fbpx

سکول سیاست سے مسیحاءسیاست تک

…………(تحریر۔شہزادہ مبشرالملک) shmubashir@gmail.com ……….
٭وکلاء سیاست
بیس سالوں سے جناب عمران”کھان“ کے بلند و بانگ دعووں کا سن سن کے اور ان کی حمایت میں لکھ لکھ کے اور سادہ لوح پاکستانیوں کو ”امید“ دلا دلا کے ”پی ٹی آئی“ مایوس عوام کے تقدیر کا ”مالک“ بن بیٹھا تھا۔ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ جناب عمران کھان جن ”انڈوں“ پہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ سب کے سب ٹور ہیں۔بقول انور مسعودؔ
؎ نظام برق لیا واپڈا نے جب سے ہاتھوں میں
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
اجکل پورا ملک ”نظام“ کی خرابی کا رونا سن سن کے تنگ آچکا ہے ہر گلی کوچے میں احتجاج، تحریک، دھرنا، دھڑان تختہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں اور لوگ دنیا کی کامیابی کی ”خواب“ سے بد ظن ہوکے ”آخرت“ سنوارنے کے مصمم ارادے کے ساتھ ”مولانا فضل الرحمان“ کی کشتی میں نیاز احمد کا یہ شعر گنگناتے ہوئے سوار ہونے کو ” نجات“ کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
؎ سیر فلک کو ہم کبھی تنہا نہ جائیں گے زہرہ ؔ کے ساتھ جائیں گے یا مشتریؔ کے ساتھ۔
ابھی دنین کے عوام کی ”بمبا سیاست“ کی غم سے فارغ ہی نہیں ہوئے ہیں کہ جمعہ کے دن ہماری دو ”پیشیان“ وکلاء سیاست کی نظر ہوگیں پوچھنے پر پتہ چلا کہ ”بر ہانی“ سیاست اس ”بحرانی“کیفیت کا ذمہ دار ہے۔ وکلاء کے گھونسلے انڈوں سے خالی ہیں۔ بچپن کا دور یاد آیا کہ جناب”اے سی سرکار“ کے دفتر کے باہر ایک ”دھواں اڑاتا ہوا عرضی نویس ہوا کرتا تھا اور ایک سے لے کر نو کے ہندسے تک کے افراد عدلتوں میں نظر آتے وکلاء کرام میں مرحوم ولی رحمان، جناب عبدوالی صاحب جناب صاحب نادر صاحب پرانے وقتوں کی یادوں سے لطف اندوز ہورہے ہوتے۔ اب وکلاء کی اس”ظفر موج“ کے باوجود یہ سناٹا دیکھ کر ایسا لگا کہ سارے ”مدعی، منصٖف، مجرم“ باہم شیر و شاکر ہوگئے ہیں شاید یہ ”ریاست مدینہ“ کی ابتدا ہو۔ بات اگر چہ ہمارے لیے گران تھی لیکن سکون اور اطمینان کی خاطر ہم سب کچھ سہہ کر خراما خراما ایک بات کی تصدیق کے لیے ہسپتال وارد ہوئے۔
٭ مسیحا ء سیاست۔
شب ایک نجی محفل میں سابق ایم پی اے مولانا عبدرحمان صاحب، موجودہ ایم پی ائے مولانا ہدایت اللہ صاحب قرات کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جناب جمال ناصر صاحب ایک اور مہربان مولانا نے ہسپتال کے کچھ ”فوٹوز“ ہمیں دیکھائے تھے کہ عین او پی ڈی ٹائم میں ہسپتال سنسان و ویران ہے۔ اس حیرت کو مزید جلا بخشنے کے لیے ہم بھی مختلف وارڈوں، ایمرجنسی اور صاحبان ”امراضیات“ کے کمروں میں ” سینگھ گھوسائے“ چہار سو ہسپتال میں سناٹا ہمیں نظر آیا مجھے ڈر سا لگا کہ ہم کہیں ہم غلطی سے ”بیر موغ لشٹ“ کے قلعے میں تو نہیں آئے ہیں کہیں آسیب ہی ہمیں نہ لگ جائیں ڈر کے مارے میں عمران کے ہاتھ تھامے تو اس نے دعا دی کہ اے اللہ ”ڈاکتروں“ کو اور بڑا آدمی بنا دے کہ انہوں نے دو ہفتوں سے چترال کے کمزور، لاچار، شریف، عوام کو مختلف امراض اور جراثیموں سے محفوظ رکھا… اے اللہ اگر تو انہیں تو فیق نہ دیتا تو دو روپے کے اسپرین کے لیے تڑپنے والی یہ مخلوق جسے ”دس نمبری“ دوائی بھی زہر کہہ کر ”شاپر بھر“ کر بھی کھیلایا جائے تو شرافت کے ” آنسو“ کے ساتھ پی جانے میں ”تابعدار شوہر“ کی طرح دیر نہیں لگاتا۔یا اللہ تو ”داکتروں“ کو اور طویل احتجاج کی توقیق دئے تاکہ 80% سیلانی مریض کسی حکیم، پری خان، عامل کے ”رزق حلال“ کا بھی ذریعہ بن سکیں۔اس طرح گزشتہ شب کی ویڈیو زا ور فوٹوز کی تصدیق کے بعد ہم لوگ باہر نکلے تو
؎ میں ایک دریا کے پار اترا تو دیکھا منیرؔ ایک اور دریا کا سامنا تھا مجھ کو
٭ سکول سیاست۔
ہمارے محترم دوست جناب شاہ سیف اللہ صاحب نے فرمایا کہ ”سیورج سکول“ کے ٹیچرز پر س کلب میں ایم این اے صاحب کے ساتھ موجود ہیں ہم لوگ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ہم نے احتراماً ہاتھ سینے پہ رکھتے ہوئے فاخرؔ کا یہ شعر گا کر پر س کلب میں داخل ہوئے۔
؎ دیکھ کر دوزخ میں اپنے پیر کو احتراما ہم بھی داخل ہوگئے
سکول گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے اساتذہ بچوں کو آنے کا کہہ رہے ہیں اور میس کیری کے آرڈر ہیں کہ سکول کے دروازئے بند ہیں۔ ایسالگ رہا ہے کہ کہ ”جنگ بازار“ ”دولومچ“ میں کر فیو کا نفاذ ہوچکا ہے ہم اور ہمارے بچے چترال کی جنت نظیر وادی میں موجود نہیں بلکہ کشمیر کی دوذخ نظیر وادی میں موجود ہیں بچوں کے مسقتبل کو ” آگ “ لگا دی گئی ہے۔ ہم والدین تیس روپے کے جراب کو اسی پر ٖفروخت کر نے۔ دو سو کے جرسی کو پانچ سو کر نے، ایک جوڑے کی بجائے تین جوڑے تھمانے، بازار کے بوٹ پر پابندی لگا کر ننگے پیر بچوں کو سکول بھیجنے پر مجبور ہونے کے باوجود ایڈونس میں فیس دے کر بھی لیٹ فیس بھرنے کے باوجود بھی صرف اس لیے خاموش ہیں کہ بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہوجائے اور چترال کا ایک بڑا سکول ”ٹوٹ پھوٹ“ کا شکار نہ ہو۔ مگر اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی جناب ڈی سی صاحب کا خاموش تماشائی بننا نہایت ہی حیران بلکہ پرشان کن عمل ہے۔ ہمیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ کون پرنسپل ہوتا ہے یا ہوتی ہے لیکن جو بھی ہو وہ سکول کی بہتری کے ساتھ طالب علم کی بہترین تربیت اور اسٹاف کے ساتھ چترالی روایات اوراقدار کے ساتھ پیش آئے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ فیمل ٹیچرز کو ایف ائی ار کی دھمکیاں دی جائیں اور فون کر کے انہیں ڈرایا جائے اور عوامی نمائیدگان اس مسلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے ٹیچرز اور والدین کے ہمراہ ڈی سی ہاوس جائیں اور صاحب ان سے ملاقات کی زحمت بھی گوار نہ کریں۔ یورپ میں ٹیچرز کے سائے کے اوپر گزرنے کو بے ادبی سمجھنے والی قوم کی نمائیدہ ”چترال“ کی با پردہ خواتین ٹیچرز کو پرس کلب اور بازاروں میں گماتی رہیں۔ اگر معاشرئے میں ٹیچرزکی یہی عزت رہی تو کلاس میں اسٹوڈنٹس کے سامنے ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔ جناب ڈی سی صاحب، کمشنر مالاکنڈ، گورنر کے پی کے اور کے پی کے کے وسیم اکرام کے ساتھ ساتھ چترال کے مقتدر قوتوں کو بھی اس جانب توجہ دے کر اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم کروانے چائیے اور اگر کہیں کرپشن ہوئی ہے اس کی مناسب تحقیقات کروانی چاہیے اور اس بھڑکتی ہوئی”چنگاری“ کو ہوا دینے والوں کو بھی روک کر بھر وقت مسلے کا ”احسن حل“ نکال کر چترال کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق