fbpx

نوایے سُرود ……ملاوٹ  

               ………تحریر:  شہزادی کوثر…..

غذا انسان کے لیے کتنی ضروری ہے اس کا اندازہ سبھی لگا سکتے ہیں۔ جسم کو دن بھر کے تمام کاموں کے لیے جتنی توانائی اورطاقت درکار ہوتی ہے وہ کتنی مقداراور کس تناسب سے ہواس کے بارے میں کوئی بھی لاعلم نہیں۔ کھانا زندہ رہنے کے لیے ہی کھانا چاہیے اس سے بھی سب اتفاق کریں گے،لیکن یہ سوچ کر بھی کوئی مناسب جواب نہیں ملتا کہ کھائیں تو کیا کھائیں ؟مطلب یہ کہ اچھی غذا کہاں سے ملے جب کہ ہر طرف ملاوٹ کا کاروبارعروج پرہو۔کچھ سالوں پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ایسی چیزوں میں بھی ملاوٹ ہو سکتی ہے جو نا ممکن تصور ہوں۔ پہلے سننے کو ملا کہ قیمے میں گاجر شامل کیے جاتے ہیں تو عجیب لگا،کیا خبر تھی کہ ٓانے والے سالوں میں زہر ملایا جائےگا اور ہم معلوم ہونے کے باوجود انہیں استعمال کرنےپرمجبورہوں گے۔مسالوں میں اینٹیں پیس کر ڈالی جاتی ہیں،چائے کی پتی کی جگہ برادے میں رنگ ملا کر بیچا جا رہا ہے،کھلے دودھ میں پانی ڈالنا پرانا فیشن بن گیا ہےاب پانی میں دودھ ملایا جاتا ہے۔ڈبے کے دودھ میں یوریا ڈٹرجنٹ شیمپو اس کے علاوہ دوسرے کیمیکل ملے ہوتے ہیں۔ کوکنگ ٓائل میں مرغی کی انتڑیوں کا بےدریغ استمال عام ہے،ادرک کو تیزاب میں ڈبونااورچاولوں کے اوپر اسپرے عام بات ہے۔ بے موسم پھلوں کو مصنوعی طریقے سے پکایا جاتا ہے،سبزیوں کو کیمیکل میں رکھا اور خربوزوں کو انجکشن لگایا جاتا ہے۔اب تو انڈے بھی پلاسٹک سے بن کر مارکیٹ میں ٓا گئے ہیں،دیسی مرغیاں اچھے وقتوں میں کھانے کو مل جاتی تھی اب مرغی کے نام پر چوزے مل جاتے ہیں جو انڈوں سے نکلنے کےکچھ ہی دنوں بعد قابل فروخت بن جاتی ہیں ان پر ہی ہر گھر کا گزارہ ہو رہا ہے جن کی خوراک دیکھ کر ہی ابکائی ٓاتی ہے۔ڈبوں میں بند خوراک بھی قابل بھروسہ نہیں،دوائیاں بیماریاں دور کرنے کی طاقت سے محروم ہو گئی ہیں۔ کبھی کبھی ہنسی اتی ہے کہ زہر بھی خالص نہیں مل رہا، اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قدرت نے ہمارے اندرونی نظام کو اتنا مضبوط بنایا ہے کہ تمام کیمکلز معدے سے گزار کر بھی ہم زندہ ہیں اور کیڑے مکوڑے ہماری صحبت میں رہ کر اسٹیل بن چکے ہیں ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔   انسان کتنا خود غرض اور حریص ہےجو اپنے فائدے کے لیے اتنی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ ڈر بھی اسے نہیں لگتا کہ قدیم اقوام کیوں تباہ ہوئی تھیں  ۔ہمارے اندر ہر خباثت اور برائی موجود ہے جو عذاب کو دعوت دے سکتی ہے ہم کسی اور پیغمبرؑ کی امت ہوتے تو اب تک ہمارے چہرے مسخ ہو چکے ہوتے مگر رحمت للعالمین  کی برکت سے ہم گناہوں میں دھنس کر بھی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ ذراسی بھی شرم محسوس ہو اقبال کے بقول امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں۔۔۔ لیکن احساس سے عاری۔۔۔ اب تو ہمارا احترام اور پیار ومحبت بھی خالص نہیں رہے جہاں فائدہ دیکھا رال ٹپکاتے ہوئے وہاں پہنچ گئے،جائز اور نا جائز میں سامنے والے کی پوزیشن دیکھ کر اپنا مزاج فورا بدلا جاتا ہے یعنی جو وہ کہ رہا ہے وہ سولہ انے ٹھیک ہے جس میں کسی کو اعتراض ہو ہی نہین سکتا جبھی تو کسی نے بڑی دلچسپ بات کہی ہے۔۔۔۔۔

     یہ ملاوٹ کا دور ہے صاحب

ہاں میں ہاں ملا لیا کیجئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق