fbpx

گلوف ٹو پراجیکٹ اور وادی آرکاری

………محکم الدین اویونی ………

سائنسی اصطلاح میں گلیشئر لیک آوٹ برسٹ فلڈ (GLOF) اُس سیلاب کو کہا جاتا ہے۔ جو گلیشیرز کے پھٹنے کے نتیجے میں آتا ہے۔ گلیشئرز کے پگھلاؤ کی وجہ سے پانی ڈیم یا جھیل کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اور آخر کار جھیل کے قدرتی بند کی دیواریں پانی کے دباؤ، برف کے تودے گرنے یا لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلے کے نتیجے میں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اور جھیل کا پانی سیلاب کی صورت میں اپنے راستے میں آنے والے تمام چیزوں کو بہا لے جاتا ہے۔ اگر یہ سیلاب آبادی والے علاقوں سے گزرے تو انسانی جانیں، مکانات، باغات، فصلیں زمینات اور دیگر انفراسٹرکچر اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اور سرسبز و شاداب علاقے تباہ و بربادی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ چترال میں اس قسم کے سیلاب کی تاریخ کافی پُرانی ہے۔ جسے مقامی زبان میں ”چَٹِی بوئے“کا نام دیا جاتا ہے۔ جس میں گلیشئرز (شا یوز) کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے سیلاب آجاتا ہے۔ اور گلیشئر کے ٹکڑے بھی سیلاب کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔ اس قسم کے سیلاب پُرانے وقتوں میں شاذو نادر ہی آتے تھے۔ کیونکہ جنگلات کی کٹائی نہ ہونے کے برابر تھی، آبادی کم تھی، اس لئے نقصانات بھی کم ہوتے تھے۔ لیکن بڑھتی ہوئی چترال کی آبادی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی،موٹر وہیکل کی تعداد میں روز افزون اضافہ اور عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کے صنعتوں سے خارج ہونے والے فضلات اور مضر صحت گیسوں کے اخراج نے موسم میں غیر معمولی گرمی پیدا کر دی ہے۔ تب سے موسمیاتی تغیرات کے اثرات نے چترال کے گلیشئرز کو ناقابل یقین حد تک متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور موسمیاتی و ارضیاتی ماہرین نے چترال کے چار گلیشئرز کو شدید خطرات کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ گلیشئرز کسی بھی وقت کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے ان گلیشئرز کو مزید پگھلاؤ میں کمی لانے و ٹوٹنے سے بچانے اور سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کیلئے متبادل انتظمات کرنا انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یو این ڈی پی کے مالی تعاون سے چترال میں گلوف ٹو پراجیکٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں لٹکوہ کی پسماندہ وادی آرکاری شامل ہے۔ چترال شہر سے 78کلو میٹر دور 1200گھرانوں اور 8ہزار کی آبادی پر مشتمل وادی آرکاری کے لوگ اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے فاصلے پر واقع اس وادی تک پہنچنے کیلئے پانچ سے چھ گھنٹے لگتے ہیں۔ کیونکہ روڈ کی ساخت ایسی ہے۔ کہ اس پر کچھوے کی رفتار پر چلے بغیر زندگی بچانا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود اب تک سینکڑوں افراد مختلف اوقات میں حادثے کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔ آرکاری وادی کیلئے روڈ کی تعمیر کسی زمانے میں دسٹرکٹ کونسل چترال کے تعاون سے ممکن ہوئی۔ اُس کے بعد مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت یہ روڈمرمت کرتے ہیں۔ اور چترال شہر سے اپنا رابطہ بحال رکھتے ہیں۔یہاں حکومت کی طرف سے تعلیمی سہولیات میسر ہیں، صحت کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اور نہ خوراک کا مناسب انتظام ہے۔ لیکن لوگوں کی جفاکشی، بہادری اور زندگی کے لئے مسلسل رضاکارانہ جدو جہد اور اتفاق نے اُنہیں زندہ رکھا ہوا ہے۔ وادی آرکاری کسی زمانے میں خوراک میں خود کفیل تھا۔ کیونکہ وادی کے اندر وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے زمینات تھے۔ جن میں گندم، مکئی اور سبزیات کاشت کئے جاتے تھے۔ اناج کی پیداوار نہ صرف مقامی لوگوں کیلئے کافی تھی۔ بلکہ یہاں آکر چترال کے دوسرے علاقوں کے لوگ اناج خرید کر اپنی ضرورت پوری کرتے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے 1935میں گلوف کی صورت میں آفت کا پہلا حملہ اس وادی پر ہوا۔ جس نے سرسبز کھیتوں اور کھلیانوں کو سیلابی ملبے اور پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔مکانات، باغات اور زمینات سیلاب کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اور علاقہ خوراک کی خود کفالت کی بجائے پسماندگی اور قحط کا شکار ہوا۔ اُس کے بعد سیلاب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔لیکن 1982،1992،1997،2010اور2015کو یہ لوگ وادی آرکاری کی تاریخ کے بد ترین سیلاب کے سال کے طور پریاد کرتے ہیں۔جن کی وجہ سے وہ مستقل بنیادوں پر پہاڑوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ گلیشئرز کے حامل وادیوں کو سیلاب کے نقصانات سے بچانے کیلئے یواین ڈی پی کے مالی تعاون سے منسٹری آف کلائمیٹ چینج،پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے گلوف پراجیکٹ کے تحت بندو گول گہکیر اور گولین میں تجرباتی طور پر پائلٹ پراجیکٹ کیا تھا۔ جس میں ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن کے مطابق بندو گول میں مقامی کمیونٹی کو بہت زیادہ فوائد ملے ہیں۔ ان مثبت نتائج کی بنا پر چترال میں گلوف ٹو کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے آرکاری وادی کو بھی سیلاب سے بچانے کے سلسلے میں اقدامات کئے جائیں گے۔ گذشتہ روز اس پراجیکٹ کے حوالے سے وادی آرکاری کے ایک نجی سکول میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں آرکاری وادی کے عمائدین، اساتذہ اور مردو خواتین نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یو این ڈی پی کے سردار زیب نے کہا۔ کہ سیکرٹری ماحولیات عابد مجید آرکاری وادی کو سیلاب سے بچانے میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے۔ کہ انہوں نے اس علاقے تک سفر کیا۔ اور ہر ایک چیز کا اپنی آنکھوں سے بغور مشاہدہ کیا۔ اور آرکاری کے عوام کی مشکلات سے آگہی حاصل کی۔ جس کے بعد یہ پراجیکٹ شروع کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے۔ کہ چترال میں گلوف کاایک مکمل یونٹ بن گیا ہے۔ اور آفس قائم ہے۔ جس کے ساتھ رابطہ کرنے میں آپ کو آسانی ہو گی۔ انشا اللہ اس پراجیکٹ کے بعد آپ کی تکالیف میں بہت کمی آئے گی۔ پروونشل کو آرڈنیٹر گلوف فہد بنگش نے اپنے خطاب میں یقین دلایا کہ گلوف پراجیکٹ مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے کام کرے گی۔ کیونکہ کسی بھی کام کے حوالے سے مقامی نالج کی بہت اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا، کہ انفراسٹرکچر کی بہتری، زراعت کی ترقی،لائیولی ہوڈ اور علاقے کو مزید نقصانات سے بچانا پراجیکٹ کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر ریڈکشن آفیسر چترال نے کہا۔کہ ہم پراجیکٹ کیلئے ایسی پلاننگ پر یقین رکھتے ہیں۔ کہ اس سے مقامی لوگوں کو زیادہ سے فوائد ملیں۔ اور مستقبل میں سیلاب کے نقصانات کم سے کم ہوں۔ اس موقع پر مقامی کمیونٹی کی نمایندگی کرتے ہوئے چیر مین محمد رفیع نے گلوف پراجیکٹ آرکاری میں شروع کرنے پر یو این ڈی پی، حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ یہ وادی سیاحت کیلئے انتہائی دلچسپ ہے۔ اس لئے وادی تک رسائی کو آسان بنانے پر بھر پور توجہ دی جائے۔ وادی میں موجود اکرام گھاس ایک قدرتی سپورٹس گراونڈ ہے۔ جہاں فیسٹول منعقد کرکے سیاحوں کو آرکاری وادی کی سیر کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔ جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ پراجیکٹ کی آمد پر انتہائی خوش ہیں۔ اور اس کی کامیابی کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ کیونکہ یہ ہماری بہتری کیلئے ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی، سیکرٹری عبدالمجید اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب میں گلوف کے فیلڈ آفیسر شہزادہ اقتدار الملک، پشاور سے مختلف قومی اخبارات کے نمایندگان بھی موجود تھے۔ جنہوں نے بھر پور تعاون کی یقین دھانی کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق