fbpx

فکروخیال….ریمانڈ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

…. ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فرہاد خان ۔

اب ہماری سادگی کا عالم دیکھئے کہ اب تک جسمانی ریمانڈ نامی اس بلا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے اور دل ہی دل میں خوش تھے کہ چوری،کرپشن اور فراڈ کے الزام میں پکڑے جانے والے ہمارے بڑے لیڈران ،وزرا اور دیگر ملزمان کے بارے جب یہ سنتے کہ ان کی جسمانی ریمانڈ میں مذید دس سے پندرہ دن کی توسیع ہوئی ہے تو دل ہی دل میں شادیانے بجتے کہ اب ریمانڈ درریمانڈ کے بعد ملزمان سب کچھ اُگل دینگے اور قومی خزانہ جلد پھر سے بھرجائےگا ہم خوشحال ہونگےمھنگائی کا خاتمہ ہوگا اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا۔اگرریمانڈ کا یہ سلسلہ جاری رہا تونوازشریف باہرفراربیٹون کو واپس آنے اورسچ سچ بتانے کا التجا کرے گا، زرداری صاحب جائیداد ودولت سمیت سوئس بینک میں پڑے خزانے بھی حوالے کرکے جیل سے نکلنے میں عافیت جانے گا اوررانا ثنااللہ اپنے ساتھی ہیروئن گینگ کا رازبھی فاش کردے گا اورمنشیات کےاڈون کا نام بھی جلد بتا کرجان کی پناہ مانگے گا ،جو ہم سادہ لوح سمجھ رہے تھے ایسا بلکل بھی نہیں تھا،روزریمانڈ کا فرمان جاری ہوتا توہم بھی مطمعن ہوتے کہ اب فرارممکن نہیں اورراز کے رازجلد افشا ہونگے اورملزمان جلد مجرم ثابت ہوکرملکی دولت واپس کرنا شروع کردین گے مگر ُدھرریمانڈ کے فرمان کے بعد ٹی وی سکرین پر ملزمان کو دیکھتے تووہی ہشاش بشاش چہرے وہی تروتازہ لوگ ، ہم تو ریمانڈ کا مطلب کچھ اورلیتے تھے ریمانڈ زدہ چرسی یا کوئی افیونی ایک دودن جیل کی یاترا کے بعد گھرآتے تو شکل بلکل بدلے ہوئے لگتے نہیں،چمڑی اُتری ہوئی ہوتی تھی اورچہرہ مرجھایا ہوا،تھانے اورجیل بارے پوچھنے پران چہرے کی رنگت زرد پڑجاتے اورڈرے سہمے ہوئے لگتے۔مگر یہان یہ بڑے بڑے لوگون کی ریمانڈ کا مطلب بلکل اُلٹ تھا۔ریمانڈ  کا جو مطلب میں اورمجھ جیسے سادہ عوام سمجھ رہے تھےایسا کچھ بھی نہیں تھا،ان کے چہرے کی تروتازگی دیکھ کراس ریمانڈ نام کی بلا پرشک ہُوا تو اپنے ایک وکیل بھائی سےاس کی وضاحت کی درخواست کی کیونکہ اب تک جسمانی ریمانڈ کا مطلب ہم جسمانی سزایعنی مارپیٹ کے زریعے رازاگلوانا ہی سمجھ بیٹھے تھے مگر وکیل بھائی کی وضاحت کے بعد معاملہ کچھ اور نکلا ۔ اسکے  مطابق ریمانڈ کا لفظی مطلب “واپس بھیجوانا ” ہے یعنی جب کوئی شخص کسی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اسے چوبیس گھنٹے کے اندرمجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے اوراگر پولیس کو زیرحراست شخص سے مذید تفتیش مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ کو درخواست دیکر تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کوریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں اوراس کا مقصد صرف تفتیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ تشدد یا مار پیٹ اگر تشدد یا مارپیٹ ثابت ہوگیا تو پولیس نوکری سے فارغ اورساتھ سزا کا بھی مستحق ٹھہرے گا ۔ وکیل بھائی کی وضاحت کے بعد ہی معلوم ہوا کہ جس ریمانڈ کا مطلب ہم کچھ اور سمجھ رہے تھے وہ ایسا بلکل نہیں تھا اور ریمانڈ درریمانڈ کی توسیع صرف اور صرف تفتیش ہی تھا ۔ہم بھلا ان قانونی پیچدگیون اورانوکھے طورطریقون کو کیا جانیں ہم توپولیس کی اُس ریمانڈ کا سنا ہے کہ جس میں ایک چرسی یا ایک افیونی سے چرس یا افیون کی برامدگی کے بعد مذید رازاگلوانے کے لئے مارپیٹ اورتشدد کا سہارا لیا جاتا ہے مگر ہمیں بڑے بڑون کی اس ریمانڈ کا مطلب پتہ نہیں تھا اور ہم اسے کچھ اورہی سمجھ کر دل ہی دل میں خوش تھے کہ ان ریمانڈ کے اثرات بہت جلد سامنے ائیں گے مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ اُس ریمانڈ اوراس ریمانڈ میں زمیں اور آسمان کا فرق تھا۔تبھی تو یہ سمجھ آیا کہ تفتیش درتفتیش کے بعد بھی نتائج صفر کیوں ہوتے ہیں اور شک کی بنیاد پراورکبھی تسلی بخش ثبوت کی عدم دستیابی پراورکبھی نیب پراسکیوٹرز وغیرہ کی کمزرو تفتیش پر بڑے سے بڑے مجرم آخر کار چھوٹ ہی جاتے ہیں کیونکہ ریمانڈ کا مطلب یہان کچھ اور ہے اور وہان کچھ اور۔ اب سمجھ آیا کہ انصاف نام کی چیز بھی دولت کے آگے آخرکیون جُھک ہی جاتی ہے اورریمانڈ کا مطلب غریب کے لئے کچھ اور ہے اورامیر کے لئے یکسراور۔وکیل برادری سے مذید وضاحت درکار ہے ۔ ۔ ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق