fbpx

ایک بابغہ روزگار ہستی کی رحلت

……….تحریر: محمد شریف شکیب……..

پاکستان کے صحافتی افق پر 60سال سے جو ستارہ آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہا وہ بالاخر19اکتوبر 2019کو غروب ہوگیالیکن اس ایک ستارے نے ہزاروں کی تعداد میں جو چھوٹے چھوٹے ستارہ پیدا کئے وہ آسمان صحافت میں کہکشاں کی صورت اختیار کر گئے ہیں جو ہمیشہ اس اکلوتے روشن ستارے کی یاد دلاتے رہیں گے۔ اس ستارے کا نام عبدالواحد یوسفی تھا۔ نہایت کم گو، ملنسار، مرنجان مرنج، پہلو میں ایک درد مند دل رکھنے والی شخصیت۔جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو کبھی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہی ایک سچے مومن کی نشانی ہوتی ہے۔ یوسفی صاحب کا کارزار صحافت کا سفر چھ دہائیوں پر محیط رہا۔ اپنے سفر کا آغاز 1959میں روزنامہ انجام پشاور سے سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے کیا۔ سات سال اس ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ 1967میں سرکاری ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اخبار مشرق کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ اورپھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، مشرق میں آپ سٹاف رپورٹر، سینئر سٹاف رپورٹر، نمائندہ خصوصی، ڈپٹی ریزیڈنٹ ایڈیٹر، ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور مشرق گروپ آف نیوز پیپرز کے ڈپٹی چیف ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچے۔ 1992میں جب حکومت نے روزنامہ مشرق کو پرائیویٹائز کیا۔ تو عبدالواحد یوسفی اس ادارے سے الگ ہوگئے اور پشاور سے اپنا اردو اخبار روزنامہ آج جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوسفی صاحب کو یقین تھا کہ ایک دن یہ اخبار صوبے کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اور مقبول ترین اخبار بنے گا۔ اس لئے انہوں نے اپنا سب کچھ اس ادارے کو بنانے پر لگادیا۔ اپنی گاڑی اور ذاتی گھر تک بیچ دیا اور بچوں کے ساتھ آرمی فلیٹس میں کرائے کے گھر میں منتقل ہوگئے۔ 24جون 1994کو روزنامہ آج پشاور مارکیٹ میں لانچ ہوا۔ دس پندرہ سالوں کی شبانہ روز محنت، صحافتی جدت پسندی، بہترین ڈسپلے، جدید لے آوٹ اور ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی کی بدولت روزنامہ آج اس صوبے کا مقبول ترین اخبار بن گیا۔ 1997میں ہزارہ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لئے ایبٹ آباد سے روزنامہ آج جاری کیا گیا۔ جو آج اس خطے کا مقبول روزنامہ بن چکا ہے۔ مجھے تیس سال تک یوسفی صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ جون 1989کا واقعہ ہے جب کراچی کے حالات کافی خراب تھے۔ چونکہ میں نے دس سال کراچی میں گذارے تھے۔ اس لئے مجھے وہاں کے حالات و واقعات کا کافی مشاہدہ تھا۔ لکھنے پڑھنے کا شوق بھی تھا۔ کراچی کے واقعات کے حوالے سے کالم لکھتا رہا۔ جب میرے بیس پچیس کالم مشرق کے ادارتی صفحے پر شائع ہوئے تو یوسفی صاحب نے برادرم عزیز احمد کے توسط سے مجھے دفتر بلالیا۔ پہلی ملاقات میں ہی ان کی پروقار شخصیت سے متاثر ہوا۔ انہوں نے مجھے مشرق میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ میں نے بتایا کہ میں نے سیاسیات میں ماسٹر کیا ہے صحافت کی ایک کتاب بھی نہیں پڑھی۔ تو یوسفی صاحب ہنس پڑے۔ کہنے لگے کہ جس شخص میں نیوز سنس ہو۔ وہ صحافی ہوتا ہے۔ اس کے لئے کتابیں پڑھنا چندان ضروری نہیں ہوتا۔ ڈگریاں تو فیسوں کی رسیدیں ہوتی ہیں۔یوسفی صاحب کے اصرار پر میں نے 30جون1989کی شام حبیب الرحمان صاحب کے ڈیسک پر حاضری دی۔اسی دن سے میں نے یوسفی صاحب اور حبیب الرحمان صاحب سے صحافت کی الف بے سیکھنے کا عمل شروع کیا۔نواز صدیقی، ذوالفقار احمد، اشرف درانی، شرف الدین مخلص،ریاض احمد، یونس قیاسی، ارشاد احمد، مبشر رحیم ملک، تنویر نثاراور دیگر ساتھیوں کی رفاقت، رہنمائی اور
حوصلہ افزائی حاصل رہی۔مشرق کی پرائیویٹائزیشن سے قبل ہی میں نے 1992میں یوسفی صاحب کے حکم پرروزنامہ آج میں شمولیت اختیار کی۔ مجھے فخر ہے کہ میں نہ صرف روزنامہ آج کے بانی کارکنوں میں شامل ہوں بلکہ مجھے ٹرپل اے پبلی کیشن کے زیر اہتمام روزنامہ آج ایبٹ آباد، روزنامہ شملہ ایبٹ آباد اور روزنامہ اخبار شہر پشاور بطور نیوز ایڈیٹر لانچ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آج میں اگر چند سطریں لکھنے اور مدیر کی حیثیت سے اخبار بنانے کے قابل ہوں تو یہ عبدالواحد یوسفی اور حبیب الرحمان صاحب کی سرپرستی، شفقت، محنت اور محبت کا نتیجہ ہے۔ میں نے انہیں تیس سالوں میں کبھی غصے کا اظہار کرتے نہیں دیکھا۔ خود بہت بڑے صحافی ہونے کے باوجود انہوں نے نیوز سیکشن کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ جو تبدیلیاں اخبار کے لے آوٹ میں لانا چاہتے۔ وہ بطور حکم مسلط کرنے کے بجائے ٹیم کے ساتھ مشاورت کے ذریعے لاگو کرتے۔آج اس ایک شخص کی محنت، لگن اور کوششوں کی بدولت ہزاروں خاندانوں کا رزق لگا ہوا ہے۔ جس کا ثواب یقینا انہیں رب کائنات کی طرف سے ملتا رہے گا۔ یوسفی صاحب کا یہ جہاں محنت کی عظمت کی ایک بڑی مثال ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اگلے جہاں میں ہزاروں لوگوں کی دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی دعاوں کے طفیل سکون سے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ یوسفی صاحب کو اپنی بے پناہ رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق