fbpx

اے۔کے ایچ۔ایس۔پی کے زیر ِ اہتمام ”ورلڈ منٹیل ہیلتھ ڈے کے سلسلے بونی میں ایک روزہ ورکشاپ۔

بونی(نمائندہ چترال ایکسپریس) آغا خان ہیلتھ سروس آف پاکستانAKHSP،چترال میں صحت کے شعبے میں عرصہ دراز سے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی کی بہتریں کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ نہ صرف صحت کے شعبے میں عملی خدمات سرانجام دے رہی ہے بلکہ مختلف موقعوں کی مناسبت سے آگاہی پروگرام منعقد کر کے لوگوں میں شعور اُجاگر کرنے کی بھر پور مہم میں بھی مصروفِ عمل ہے۔اس سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے 10اکتوبر کو،،ورلڈ منٹیل ہیلتھ ڈے کے مناسبت سے بونی اپر چترال میں ایک شاندار تقریب منعقد کی۔ جس میں شعبہء صحت سے متعلق شخصیات،سکول اور کالج کے پرنسپل،ہیڈ ماسٹرز، مذہبی سکالرز، سول سوسائٹی کے معتبرات و دیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔۔اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی کے سوشل ارگینائزر اور متحرک نوجوان نورالھدیٰ یفتالیؔنے نظامت کی فرائض سر انجام دی۔مقررین میں ناموار معالج ڈاکٹر نثار حسین،سیکالوجسٹ شازیہ خان،ضلعی خطیب اپر چترال مولانا فصیح الرحمٰن، الواعظ سید امین شاہ،صدر لوکل کونسل یوسف حیات،منیجر اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی۔ نصرت جہان اور ایم۔ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر اپر چترال ڈاکٹر فیض الملک شامل تھے۔ تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ریجنل ہیڈ اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی معراج الدین نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ضلع چترال میں اے۔کے ایچ۔ایس۔پی کے خدمات کا مختصر ذکر کرتے ہوے کہا کہ ادارہ حکومتی اشتراک کے ساتھ صحت کے شعبہ میں لوگوں کو سہولیات پہنچانے کے ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے۔منٹیل ہیلتھ ڈے منانے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے معراج الدین نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں نفسیاتی امراض اور خود کُشی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے۔جو کہ نفسیاتی امراض اور اور خود کُشی ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں۔ اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی اور حکومتی ادارے اکیلے اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتے اس لیے سکول،کالج اور سول سوسائٹی کے حضرات معاشرہ میں اس مہلک بیماری اور جان لیوا بیماری کے روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے یہ اگاہی مہم سننے کے حد تک محدود نہ ہو بلکہ اس مہم کو بھر پور انداز میں معاشرہ میں پھلایا جائے تا کہ اس کے مثبت اثرات مرتب ہو۔ڈاکٹر نثار حسین نے نفسیاتی بیماریوں کے اقسام اس کے وجوہات و اسباب اور منفی اثرات پر سائنسی اور میڈیکل سائنس کی بنیاد پر مفصل گفتگو کی۔ اور علاج کے مختلف طریقے،اختیاطی تدبیر کے ساتھ خود کشی کے روک تھام کے سلسلے مختلف تجاویز بھی پیش کی۔
مذہبی سکالر خطیب اپر چترال مولانا فصیح الرحمن نے قران اور احادث کی روشنی میں خود کُشی کے موضوع پر سیرِ حاصل بحث کی اُنہوں نے بچوں کی پرورش اور ماں باپ کی زمہ داریوں پر اسلامی نقطہ نظر سے روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں اولاد کی پرورش میں اسلام نے جو زمہ دریاں والدین پر ڈالی ہیں انہیں قران اور احادث کی روشنی میں دلائل کے ساتھ بیاں کیے اور خود کشی کو اسلام کے اصولوں کے خلاف فعل قرار دی اور اس کی اصل وجہ دین سے بیزاری اور اسلامی احکامات پر عمل پیرا نہ ہونے کا نتیجہ قرار دیا ۔ سئیکاٹرسٹ شازیہ خان نے نفسیاتی بیماری کے وجوہات،علامات اور اثرات پر مختلف زاویوں سے اپنی نقطہ نظر پیش کی۔ اور اس کے تدارک کے لیے مختلف تجاویز پر عمل کرنے پر زور دیا۔الواعظ سید امین شاہ،صدر لوکل کونسل یوسف حیات اور ڈاکٹر فیض الملک نے بھی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کو سیمنار یا سننے کے حد تک محدود کرنے کے بجائے اس اگاہی مہم کو سکولوں،عبادت گاہوں اور کالجوں تک پھیلانے پر زور دئیے۔ تاکہ اس کے مثبت اثرات ہر خاص و عام تک پہنچ سکھے۔ تقریب کے آخر میں منیجر اے۔کے ایچ۔ایس۔پی نصرت جہاں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق