fbpx

خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے”مارخور ٹرافی ہنٹنگ اسکیم“ کے تحت شکار کے لیے چترال کے لئے تین اور کوہستان کے لیے ایک لائسنس جاری کر دیے

پشاور(چترال ایکسپریس)محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس سال ملکی تاریخ میں لائسنس کے حصول کے لیے سب سے زیادہ بولی لگائی گئی۔
خیبر پختونخوا کے چیف کنزرویٹو وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق کا کہنا ہے کہ ضلع چترال میں تین، جبکہ کوہستان میں ایک لائسنس جاری کیا گیا۔
ڈاکٹر محسن فاروق کے مطابق، چترال میں توشی-ون کے لیے 150000 ڈالرز، توشی-ٹو کے لیے 140000 ڈالر، گہریت کے لیے 95250 ڈالرز جبکہ کوہستان میں کیگا کے علاقے کے لیے 117250 ڈالر کی لیے پرمٹ جاری کیے گئے۔
ڈاکٹر محسن فاروق کا کہنا تھا کہ 90ء کے عشرے میں مارخور کے غیر قانونی شکار کے باعث خیبر پختونخوا (سابق صوبہ سرحد) میں مارخور کی تعداد 200 کے قریب رہ گئی تھی اور پاکستان کے قومی جانور کی نسل کے ختم ہونے کے شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے، جس کے بعد حکومت نے پہلی مرتبہ 98-1997 میں ٹرافی ہنٹنگ اسکیم شروع کی۔
ان کے بقول، اس اسکیم کا بنیادی مقصد مارخور کے شکار کو کنٹرول میں لانا تھا۔ اس کے علاوہ مقامی آبادی کو اس عمل میں شامل کرکے اس نایاب جانور کا تحفظ بھی ممکن بنانا تھا۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع چترال اور کوہستان میں مارخور پایا جاتا ہے۔ یہ جانور بہت زیادہ ٹھنڈے، خشک اور سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے چیف کنزرویٹو وائلڈ لائف نے کہا کہ چترال میں اب مارخور کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ کوہستان میں یہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔
ان کے بقول، ٹرافی ہنٹنگ اسکیم کے تحت ملنے والی رقم کا 80 فی صد حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔
چترال کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف محمد ادریس کے مطابق، ٹرافی ہنٹنگ اسکیم کا بہت مثبت اثر ہوا ہے جس سے علاقے میں نہ صرف یہ جانور محفوظ ہوا ہے بلکہ مقامی آبادی میں خوش حالی بھی آ رہی ہے۔
ان کے مطابق، صرف چترال میں ہی مقامی افراد نے کافی سارے ترقیاتی کام کیے ہیں جس میں اجتماعی حجرہ اور مساجد، آب پاشی کے چینلز، ہائیڈل پاور اسٹیشن سمیت مارخور کے تحفظ کے لیے چوکیدار رکھنا بھی شامل ہے۔
محمد ادریس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز دسمبر میں شروع ہوتا ہے، جبکہ اس کا سیزن مارچ تک جاری رہتا ہے۔ شکاری اپنے شکار کے لیے ہتھیار اور عملہ ساتھ لاتے ہیں۔
چترال کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف کے بقول، شکاری اپنا پرمٹ لے کر متعلقہ علاقے میں جاتا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ ان کو لے کر پہاڑوں میں جاتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ وائلڈ لائف مارخور کے شکار سے پہلے اس علاقے کا سروے کرتا ہے۔ اس کے بعد شکاری کو بتایا جاتا ہے کہ اس نے کس نوعیت کے مارخور کا شکار کرنا ہے۔ وہ اپنی مرضی کا شکار نہیں کر سکتا۔
حکام کے مطابق، شکاری کم عمر اور مادہ مارخور کا شکار نہیں کر سکتے۔ شکاریوں نے چھ سال سے زائد عمر کے مارخور کا ہی شکار کرنا ہوتا ہے۔ چھ سال سے زائد عمر کے مارخور کے سینگ بڑے ہوتے ہیں جبکہ اس کی افزائش نسل کی استعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔
وائلڈ لائف کے اہلکاروں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسا مارخور کس رینج کے درمیان اپنا بسیرا کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک مارخور چترال سے کوہستان چلا جائے بلکہ وہ اپنی حدود میں ہی رہتا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں کے مطابق، عام طور پر مارخور صبح سویرے اور شام کے وقت حرکت کرتا ہے۔ مارخور کا شکار صبح سویرے ہی ممکن ہوتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مارخور جہاں رہتا ہے وہ اسی طرز کا رنگ اپنا لیتا ہے اور بہت قریب سے بھی یہ تک پتہ نہیں چلتا کہ یہ سامنے شہ مارخور ہے یا پھر کوئی پتھر ہے۔
چترال کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف کہتے ہیں کہ شکاری کو بہت احتیاط سے فائر کرنا ہوتا ہے، کیونکہ فائر مس ہونے کی صورت میں مار خور بھاگ جاتا ہے اور پھر یہ انسان کے رینج میں نہیں آ سکتا۔ تاہم اس صورت میں شکاری کے پاس دوسرے فائر کا آپشن ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارخور کی عمر 15 سال ہوتی ہے۔ یہ آزاد حرکت کا عادی جانور ہے، اس کی خوراک گھاس اور پتے ہوتے ہیں۔ مار خور گوشت خور جانور نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مارخور انتہائی سخت جانور ہے، جبکہ یہ 90 ڈگری کی پہاڑی پر بھی بہت تیز دوڑتا ہے۔
محمد ادریس کے مطابق، جہاں کہیں بھی مارخور پایا جائے گا وہاں برفانی چیتا بھی پایا جاتا ہے کیونکہ یہ برفانی چیتے کی خوراک ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برفانی چیتا مارخور کی پھرتی برقرار رکھنے میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ جب وہ ان کے پیچھے بھاگتا ہے تو اس سے مارخور کی اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ جسمانی طور پر فٹ رہتا ہے۔
چترال کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف کا کہنا تھا کہ اگر کسی جگہ برفانی چیتے نہ ہوں تو مارخور کی تعداد اضافے سے ماحولیات پر برا اثر پڑتا ہے۔ مارخور جڑی بوٹیاں اور درختوں کے پتے کھاتا ہے اور درخت درجہ حرارت کو کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ درختوں کے خاتمے کے باعث پھر سیلاب آنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے چیف کنزر ویٹو وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق کے مطابق، پاکستان ہر سال صرف 12 لائسنس ہی جاری کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر محسن کے مطابق، عمومی طور پر امریکہ اور یورپی ممالک کے شکاری پاکستان آتے ہیں، کیونکہ وہاں نایاب جانور کا شکار بہت بڑا کھیل سمجھا جاتا ہے۔ شکاری اس کے سینگ اپنے پاس عمر بھر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مارخور کی تعداد میں اب چونکہ خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تو اس ضمن میں بین الاقوامی برادی کو پاکستان کے لائسنس کوٹہ میں اضافہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس نے ایک خاص عمر کے بعد ویسے ہی طبعی موت مر جانا ہوتا ہے۔ ہنٹنگ ٹرافی کے لائسنس میں اضافے سے مقامی افراد کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو گا۔
ڈاکٹر محسن کہتے ہیں کہ اب علاقے میں شکار کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے، کیونکہ مقامی افراد اس کے تحفظ کو اپنا معاش سمجھتے ہیں۔
بشکریہ :Urdu VOA

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق