fbpx

دھڑکنوں کی زبان…ہائی ٹیلی نار وائی ٹیلی نار

دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف کمپنیاں کا م کرتی ہیں اور اپنی کار کردگی کی وجہ سے معیار بناتی ہیں۔دنیا میں ان کی شہرت ہوتی ہے۔ان کی بنائی ہوئی چیزوں کی مانگ بڑھتی ہے۔۔ان کے کام کی مثال دی جاتی ہے۔مگر ہمارے ہاں یہ منظر نامہ یکسر مختلف ہے۔کوئی کمپنی کام شروع کرتی ہے پہلا ایک مہینہ وہ جان کھپاتی ہے۔اپنا تعارف کراتی ہے۔پھر اس کامنقل،غیرمعیاری اور کوالٹی میں نیچے آتے آتے دس نمبر تک آجاتی ہے۔اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔اس پر کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اس پہ مستہزاد یہ کہ اس کا پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔اشیائے خوردونوش تک کمپنیاں زہر بناتی ہیں اور زہر بھیجتی ہیں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتی ہیں ان کو کوئی نہیں پوچھتا۔ان کمپنیوں کی کارستانیاں سہنے والے غریب عوا م ہیں۔۔بڑے بڑوں کا معاملہ ہی کچھ اور ہے۔آج کا دور میڈیا کا دور ہے۔ٹیلی فون کی مختلف کمپنیاں ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کام کرتی ہیں اور آئے روز اپنے نیٹ ور ک میں بہتری لاتی ہیں مگر ٹیلی نار جس نے ملک کے پسماند ہ ترین علاقوں میں بھی اپنے بوسٹر لگا کر خدمت کاایک کار نمایان انجام دیا تھا۔۔ساراپسماندہ طبقہ اس کو دعائیں دے رہا تھا۔لیکن آہستہ آہستہ اس کمپنی کا معیار بھی حسب روایت کمزور ہو تا جارہا ہے۔اس کا نیٹ ورک تھری جی فور جی تک گیا ہے مگر نیٹ ورک سفر ہے۔صارفین حیران وپریشان ہیں۔ نیٹ کیفیاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔پیکچیز اور چارجز میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔شکایات پر کوئی کان نہیں دھرتا۔کم از کم کمپنی کے پاس ٹیکنیکل افراد ہونے چاہیے۔خرابی کاپتہ لگا کر اس کودرست کرنے سے لوگوں کوسروس مل جائے گی۔۔عوا م خوش،خدا خوش،سہولیات کی فراوانی۔۔کیا خیال ہے کمپنی کی سرخروئی نہیں ہوگی۔اب جو دعاٹیلی نار کمپنی کو مل رہی تھی۔جو شاباشی ان دلیر جوانوں کے حصے میں آتی تھی کہ وہ پسماندہ علاقوں کے دور دراز پہاڑوں میں برف میں،آندھی میں،طوفان میں جان ہتھیلی پہ رکھ بے مثال خدمات انجام دے رہے تھے ان کی خدمات بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔سروس ناقص ہے اس لیے زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔شکایت کس سے کریں۔پوچھنے پر ذمہ دار کہتے ہیں کہ ماہریں آہی گئے ہیں۔خرابیاں دور ہونے کوہیں۔سروس ٹھیک ہونے کوہے۔اس انتظار میں زندگی کی صبحیں اور شامیں گزرتی ہیں۔اگر پہلے سے یہ سروس نہ ہوتی تب ٹھیک تھا۔ایک دفعہ سروس ملی پھر مایو سی میں زندگی بہت مشکل میں گزرتی ہے۔چترال میں ٹیلی نار اپنی سروس کھوتی جا رہی ہے۔ممکن ہے ایک دن بند ہی ہوجائے اور ٹیلی نار کمپنی خواب بن جائے۔یہ آواز کس طرح اس کے ذمہ داروں تک پہنچے۔۔یہ دھائی کو ن سنے اس پرکون کان دھرے۔ہم عوام مجبورو بے بس کیوں ہیں یہ ہماری بد قسمتی ہے۔ہم کسی سے کیا شکوہ کریں۔ہماری چیخ پہ کوئی کان نہیں دھرتا ہمارے شکووں کاکیا اثر ہو گا۔البتہ ٹیلی نار کے صارفین جہان بڑے شوق سے ٹیلی نار سم لیتے اور دوسروں سے پکار پکار کے کہتے ”ٹیلی نار سم“ لے لو۔۔آج کتراتے ہیں خاموش ہیں بلکہ سوشل میڈیا میں یوں پڑھنے کو تبصرے ملتے ہیں۔۔کہ میں نے مجبوراً اپنا ٹیلی نار سم تبدیل کیا۔یہ کسی کمپنی کے لیے بری بات ہے اور اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔البتہ امید قوی ہے کہ ٹیلی نار کمپنی اپنی کار کردگی پر غور کرے گی اور اپنی بے مثال سروس پر کسی کو اعتراض کرنے نہیں دے گی۔آج کادور مقابلے کا دور ہے بہت ممکن ہے جلد یا بدیر کوئی دوسری کمپنی آئے گی بہترین سروس دے گی۔اور عوام کا رجحان اس طرف ہوجائے۔یہ اگر چہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن خدمت کی بندش ناکامی کہلاتی ہے۔۔ہم ٹیلی نار کے ذمہ داروں سے گزارش کرتے ہیں کہ عوام کی دعائیں لیا کریں ان مایوس نہ کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق