fbpx

جس کھیت سے دھقان کو۔۔۔۔۔لانگ مارچ کی آڑ میں

۔۔۔۔۔۔۔تحریر:پروفیسر رحمت کریم بیگ۔۔۔۔۔۔۔

اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کرنا ہر فرد کا حق ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن موجودہ حاالات میں جبکہ پی۔ٹی۔ آئی حکومت کو اقتدارمیں آئے چودہ مہنے بھی نہیں ہوئے ہیں کہ اس کو بزور بازو اسستعفی دینے کے لئے مجبور کرنے کی کوشش ایک سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں،یہ کسی مخالف فریق کا تیار کیا ہوا پلان ہے جو اس ملک کے بنانے کے وقت جمیعت علمائے ھند کا ایک کٹر موقف تھا، یہ جمیعت تقسیم ہند کے خلاف تھی،ہم نے اس دور کے بارے میں لکھے گئے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جن میں اس وقت کے علمائے دیو بند کے بیانات قلمبند ہیں جو ایک اسلامی ملک کی تخلیق کے سخت مخالف تھے، انہوں نے اس مطالبے کو رد کرکے کانگریس کی گود میں بیٹھ کر مسلم لیگ کے خلاف سرتوڑ کوشش کی تھی اور جب مسلم لیگ کی مقبولیت بڑھنے لگی تو مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور احتشام الحق تھانوی نے جمیعت علمائے ھند کے پاکستان مخالف کٹر دھڑے کی موئقف سے اختلاف کرکے مسلم لیگ کی حمایت شروع کی جبکہ باقی علماء بدستور کانگریس کے ساتھ مولنا ابولکلام آزاد کے ہم نوا تھے اور مولانا صااحب کی سیاسی وابستگی کی جڑ یں کانگریسی جمیعت سے ملتی ہیں
آج پاکستان کے اندر جو جمیعت علمائے اسلام ہے اس کے کارکنان نے تحریک پاکستان کے بارے میں کوئی مطالعہ نہیں کیا، ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ تحریک پاکستان کا مطالبہ کن مراحل سے گذ را اور جمیعت کے سربراہوں کا اس میں کیا کردار رہا ہے؟ تاریخ انہوں نے نہیں پڑھی، سیاسیات نہیں پڑھی، پاک سٹڈی کا نام انہیں نہیں آتا، حتی کہ ان کو پاکستان کا حدود اربعہ بھی معلوم نہیں ہے، یہ تاریخ سے بے خبر، تحریک پاکستان سے لا علم آٹھ سالہ کورس کے نیم ملا خطرہ ایمان ہیں جو مشہور مقولہ ہے، ان کی درس نظامی کے آٹھ سالہ کورس کو جب تک تئیس سالہ کورس میں تبدیل نہیں کیا جائیگا یہ خطرناک گروہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے فعل شنیع سے باز نہیں آئیگی کہ قرآن پاک کا نزول تئیس سال میں مکمل ہوا اس لئے ان کا دینی کورس بھی تئیس سالہ ہونا چاہئے ورنہ یہ طالبان ہی رہیں گے
رہا سوال مولانا فضل ارحمان کا کہ وہ اپنے والد محترم مولانا مفتی محمود کی وزارت اعلی کے زمانے میں کراچی میں زیر تعلیم تھے اور باپ کی شہ پر کراچی میں اس نے کیا کچھ نہیں کیا وہ ہمیں ان کے ایک ہم عصر کی زبانی معلوم ہیں لیکن ضبط تحریر میں لانے کے لائق نہیں اس لئے اخلا قی لحاظ سے ہم ان کے کرتوتوں کو راز ہی میں رہنے دیں گے، موجودہ حالات میں ان کی اپنی سیٹ سے محرومی ان کی کمپلکس کی وجہ ہے، ان کو اپنی قوت بازو پر بڑا فخر ہے 1977 میں پی۔این۔اے کی تحریک میں ڈالروں کی برسات میں ان کے ساتھ تمام شریک کاروں کے اعمال نامے بھی ہمیں معلوم ہیں جس میں ان کے مرحوم والد بھی ایک بڑے کردار تھے اور یہ بارش اب بھی برسنے لگی ہے، جماعت اسلامی تو اس مارچ میں شامل نہیں لیکن پاکستان کی بنیاد کا وہ بھی ابتداء سے سرگرم مخالف رہا ہے اس بیان کے ساتھ کہ پاکستان کی تحلیق کی گناہ سے ہم پاک ہیں گویا تخلیق پاکستان ان کے نزدیک ایک گناہ کبیرہ تھی، رہے اے۔این۔پی والے ان کا بانی بھی سرحدی گاندھی کہلاتا تھا اور اس نے پاکستان کو کھبی تسلیم ہی نہیں کیا نہ اس ملک میں قیام کیا اور نہ اس ملک میں دفن ہونے کو پسند کیا، تو اس پارٹی کے سرخ پوش کس زبان سے پاکستان کی بات کرتے ہیں جس کے قیام کو انہوں نے کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ڈیزل والوں کو چاہئے کہ وہ پانچ سال کے لئے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کریں اور سیاست میں رواداری کا سبق سیکھ کر میدان میں آئیں، ان کے نغمے اور نغرے ابھی خام ہیں ان میں ابھی وہ کشش نہیں جو صبر سے آجاتی ہے۔
بقول اقبال: نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور زرا تھام ابھی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق