fbpx

دیوانوں کی باتیں ——-( یہ گدھےآخر ہیں کون ؟ )

…………..شمس الحق قمر ؔ……

لکھنا  عجیب  سرگرمی ہے  کبھی بیٹھے بیٹھے آمد پہ آمد ہوتی لیکن کم دستیِ وقت آڑے آتی ہے اورخیال گزر جاتا ہے اور پلٹ کر کبھی نہیں آتا اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کرنے کو کچھ نہیں ہوتا وقت گزاری کےلئے آورد کا سہارا لیا جاتا ہے پھر بھی بے سود ۔اب ایک خیال آرہا ہے۔ کوشش کرتاہوں کہ پکڑ پاؤں۔

 مہینہ پہلے چترال جانا ہوا تو چلتے چلتے خیال آیا کہ یہ جو گدھے  ہوتے ہیں ، یہ گدھے کیوں بنے ہیں، کیسے بنے ہیں ، کس نے بنایا ہے وغیرہ وغیرہ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھرمیرے ذہن میں یہ خیال کیوں آیا ، کیسے آیا اور کہاں آیا وہ ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں لیکن ایک منٹ کی توقف کے بعد —-یوں تو آپ نے بھی دیکھا ہوگااورپُرانے لوگوں کو تو بخوبی علم ہے کہ ہمارے زمانے میں گدھے یعنی اصلی گدھےبہت ہوا کرتے تھے ۔اگرچہ گدھوں کی کمی آج بھی نہیں ہے تاہم اصل کی نسل نایاب بلکہ معدوم ہوتی جا رہی ہے – جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اُس زمانے میں ہر گھر میں کم ازکم ایک گدھے کا وجود ضروری تھا- گھر ہستی کے تمام کارو بیگارکی بھاری زمہ داریاں اسی کے شانوں پر ہوا کرتی تھیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس جانور کا جذبہ ٔ خدمتِ خلق اُس کی اصول پسندی ،ایمانداری ،عاجزی و انکساری ، تابعداری اورہمیشہ جھکے رہنے سے حضرت انسان نے اُسےگونگے بھائی کے لقب سے  بھی نوازا ہے( اس سے یہ جاننے میں دِقت قطعی طور پرنہیں ہوگی کہ ہمارے معاشرے میں گونگے بھائی کی کتنی قدرومنزلت ہے) ۔گدھے کی سادگی، مروّت وملنساری اورمستقل مزاجی کے ساتھ سخت کوشیپر رشک آنے لگتا ہے کہ کاش ایسی اعلیٰ ظرفی اوراپنے جد امجد کے وضع کردہ اخلاقی اقدارکی پاسداری کی تعلیم  باقیوں کو بھی حاصل ہوتی۔  اس نازکی پہ کون نہ مر جائے کہ  جناب عالی کا سرِتسلیم  ہمیشہ خم ، کسی سے کوئی عداوت نہ بعض و کینہ – بس شب و روز تعمیل ارشاد ِ مالک میں ہمہ تن گوش۔ہم اُن تمام  گدھوں کو اُن کی اعلیٰ ظرفی پر دل کھول کر خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جو نہ صرف اپنے خود ساختہ مالک کے ظلم و ستم برداشت کرتے ہیں بلکہ بلا عوض ہر کام کے لیے مستعد بھی رہتے  ہیں ۔ یہ رضا کارانہ کام کی وہ انوکھی مثال ہے جو کہ دنیا میں خال خال ملتی ہے ۔گدھے کی سب سے بڑی خوبی ان کا مثالی ضابطہ حیات ہے۔ یہ اپنی زندگی میں پہلی بارجس راستے سے چلا ہو ،قطع نظراس کے کہ راستہ دشوار ہو یا ہموار، اُسی ایک راستے کو عقیدے کی حد تک تسلیم کرلیتا ہےاوراُسی کو صراط المستقیم سمجھ کے تاحیات اُسی مشق کو جاری رکھتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں گدھوں کی اس شاندار روایت کو اپنے کام  کے ساتھ عشق کہا جائے تو بھی بے جا نہیں ہوگا کیوں کہ عشق اندھا ہوتا ہےعشق کا  کام ایک مرتبہ چل پڑے تو چلتے رہنا ہوتا ہے ۔ یہاں تو حد یہ ہے کہ گدھا بیمار ہو یا تندرست ، نر ہو یا مادہ ،جوان ہو یا بوڑھا ،مرے گا لیکن اپنے زمے تفویض شدہ کام کو بھولے سے بھی نہیں بھول پائےگا۔ مزید یہ کہ امن ہو یا جنگ ، غم ہو یاخوشی اس مخلوق کا ایسی ویسی دنیا داری کے کاموں سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا، بس اپنے کام سے کام رکتھی ہے ، بہ الفاظ دیگر یہ صاحب غلطی سے بھی سوچنےکی زحمت گوارا نہیں کرتا ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ان کی سرشت میں شا مل ہے ، مالک کا خوف ہے یا بتائے ہوئے راستے پراندھا یقین واعتماد ۔ موصوف کو اگر کوئی منتخب شدہ راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے تو وہ اور بھی اکڑتا ہے اور اتنا اکڑ پن دکھاتا ہےکہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاتاجسے کھوارزبان میں (گوردوغو ترچ  دیک یا گوردوغو پَتَڑ دیک) کہتے ہیں آپ جتنا راہ راست پر لانے کی کوشش کرو گے وہ اتنا  اکڑ پن دکھائے گا مجال کیا کہ کوئی مائی کا لال اُسے زرہ برابر بھی ہلا سکے ۔ یہی ہے اُن کی مستقل مزاجی جس پر ہم مرتے ہیں ۔ حالیؔ نے ایسی یکتائی پر کیا خوب خیال ااُبھارا ہے کہ ؎

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور    عالم میں تجھ سالاکھ سہی تو مگر کہاں

گدھوں کی وفاداری پر جان قربان لیکن ایک فعل ، سب گدھوں کا نہیں بلکہ چند گدھوں کا ، ہمارے مطابق دخل درمعقولات ہے اور وہ ہے اُن کا بے ہنگم ہنیگنا اور باربار ہینگنا ۔ ان کی سماع خراش آواز دن کے وقت تو برداشت ہوتی ہے لیکن صبح  پڑوسیوں کو بھی جب دعوت مجلس دیتے ہیں توبرسوں کے مردے بھی سر بہ کفن جاگ اُٹھتے ہیں۔آخرکون سمجھا دے کہ اتنی اونچی آواز سے جو آپ صبح سویرے پورا پورا پھٹے جا رہے ہو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ بہرحال  یہ میرا خیالِ خام ہے گدھے تو گدھے ہی ہوتے ہیں اور گدھے ہی رہیں گے (چاہے  نقلی ہو یا اصلی)

            اب قصہ یہ ہے کہ میں گلگت سے چترال جا رہا تھا تو لنگر نامی ایک جہگے پر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہی آدمی وہ بھی نحیف و نزارجسمانی صحت سے بے نیاز کئی ایک  گدھوں پرایندھن والی گھاس( غلواہت , جوکہ سرد علاقوں کے لوگ ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ گلگت کے برست اور چترال کے بروغیل میں یہ گھاس پائی جاتی ہے جسے مٹی کے ساتھ اُکھاڑ کر سکھانے کے بعد سردیوں میں انگیٹھی میں جلائی جاتی ہے ) لاد کے بھاری بھر کم قد کاٹھ کے موٹے اور ہٹے کٹے گدھوں کو ہانکے اُنہیں نامعلوم  منزل کی طرف لیے جا رہا ہے ۔ اور یہ ہیں کہ کان لٹکائے  حسب معمول انتہائی مؤدبانہ انداز سے اُسی  ایک  آدمی کے حکم سے رو بہ سفر ہیں ۔ میں سوچتا رہا کہ آخر یہ گدھے پلٹ کر پوچھتے کیوں نہیں ہیں  کہ تم کون ہو اور ہم  رشتے میں تمہارے کیا لگتے ہیں ؟  تہمارے کہنے  پر ہم کیوں مسلسل چلے  جا رہے ہیں؟  اور یہ بوجھ جو تم نے ہماری پیٹھ پر لاد رکھا ہے یہ کس کھاتے کا ہے ؟ پھر مجھے خیال آیا کہ میں غلط ہوں یہ تو  گدھے ہیں اور یہی ان کا کام ہے  اُنہیں سوال کرنے کا حق نہیں ہے لیکن اپنے اس خیال پر میں یک طرفہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ  کیا واقعی اُنہیں سوال کرنے کا حق نہیں ہے یا ہے ؟ بہر حال میری گاڑی چلتی رہی اورراستے میں کئی ایک اُسی قبیل کےجانورنظر آئے ۔ لیکن وہ گدھے جنہیں میں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل چکا تھا ، کی محنت و مشقت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اُنہیں ” دنیا آخرت کی کھیتی ہے ” کے فلسفے پر خوب عبور حاصل تھا ۔ اوریہ اس پر عمل کئے جا رہے تھے ۔ مالک کی تابعداری جو لازم تھی ۔یہ جگہ جہاں سے میں گزر رہا تھا  انڈیا یا افریقہ کے اُن صحراؤں کی طرح کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔  جہاں جنگلی  حیات زندگی کو زندگی کے  نمط میں گزاررہی ہوتی ہے۔  جہاں ہر جانور کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ہوتا ہے ،  بالکل آزاد ماحول میں اپنی مرضی سے  کھاتے پیتے،  سوتے جاگتے ،اچھلتے کودتے اورچوکڑیاں بھرتے پھرتے رہتے ہیں۔ خصوصی طور پر جنگلی گدھے جو خوب سیر ہو کر کھانے کے بعد  دوڑتے اوراچھلتے اپنی زندگی سے لطف آٹھاتے رہتے ہیں۔ اُن کے ہاں اچھل کود، مستی ، قہقہے  اور آزاد زندگی ہی زندگی کا اصول ہے، وہ کسی اورکے وضع کردہ اصول کو زندگی کا اصول نہیں سمجھتے البتہ  فطرت کے مطابق زندگی گزرانے کو زندگی کا اصول سممجھ کر جیئے جارہے ہیں ۔ پچھلے دنوں ٹیلی وژن پر ایک ایسے ہی مست  جنگلی گدھے کو دیکھ  کر سوچنے لگا کہ اگر ہمارے گدھوں کو پتہ چلے کہ دنیا میں ایسی جگہے بھی ہیں جہاں اپنی سوچ کے مطابق جینے پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ تو مجھے یقین ہے کہ یہ بات ہمارے گدھوں کو بھونڈی معلوم ہوگی اور وہ میری جان کے درپے ہوں گے ۔

سوال جو میرے  ذہن سے بار بار ٹکراتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر کونسے گدھے درست خطوط پرزندگی گزاررہے ہیں ، وہ جو ہمارے گدھے یا وہ جو آزاد گھومتے ہیں ؟ یہ سوچتے سوچتے میں شندورعبورکرنے والا ہی تھا کہ اقبال کے ایک شعر سے گھتی سلجھ گئی ۔

؎   یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری

جہاں بازوں سمٹتے ہیں وہاں صیاد ہوتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق