fbpx

عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کی کُرسی پر بیٹھے ہیں۔عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے والوں سے کوئی رورعایت نہیں بھرتی جائے گی۔اے سی چترال عبدالولی خان

چترال (محکم الدین) اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالولی خان نے کہا ہے۔ کہ ہم عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کی کُرسی پر بیٹھے ہیں۔ اس لئے عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہو گا۔ اور ایسے افراد کے خلاف کاروائی کرنے میں کوئی رو رعایت نہیں بھرتی جائے گی۔ جو لوگوں کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ تاہم کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں کی جائے گی۔ صحافت کو چوتھا ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ اور صحافی عوامی مسائل کو اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنے آفس میں چترال پریس کلب کے صحافیوں سے ایک ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کی قیادت صدر پریس کلب صدر ظہیرالدین کر رہے تھے۔ صحافیوں نے چترال شہر کے اندر ریڑھی بانوں کی طرف سے روڈ پر تجاوزات کرنے، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پرایز کنٹرول کا باقاعدہ مکینزم نہ ہونے،بازار میں ناقص، دو نمبر اور زائدالمیعاد اشیاء خوردونوش اور اشیاء صرف کی فروخت، بچوں پر فروخت ہونے والی غیر معیاری اور خراب چپس اور دیگر اشیاء، اور گاڑیوں کے کرایوں میں من مانی اضافے و ایل پی جی کے سیل بند سلنڈر میں کم گیس کی فروخت پر عوام میں پائی جانے والی تشویش سے اُنہیں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ دیگر کئی مسائل زیر بحث آئے۔ اسسٹنٹ کمشنر چترال نے کہا۔ کہ یہ عوام کے بنیادی مسائل ہیں۔ جن کے خلاف قدم اُٹھایا جائے گا۔ ریڑھی بانوں کیلئے علیحدہ جگہ مختص کی جائے گی۔ تاکہ مین روڈز میں پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ چترال میں موٹر گاڑیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ اور پیدل چلنے والوں کو بھی راستہ ملنا چاہیے۔ تاکہ وہ آزادانہ طور پر چل سکیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ کاروبار کرنا پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں۔ کہ عوامی آمدورفت کے راستوں پر ڈیرے ڈال کر لوگوں کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرائز ریویو کنٹرول کے تحت انتظامیہ، عوام اور تاجر باہمی مشاورت سے نرخ بندی کریں گے۔ جس کے بعد نرخنامہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور ناجائز منافع خوری اور مرضی کی نرخ بندی کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ناقص اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والے قوم کے دشمن ہیں۔ اور حکومت کی طرف سے غیر معیاری اشیاء کی باقاعدہ فہرست جاری ہو چکی ہے۔ ایسی اشیاء رکھنے والے دکانداروں کو ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ وہ فوری طور پر اُنہیں تلف کریں۔ بصورت دیگر گرفت کی صورت میں بھاری جرمانے اور قید دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا۔ کہ اب کے بار اگر قیمتوں کا تعین ہو گا۔ تو سختی کے ساتھ اُس پر عملدر آمد کیا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق