے جب ذہین لوگ ایماندار، محب وطن عوام دوست اور بے لوث ہوں۔کوئی بھی قانون اور منصوبہ تب تک قابل عمل نہیں ہوسکتا جب تک قانون اور منصوبہ سادہ اور مفاد پرستی سے پاک نہ ہو۔
عمران خان کی ایماندار ی،حب الوطنی،عوام دوستی اور اصول پرستی میں کوئی شک نہیں مگر پاکستان جیسے ملک میں ون مین شو کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتا۔عمران خان کی حکومت پٹڑی پر نہ چڑھنے کی بڑی وجہ پارٹی ڈسپلن، اتحادی جماعتوں کا غلبہ اور بلیک میلنگ، بیوروکریسی کی بغاوت اور عدم تعاون، قومی خزانہ لوٹنے والوں پر وقتی پابندیاں، کمیشن خوری کی راہ میں رکاوٹ،بیوروکریسی اور سابق حکمران خاندانوں کے درمیان خاموش معاہدے،پاکستانی میڈیا کا غیر ذمہ دار رویہ اور عمران دشمنی کی آڑ میں ملک دشمنی اور اہل علم و قلم کے حکومتی وظائف پر قد غن ہے۔
دیکھاجائے تو پاکستانی اور بھارتی میڈیا کا مشترکہ حدف عمران خان ہے اور دونوں بیتابی سے عمران خان کے زوال اور حکومت کے خاتمے کے منتظر ہیں۔میڈیا پرسن عمران خان کے بیانات پر تمسخر اڑاتے ہیں اور پھر من پسند خاندانی جمہوریت کے پیادوں کو سامنے بیٹھا کر ملک دشمنی کا کھل کر اظہار کر تے ہیں۔عمران خان کے مشن کشمیر کو روز اوّل سے ہی ہمارے میڈیا نے ناکام قرار دے دیا۔ بہت سے نامور سیاستدانوں، قانون دانوں اورنمائشی لیڈروں نے عمران خان کو ناکام ریاست کا ناکام حکمران قرار دے کر ملک دشمن قوتوں کی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان کو ایک دم توڑ تی، آخر ی ہچکی لیتی ریاست قرار دیا۔
ایک نامور صحافی نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی ہے اور دہشت گردی کے سارے جرائم قبول کر لیے ہیں۔ نامور صحافیوں کی نامور ی کی اپنی کہانی ہے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ ان کی ناموری کے پچھے کتنے بدنام ہاتھ ہیں مگر حیر ت کی بات ہے کہ خود عمران خان کے و زیروں، مشیروں اور پارٹی کے اعلیٰ ذہنوں میں اپنے قائد کادفاع کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
دورہ امریکہ کے دوران عمران خان نے کہا کہ القائدہ کی تر بیت آئی ایس آئی نے کی۔خدا جانے یہ بات کس جاہل نے عمران خان کی زبان پر رکھی مگر عمران خان کا بیان بڑی حدتک درست ہے کہ القائدہ کی بنیاد پاکستان میں ہی رکھی گئی تھی مگر اس کی نوعیت مختلف تھی۔القائدہ کا مقصد دہشت گردی یا ملٹر ی ایکشن نہ تھا بلکہ یوں کہیں کہ القائدہ علم و تحقیق کا سی پیک تھا۔جس طرح سی پیک کو ناکام کرنے کی عالمی سطح پر کوشش ہورہی ہے ویسے ہی القائدہ کو ابتداہی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ تحریک منصوبہ بندی کی سطح سے آگے نہ بڑھ سکی۔القائدہ کا نظریہ پیش کرنے والی شخصیت شیخ عبداللہ عزام پشاور میں اپنے بیٹے سمیت شہید ہوگئے۔ اسامہ بن لادن عرصہ تک منظر سے غائب ہوگیا چونکہ اسکا رول صرف تعمیراتی تھا علمی یا نظریاتی نہ تھا۔جنرل اختر عبدالرحمان اور جنرل ضیاالحق شہید ہوگئے اور دیگر اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے خاموش ہوگئے۔
شیخ عبداللہ عزام عالم اسلام کے عظیم لیڈر، مدبر اور مفکر تھے۔آپ نے افغان جہاد کے دوران عالم اسلام کی یکجہتی اور نشات ثانیہ کو اپنی فکر کا مرکزی نقطہ بنایا اور اسلامی دنیا کے مفکرین اور علماء سے رابطہ قائم کیا۔ آپ کا فکر ی، دینی، علمی اور نظریاتی حلقہ وسیع تھا۔جامع الاظہر، مکہ اور مدینہ یونیورسٹیوں کے طلباء وسکالر آپ کی فکری سوچ سے ہم آہنگ تھے۔اسی طرح افغانستان کے جید علماء اور جہادی کمانڈر ملاں ارسلا خان رحمانی، ملاں نصراللہ منصور، جلال الدین حقانی اور پروفیسر عبدالرب رسول سیاف آپ کی سوچ و فکر کو عملی جامہ پہنانے پر متفق تھے۔پاکستانی علماء میں قاضی حسین احمد مرحوم، مفتی شامزئی مرحوم اور مولا سمیع الحق اور کسی حدتک مولانا فضل الرحمان بھی آپ کی سوچ و فکر کو آگئے بڑھانے اور ایک عظیم اسلامی،علمی اور تحقیقی مرکز کے قیام پر متفق تھے۔
جناب پروفیسر عبدالرب رسول سیاف اس تحریک کے کوارڈینیٹر تھے جنکا کام مختلف مکاتب فکر کے علماء کو ”القائدہ“جیسے عظیم علمی و تحقیقی مرکزکی افادیت اور عالم اسلام میں اس کی ضرورت سے روشناس کر وانا تھا۔شیخ عبداللہ عزام کا خیال تھا کہ مسلمانوں میں فکری اتحاد کا فقدان ہے جسکی بنیادی وجہ سائنسی علوم کو اہل مغر ب کی میراث سمجھ کر ان کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں سے علم کی بھیک مانگنا ہے۔ شیخ کے مطابق عالم اسلام اپنے مادی وسائل سے ایک ایسے علمی، تحقیقی اور فکری ادارے کی بنیاد رکھے جہاں بلا تعصب و بغض ساری دنیا کے،علماء و محققین کے لیے علم کی کشش پیدا کی جائے تاکہ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق علم حاصل کرے اور دنیا سے بغض، حسد اورکینہ پروری کی وباء ختم ہوجائے۔
مسلم دنیا قرآن کریم اور سیرت پاک ﷺ کی روشنی میں ظاہری سائنسی علوم اور روحانی مشائدات پر تحقیق کا عمل شروع کرے اوران علوم کی نسبت سے شیاطین کی پیروی سے ہٹ کر اللہ رحمان ورحیم کی طرف رجوع کریں۔شیخ عزام کا خیال تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب کسی مقام پر اس ادارے کے قیام کو ممکن بنایا جائے اور ابتداء میں صوبہ پختونخو ا میں قائم دینی مدارس کو مالی امداد دے کر طلباء کو دینی علوم کیساتھ جدید علوم سے بھی روشناس کروایا جائے۔
اس ادارے کے قیام کے لیے ہنگواورٹل کے درمیانی علاقے میں جہاں افغان مہاجرین کا کیمپ تھا جگہ تجویز کی گئی جسے جنرل ضیاالحق اور جنرل اختر عبدالرحمان نے منظور کر لیا تھا۔ بن لادن کمپنی نے کئی سو ایکٹر پر مشتمل ”القائدہ“ کے نام سے ایک دینی، فکری، اسلامی تحقیقی، سیاسی ادارہ علمی شہر کی صورت میں تعمیر کرنا تھا جسکے تمام تر اخراجات عرب شیوخ و امرأنے برداشت کرنے تھے۔منصوبے کے مطابق صوبہ پختونخواہ کے مدرسوں میں پہلے سے افغان طلباء کی بڑی تعداد دینی علوم سے وابسطہ تھی جو اردو اور عربی کے علاوہ اپنی مادری زبانیں پشتو، فارسی،ترکی اور کسی حدتک روسی زبانوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔واخی اور بدخشانی مہاجرین چینی زبان جانتے تھے جسکی وجہ سے عرب اور ایشیائی زبانوں کو مزید تر قی دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ضرورت صرف اس امر کی تھی زیر تعلیم بچوں کو انگریزی زبان کی کتابیں پڑھائی جائیں اور بنیادی سائنسی علوم کی تعلیم کا اجراء کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مدارس کو بھاری رقوم دی گئیں مگر بعد میں کسی نے اپنے طور پر بھی کوئی کام نہ کیا۔ ابتدائی منصوبے کے قیام کے بعد افغانستان کے چھ شہروں میں اسی نوعیت کے کیمپس تعمیر کیے جانے تھے جہاں چین سمیت ساری دنیا کے ریسرچ سکالروں کی خدمات حاصل کی جانی تھیں۔
شیخ عبداللہ عزام کا خیال تھا کہ روسو افغان جنگ کے خاتمے پر نئی جنگوں کا آغاز ہوگا جسکا اختتام صدیوں بعد بھی نہ ہوگا۔وہ چاہتے تھے افغانستان کو خونریزی سے بچانے کا واحد راستہ اسے علم وحکمت کا ملک بنا دیا جائے اور ساری دنیا ان علمی مراکز سے فیض حاصل کرے۔شیخ کے سامنے ثمر قند، بخارا،نیشاپور،اور بغداد کے ماڈل موجود تھے۔ شیخ چین کی علمی درسگاہوں سے بھی واقف تھے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو جن ادوار میں علم کی روشنی پھیلی ان ادوار میں دنیا پر امن قائم ہوا۔ اشوک اور اس کے جانشینوں نے بدھ مت کا اجراء کیا اور سب سے پہلے شاردہ پیڈ، شارد ہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔اس یونیورسٹی کا تحقیقی مرکز کنزل وان سر ینگر میں قائم کرنے کے بعد کابل، ہرات، پشاور، شہباز گڑھی، ٹیکسلا،بنارس، پٹہ اور سورت میں یونیورسٹیاں قائم کیں جہاں چین یونان، مصر ایران اور دیگر ملکوں اورریاستوں سے طلباء واساتذہ روحانی اور ظاہری علوم سیکھتے اور اپنے اپنے ملکوں میں جاکر علم کی روشنی پھیلاتے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سچ کہا القائدہ“ کی بنیاد پاکستان میں ہی رکھی گئی تھی۔القائدہ علمی اور فکری سوچ کا دریا تھا جسے دنیا بھر کے انسانوں اور خاص کر مسلمانوں کے بنجر ذہنوں کو سیراب کرنااور علم و حکمت کے باغوں کو ثمر آور کرنا تھا۔
ٹیلی ویژن پر بیٹھے عظیم صحافیوں اور دانشوروں نے جس انداز سے اس سوچ وفکر کا مذاق اڑایا اسے دیکھ اور سن کر دو ستوں اور دشمنوں میں فرق کرنا مشکل ہے۔ظاہر ہے کہ جن مفکروں کا علم انٹر نیٹ اورفیس بک تک محدود ہے وہ مسخر ے پن اور وطن دشمنی کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ہمارے ہاں افغان امور کے ماہرین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر ”القائد ہ“ کی حقیقت جانتے ہوئے بھی اس کی بنیادی سوچ پر بولنے سے معذور ہیں۔حیرت ہے کہ خود پی ٹی آئی جسکا ستر فیصد سے زیادہ حصہ پختونوں پر مشتمل ہے تاریخ سے نا بلد اور تعمیری سوچ سے خالی ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ جاہلیت، بغض،کینہ،اور فتنہ سب سے بڑا دشمن ہے اوریہ دشمن ہرجگہ موجود ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق