fbpx

دادبیداد۔۔۔۔۔۔۔پیش قدمی کا فقدان

محکمہ صحت حکومت کی پہلی ترجیح ہے مگر گذشتہ 4مہینوں سے ہڑتالیں چل رہی ہیں۔تازہ خبریں یہ ہیں کہ ڈاکٹروں سے مذاکرات کامیابی کی طرف جارہے ہیں۔پیرمیڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات میں تعطل برقرار ہے اور پولیو کی نیشنل ایمرجنسی مہم کے لئے 55یوپیک کے چیئرمین ڈاکٹروں نے ڈیوٹی سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ایسے حالات میں پیش قدمی یا پیش بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔نظم ونسق اور انتظامی تجربے کی کتابوں میں انتظامیہ،حکومت اور زمہ دار حکام کو وقت سے پہلے ایسے معاملات کو روکنے کے لئے پروایکٹیو ہونا چاہیئے یعنی جو ہرٹال ستمبر میں شروع ہونے والی تھی اس کوآگست کے مہینے میں روکا جاسکتا تھا۔کانفلیکٹ منیجمنٹ کا اصول یہ ہے کہ دونوں فریق ایک میز پر آکر اپنی اپنی بات سامنے رکھیں۔تیسرا فریق ”کچھ لوکچھ دو“ کی بنیاد پرصلح کرائے گا۔ہمارے پختون معاشرے میں جرگہ یہی کام کرتا آرہا ہے۔”تیگہ“ اس کی علامت ہے۔جس قانون کو محکمہ صحت کے ملازمین کی تنظیموں نے نجکاری کانام دیا اس قانون کوحکومت نے اصلاحات کا نام دیا ہے۔دونوں طرف سے اس قانون کے اہم نکات اخبارات میں اشتہارات کی صورت میں شائع ہوئے ہیں۔اور عوام کے سامنے آگئے ہیں ضرورت صرف ثالث اور جرگہ کی ہے۔ہمارے پاس ثالث اور جرگہ کے لئے کئی متبادل ادارے موجود ہیں۔سب سے پہلا ادارہ حکمران جماعت کا کور کمیٹی ہے۔کور کمیٹی کے سنجیدہ اورسیز ارکان ہڑتالی ملازمین کے ساتھ جرگہ کرکے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مسائل کو فوراً حل کرسکتے ہیں۔دوسرا بڑا فورم صوبائی اسمبلی کی کمیٹی ہے اس کمیٹی کی ثالثی میں تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔سپیکر اہم کردار ادا کرسکتاہے۔وزیراعلیٰ اپنے دفتر میں جرگہ کرکے سپیکر اور کمیٹی کی موجودگی میں مسائل کو حل کرسکتا ہے۔موجودہ حالات میں لوگ مسائل کے حل کے لئے عدالتوں کی طرف بھی دیکھتے ہیں سوموٹو نوٹس کا بڑا چرچا ہے۔بعض اہم مسائل فوجی قیادت کی مداخلت اور ثالثی میں بھی حل ہوررہے ہیں۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ پیش قدمی کون کرے گا؟کیا انتظامی اقدامات لاٹھی چارج،گرفتاری اور ملازمین کی معطلی سے مسائل میں کمی ہوگی یا اضافہ ہوگا؟قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹیں کس طرف اشارہ کرتی ہیں؟تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایسے اقدامات سے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے۔ماضی میں ایسے بے شمار واقعات ہوئے ہیں،مسائل کا حل جرگہ ار ثالثی کے سوا کچھ نہیں۔سوچنے اور غورکرنے والوں کے لئے اس پورے تعطل کی تین وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ پیش قدمی اور پیش بندی حکومت کاکام تھا۔اس میں کوتاہی ہوئی معاملے کو سنگین صورت اختیار کرنے سے پہلے قابو میں نہیں لایا۔دوسری کوتاہی ہڑتالی ملازمین سے ہوئی اُنہوں نے صوبائی اسمبلی کے اندر لابنگ کرنے کے بجائے اسمبلی کے باہر مظاہرہ کرکے باربار سڑکوں کو بلاک کیا۔جس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔اسمبلی کے فورم کو استعمال کرنا بہتر آپشن تھا۔صوبائی وزیراعلیٰ کے والد گرامی صوبے کے مشہور ڈاکٹر ہیں اور حیات ہیں لابنگ میں اُن کی شمولیت کا بڑا فائدہ ہوسکتا تھا۔تیسری بات یہ ہے کہ میڈیا نے اس مسئلے کو درست طریقے سے غیر جانبداری کے ساتھ اُجاگر نہیں کیا۔رپورٹنگ میں باربار کوتاہیاں نظر آئیں۔اس وجہ سے مسئلہ مزید گھمبیر ہوتا گیا۔سرکاری دفتروں کے طریقہ کار سے واقفیت رکھنے والے تجربہ کار لوگ ایک اور بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایسے حالات میں ڈیلی سیچویشن رپورٹ(DSR)بھیجی جاتی ہے۔تمام اضلاع اور بڑے ہسپتالوں کےDSRکو انتظامی افیسروں کی میٹنگوں میں ہرروز غور وخوص کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔اس پر روزانہ بحث ہوتی ہے۔روزانہ نئے اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں۔زیرک اور قابل افیسروں کی ٹیم ہمیشہ مذاکرات،نرمی اور ثالثی کا راستہ اختیار کرتی ہے جس کی وجہ سے مسائل جلدی حل ہوجاتے ہیں۔عوام کو بھی نظر آتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر کام ہورہا ہے۔ بات چل رہی ہے حالات بہتر ہوجائینگے بلکہ اکثر اوقات حالات میں بہتری نظر آتی ہے۔گذشتہ ایک مہینے کے اندر ایسا کوئی قدم عوام کو نظر نہیں آیا ہڑتالی ملازمین کو نظر نہیں آیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت کے ایوانوں میں مکمل خاموشی،بے نیازی اور ابے اعتنائی کی فضا قائم ہے۔حالانکہ حکومت کو ہمیشہ پہل کرنی چاہیئے اور حکومتیں ایسے حالات میں پہل کرکے خیر سگالی پیدا کرتی ہیں۔خیر سگالی کی فضا میں ثالثی اور جرگہ ہوجائے تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر فیصلہ ہونا آسان ہوجاتا ہے۔چونکہ محکمہ صحت ہماری حکومت کی پہلی ترجیح تھی،اب بھی ہے آئیندہ بھی رہے گی،ہسپتالوں کو خوش اسلوبی سے چلانا اس کی ایک علامت ہے۔جو نظر آنے والی ہے۔پولیو کا انسداد ہماری نیشنل ایمرجنسی ہے۔اس حوالے سے کوئی کوتاہی ہم برداشت نہیں کرسکتے۔اس لئے ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ دونوں اطراف سے ہونا چاہیئے۔پیش قدمی کا فقدان گذرگیا اب معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔اسلام آباد میں جرگہ اور ثالثی کی وجہ سے حالات بہتر ہورہے ہیں۔اللہ کرے یہ سلسلہ آگے بڑھے اور کامیابی سے ہمکناہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق