fbpx

دھڑکنوں کی زبان… ماہرنفسیات ڈاکٹرعمران بمبوریت میں

جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے مسائل ہمارے ہاں عام ہوتے جا رہے ہیں۔جسمانی صحت کے باقاعدہ علاج کے لئے بہت کوششیں ہوتی ہیں مگر ذہنی صحت کو پہلے اہمیت نہیں دیتے شروع شروع میں اس کو اہمیت نہیں دی جاتی۔بچہ آہستہ آہستہ اس حالت تک پہنچتا ہے کہ ناکارہ ہو جاتا ہے اس کی وجوہات نہ جاننے کی کوشش کی جاتی نہ محسوس کیا جاتا ہے بات ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔پھر یہ لوگ معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔آج کل پوری دنیا میں ذہنی صحت کے مسائل ہیں۔خود کشیاں ہو رہی ہیں۔بے چینیاں بڑھ رہی ہیں۔گھر خاندان تک متاثر ہو رہے ہیں۔بظاہر انسان کو ساری سہولیات میسر ہیں مگر اس کو سکون نہیں وہ سکون کی تلاش میں ہے۔باہر ملکوں میں باقاعدہ ماہریں نفسیات کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔اداروں میں ماہریں نفسیات کی خدمات حاصل ہیں۔مگر ہمارے ملک میں بقول ڈاکٹر عمران بائیس کروڑ آبادی کے لئے ۰۰۴ ماہریں نفسیات موجود ہیں۔چترال اس لحاظ سے بہت متاثر علاقہ ہے۔شماریات کے مطابق ساڑھے چار لاکھ آبادی میں تقریبا ًسالانہ تیس بندے خود کشی کرتے ہیں مگر چند سالوں سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔اور سالانہ بیالیس کی تعداد میں خود کشیاں ہو رہی ہیں۔اس سال عالمی یوم ذہنی صحت کے موقع پر ”پاکستان سائیکاٹرک“ سوسائیٹی کے ذمہ داراں ڈاکٹر عمران اور اس کی ٹیم پشاور سے اور ڈاکٹر اکبر صاحب دیر سے ایک ٹیم کی صورت میں چترال تشریف لائے تھے۔اُنہوں نے چترال شہر میں کیمپ لگائے اور سیر کے لئے کلاش ویلی بمبوریت تشریف لائے۔شام کے وقت چلتے چلتے وہ گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت کے گیٹ کے سامنے رکے۔۔گیٹ پر ایک بینر لگی ہوئی تھی۔اس پہ ذہنی صحت کا عالمی دن لکھا ہوا تھا۔۔ان کو تعجب ہو رہا تھا۔کہ شہر کے بڑے سکولوں میں یوں عالمی دن اہتمام سے نہیں منائے جاتے اس پسماندہ علاقے میں اساتذہ میں اتنا شعور اور خلوص ہے کہ وہ بچوں کو پوری دنیا سے واقف کراتے ہیں۔اور دنیا کے لحاظ سے اس اہم مسلے سے باخبر کرتے ہیں۔وہ اسی وقت سکول کے استاد عبدالعزیز صاحب سے ملے اور سکول کے پرنسپل سے رابطہ کرکے کل کاپروگرام طے کیا گیا۔ڈاکٹر عمران اپنی ٹیم کے ساتھ سکول اسمبلی میں تشریف لائے۔بچوں کی اسمبلی سے بہت متاثر ہوئے۔اُنہوں اساتذہ کی کار کردگی کو سراہا۔بچوں سے خطاب کیا۔کچھ ذہنی اور تعلیم و تعلم کے مسائل کے بارے میں خطاب کیا۔پھر سکول کمپیوٹر لیب میں اساتذہ کرام کے ساتھ تفصیلی نشست ہوئی۔ڈاکٹر عمران،ڈاکٹر اکبر اور ڈاکٹر نوید نے خطاب کیا۔ڈاکٹر عمران نے تفصیلی طور پر چترال میں نفسیاتی مسائل ان کی وجوہات کا ذکر کیا۔اُنہوں نے خودکشی کے رجحانات اور تدارک پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اس کے اسباب میں غربت،مایوسی،افسردگی،گھریلو مسائل،والدین کی آپس میں ناچاقی،ماحول،نشہ،مختلف دائمی امراض،حساسیت،غصہ،مایوسی،کسی مقصد کے حصول میں ناکامی وغیرہ کا ذکر کیا۔ماہرین نفسیات کا لہجہ ہی ایسا تھا کہ واقعی افسردگی دور کرکے اُمید باندھاتے۔حوصلہ پیدا کرتے۔ڈاکٹر عمران سوچوں کی مثبت تبدیلی پر زور دے رہے تھے۔کسی کو قبول کرنے کاحوصلہ،کسی کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ایک اعلی شخصیت کی دلیل ہے۔آج کادور ہیجان کا دور ہے۔معاشرے سے توکل،اعتماد،صبر،برداشت،استقامت اور دوسری اہم قدریں ختم ہو رہی ہیں ہم اسلام کے بہترین معتدل نظام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔نونہالوں کی درست نہج پہ تربیت نہیں ہورہی۔وہ روایتی خاندانی اقدار مٹ رہی ہیں۔ آج کا دور بہت تیزی سے آگے جا رہی ہے۔ہمیں اس کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ورنہ فرسٹریشن ضرور ہو گی۔اُنہوں نے اساتذہ کو مسیحا کہا کہ وہ بچوں کا نفسیا تی مطالعہ کریں۔۔ہر ایک کو نارمل انسان کا پتہ ہوتا ہے اور ایب نارمل کا بھی۔اگر کسی بچے میں استاد بے چینی دیکھے تو ضرور اس پہ نظر رکھے اس کا ڈیٹا معلوم کرے اور بر وقت اس پہ توجہ دے۔اُنہوں نے معاشرے میں موجود ناپسندیدہ سر گرمیوں کاذکر کیا ان میں نشے کی لعنت بہت خطر ناک ہے۔اُنہوں نے بچوں کی شخصیت سازی اور محنت اور صلاحیت پر یقین کرنے اور تعلیم کو ہنر سمجھ کرحاصل کرنے کی عادت ڈالنے پہ زور دیا۔ڈاکٹر اکبر نے ڈپریشن کی وجوہات اور تدارک کا بتایا۔اساتذہ نے کلاس میں مختلف قسم کے بچوں کاذکرکیا اور اس کے مسائل کاذکر کیا۔ڈاکٹروں نے اساتذہ کے سوالوں کا جواب دیا رابطہ رکھنے اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق