fbpx

چترال، ایون کے پانچ ویلج کونسلوں کے لوگوں کا حکومت اور محکمہ سی اینڈبلیوکی بے حسی اور غفلت پر شدید رد عمل کا اظہار

چترال (محکم الدین) ایون کے پانچ ویلج کونسلوں کے لوگوں نے حکومت اور محکمہ سی اینڈبلیوکی بے حسی اور غفلت پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ ادارے عوامی مسائل کے حل کیلئے ہوتے ہیں۔ لیکن چترال کے بعض اداروں کی توجہ عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے صرف تنخواہیں اور مراعات سمیٹنے پر مرکوزہیں۔ اورعوامی مصائب اور مشکلات سے اُن کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ معروف ترین سیاحتی مقام ایون اور کالاش ویلیز کے رابطے کا واحد پُل (چیتر معلق پُل) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اُکھڑے ہوئے تختیوں اور میخوں کی وجہ سے پُل عبور کرنے والا ہر گاڑی پنکچر کی اذیت سے گزر تا ہے۔ جبکہ لوڈ گاڑی کا یہاں سے گزرنا محال ہو چکا ہے۔ لیکن محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر حکام کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔ اور کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ درجنوں کی تعداد میں چترال کے ضلعی آفیسران اور صوبائی سطح کے حکام کی گاڑیاں کالاش ویلیز کی سیر و سیاحت سے لطف انداوز ہونے کیلئے اس شکستہ و خستہ حال پُل کو عبور کرتے ہوئے خود بھی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس کی تعمیر و مرمت کے سلسلے میں کوئی کردار ادا کریں۔ جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا کردار اس روڈ اور پُل کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں کا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر چترال سے کالاش ویلیز میں کھلی کچہری کے موقع پر ایون چیتر پُل کی مرمت اور کالاش ویلیز روڈ کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے مطالبات پیش کئے گئے تھے جس میں انہوں نے سڑکوں اور پُل کی حالت بہتر بنانے کی یقین دہانی کی تھی۔ لیکن افسوس ہے۔ کہ یقین دہانیوں کے باوجود تاحال کچھ نہیں کیا گیا ہے اور پُل و سڑکوں کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہیں۔ اس لئے ایون وکالاش ویلیز کے عمائدین اور لوگوں نے عوامی مسائل میں حکومتی عدم دلچسپی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سسپنشن پُل کی مرمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاحت کی ترقی کے حوالے سے اعلانات کرتی ہے۔ لیکن سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک پہنچنے میں سہولت دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کرتی اس لئے سیاح خراب سڑکوں کی وجہ سے اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر پُل کی مرمت کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق