fbpx

گریڈ 17کے پی ایم ایس افیسرعبدالولی خان اسسٹنٹ کمشنر چترال تعینات

چترال (ظہیر الدین سے) گریڈ 17کے پی ایم ایس افیسر عبدالولی خان اسسٹنٹ کمشنر چترال مقرر ہوگئے اس سے پہلے وہ گزشتہ ایک سال سے دروش میں ایڈیشنل اے سی تھے جبکہ اپر دیر میں بھی اسسٹنٹ کمشنر رہ چکے ہیں۔ تورکھو کے تاریخی گاؤں اجنو سے تعلق رکھنے والے عبدالولی خان نے بورڈ آف ریونیو سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیااور ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے پی ایم ایس کیڈر میں اسسٹنٹ کمشنر اپر دیر مقرر ہوئے جبکہ انہوں نے سول سیکرٹریٹ میں ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں بھی سیکشن افیسر کے طور پر خدمات انجام دی۔ عوام کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے اور ان کے مسائل میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کرنے پر اہالیان اپر دیر نے کئی مرتبہ ان کا بطور تحصیلدار ضلعے سے تبادلے کو احتجاج جلسہ جلوسوں کے ذریعے منسوخ کراتے رہے اور وہ ایک دہائی سے ذیادہ اپر دیر میں خدمات انجام دیتے رہے۔پشاور نیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے والے عبدالولی خان ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں اور پشاور میں منعقدہ انجمن ترقی کھوار اور پشاور یونیورسٹی کے چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ادبی محفلوں میں کھوار زبان میں شعرسناکر خوب داد بھی لوٹتے جوکہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ماہنامہ جمہور اسلام کھوار میں بھی شائع ہوتے رہے۔ دوستوں کا ایک وسیع حلقہ رکھنے والے عبدالولی خان دوست احباب میں “چیف” کے نام سے جانے اور پکارے جاتے ہیں اوردوستوں کے حلقے پر مرکزیت کی اجارہ داری اب بھی ان ہی کو حاصل ہے۔1980اور 1990ء کی دو دہائیوں میں عبدالولی خان کو پشاور میں چترالی کمیونٹی انہیں معروف فٹ بالر کے طور پر جانتی ہے جوکہ وزیر اور شاہی باغ میں منعقدہ انٹرا چترال ڈسٹرکٹ فٹ بال ٹورنامنٹوں میں برازیل کے رونالڈو کی طرح مد مقابل ٹیموں کی گول پوسٹ پر گولوں کی بوچھاڑ کرتے تھے۔ عبدالولی خان کی اسسٹنٹ کمشنر چترال کے طور پر پوسٹنگ ان کی محنت اور عوامی خدمت کی بے لوث جذبے کا ثمر ہے جس سیٹ پر صوبہ اور ملک کے مایہ ناز بیوروکریٹ تعینات رہے ہیں جن میں سید مظہرعلی شاہ (موجودہ کالم نویس روزنامہ آج)، میر لائق شاہ، میر سبحا ن الدین، معراج الدین، فدا محمد خان، عبدالوکیل خان، عبدالقدوس، شاہ صاحب، کپٹن جاوید اکبر، افضل لطیف خان قابل ذکر ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق