fbpx

ایک اہم عدالتی فیصلہ

…….محمد شریف شکیب…..

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری اداروں کے ملازمین کا دوران ڈیوٹی ہڑتال کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔ عدالت عالیہ نے ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی کی جگہ حاضر ہوں بصورت دیگر انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔جسٹس جواد حسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ینگ ڈاکٹرز جس مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کر رہے ہیں وہ قانون ابھی بنا ہی نہیں، جب قانون بن کر نافذ ہوگا تو اس کے خلاف احتجاج کا جواز بھی بنتا ہے۔انہوں نے ڈاکٹروں کو تنبیہ کی کہ سفید کوٹی پہن کر سڑکوں پر احتجاج اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے بجائے انہیں یونیفارم پہن کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دینی چاہئے۔یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہڑتال کے نام پر اداروں کو مفلوج اور عوام کو پریشانی سے دوچار کرنے والوں کے لئے واضح پیغام ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی ڈاکٹرز، نرسیں، پیرامیڈیکل سٹاف گذشتہ ڈیڑھ دو مہینوں سے ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے صوبے کے ٹیچنگ ہسپتالوں سے لے کر ڈی ایچ کیو، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، بی ایچ یوز، آر ایچ سیز اور ڈسپنسریاں بھی بند پڑی ہیں۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنا اور عدالتی چارہ جوئی کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ لیکن اگر احتجاج کی وجہ سے شہری زندگی متاثر ہورہی ہو۔لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں تو یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داری نبھاتے ہوئے امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کرے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی ہڑتال بھی ایک مجوزہ قانون کے خلاف صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کا احتجاج ہے۔ ان کا موقف ہے کہ مجوزہ قانون کی منظوری اور نفاذسے ان کے حقوق متاثر ہوں گے۔اس لئے وہ حکومت کو مجوزہ قانون کے نفاذ سے روکنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔حکومت کا موقف ہے کہ سرکاری ملازمین کو قانون سازی کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، عوام نے حکومت کو قومی مفاد میں قانون سازی کے لئے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے۔ اگرکسی قانون سے پورے صوبے کے عوام کو فائدہ پہنچتا ہے، صوبے کی معیشت بہتر ہوتی ہے تو چند افرادکی ناراضگی کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیرصحت نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے دباو میں نہیں آئیں گے اور وسیع تر قومی مفاد میں قانون سازی اور اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا کیا قصور ہے؟ سرکاری ملازمین اور صوبائی سرکار کے باہمی تنازعے میں انہیں کیوں گھسیٹا جارہا ہے۔ ہسپتالوں کی بندش سے اب تک لاکھوں مریض متاثر ہوئے ہیں کئی قیمتی انسانی جانیں بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہوچکی ہیں۔ ان کے لواحقین کس کے ہاتھ میں اپنے پیاروں کا لہو تلاش کریں؟حکومت کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر جب تک چاہیں احتجاج کرتے پھیریں، حکومت ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔دکھی انسانیت کی مسیحائی کے دعویداروں کو بھی عوام کی حالت زار پر ترس کھانا چاہئے۔ اس قوم نے انہیں ڈاکٹر بنانے میں کافی سرمایہ لگایا ہے۔ اور ان کا پیشہ بھی دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کا متقاضی ہے۔ صوبائی حکومت اور ڈاکٹروں کی تنظیم کو خواہ مخواہ محاذ آرائی کو طول دینے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنا چاہئے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ہڑتال غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے تو اسے اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے سخت کاروائی کرنی چاہئے افرادریاست سے زیادہ طاقتورنہیں ہوتے۔ روز روز کی ہڑتالوں، دھرنوں اور احتجاجی ریلیوں سے نہ صرف شہری زندگی متاثر ہورہی ہے بلکہ حکومت کی رٹ بھی کمزور پڑتی جارہی ہے اور ایک غیر صحت مندانہ رجحان پنپ رہا ہے کہ احتجاج اور دھرنوں کے بغیر اس ملک میں کوئی کسی کی نہیں سنتا۔اگریہی صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہی تو عوام کو پیمانہ صبر لبریز ہوسکتا ہے اور جب عوام تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت کے لئے اس صورتحال کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق