fbpx

کراچی میں مقیم چترال اور شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اہل کہوار کے لیے شاندار طرحی و غیر طرحی کہوارمشاہرہ کا انعقاد

کراچی(قاری شمس الدین) کراچی میں مقیم چترال اور شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اہل کہوار کے لیے ربیع الاول کی مناسبت سے شاندار طرحی و غیر طرحی کہوارمشاہرہ جامعہ انوار العلوم شاد باغ ملیر میں منعقد ہوا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چترالی کمیونٹی کے معززین شعراء اور دینی مدارس و کالجز و یونوسٹیوں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی پہلی نشست کی صدارت معروف سماجی کارکن ڈاکٹر فاتح الدین نے کی جس میں معروف ادیب و شاعر مولانا نقیب اللہ رازی کے کلام سے مصرعہ طرح”تہ ذاتہ گیتی ختم نبوت بیرو آقا“ پرسینئر اور نوجوان شعراء نے اپنا م نعتیہ کلام پیش کیا۔دوسری نشست غیر طرحی مشاعرے کی تھی جس میں معروف شعرا مولانا نظام الدین شاکر، اقبال الدین ہمدرد، محمد بیگ طریقی، لطیف الرحمن لطف، شریف حسین مخمور، افضل اللہ افضل، حسین ولی شاہ، منور حسین شاکر،شہباز خان ودیگر نے مختلف سیاسی سماجی ثقافتی اور اصلاحی موضوعات ہر سنجیدہ اور مزاحیہ کلام پیش کیا۔مشاعرے کے آخر میں معروف کالم نگار مولانا محمد شفیع چترالی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ محبت ہر مسلمان کا اثاثہ بھی ہے اور آپ کی ذات والا صفات ہر مسلمان نوجوان کے لیے بہترین رول ماڈل بھی ہے۔آپؐ سے محبت وہ نقطہ اتحاد ہے جس پر اُمت کے مختلف طبقات کو جمع کیا جاسکتا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو فرقہ وارانہ وابستگی سے بالاتر ہوکر سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سیرت کے پیغام کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم چترال اور شمالی علاقوں کے باسی فطرت کے زیادہ قریب رہنے کی وجہ سے بہترین شعری صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ فن شاعری کو باقاعدہ طریقے سے سیکھنے کی کوشش کی جائے۔
جامعہ انوار العلوم کے مہتمم مفتی شفیق الرحمن گلگتی نے ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی پوزیشن لینے والے شعراء میں شیلڈ تقسیم کی اور چترال اور گلگت کے کہوار بولنے والے افراد کا بڑی تعداد میں پروگرام میں آمد پراُن کاشکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق