fbpx

حکومت اور طبی ماہرین کیلئے چیلنج

…………….تحریر: محمد شریف شکیب………

گذشتہ چند سالوں کے اندر خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع چترال اور ملحقہ علاقوں میں عارضہ قلب سے ملتی جلتی ایک بیماری وبائی شکل اختیار کر گئی ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق رواں سال کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں سو سے زیادہ افراد اس مرض کا شکار ہوئے ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کہ اس مرض سے جانیں گنوانے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ ضلع اپرچترال کے گاوں ریشن میں گذشتہ چھ مہینوں کے دوران آٹھ افراد اس مہلک مرض کا نوالہ بن گئے۔ جن میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادمیں زیر تعلیم ایک طالبہ بھی شامل ہیں۔اس پراسرار بیماری کا حملہ اچانک ہوتا ہے۔ عام طورپر ڈاکٹر اور طب کے شعبے سے وابستہ لوگ اسے عارضہ قلب قرار دیتے ہیں لیکن اس کی علامات عارضہ قلب سے بہت مختلف ہیں۔دل کے امراض کی علامات واضح اور قابل شناخت ہوتی ہیں۔ جن میں بائیں بازو اور گردن سمیت سینے میں شدید درد اٹھنا، چکر آنا، پسینے چھوٹنا اور رعشہ طاری ہونا شامل ہیں۔ اس کے برعکس اس پراسرار بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد چند منٹوں کے اندر بیٹھے بٹھائے لڑکھڑا کر گر تے اور جان سے گذر جاتے ہیں۔ عارضہ قلب سے مشابہہ اس مرض کے علاوہ چترال میں سرطان کے مرض میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ دس مہینوں کے اندر ضلع بھر میں دو سو سے زیادہ افرادسرطان میں مبتلا ہوئے ہیں جن میں سے بیشتراس مرض کاشکارہوکر ابدی نیندسوگئے اوردرجنوں افراد ابھی تک ملک کے مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔اور زندگی کی باقی ماندہ سانسیں گن رہے ہیں۔میڈیکل سائنس کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت وہ امراض اب قابل علاج ہوچکے ہیں جو تین چار عشروں پہلے مہلک اور ناقابل علاج سمجھے جاتے تھے جن میں تپ دق،یرقان،چیچک،خسرہ، لیپروسی شامل ہیں آج ان بیماریوں کا نزلہ،زکام،موسمی کھانسی، سردرد وغیرہ کی طرح چند دنوں میں کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔ تاہم نئے نئے امراض جنم لے رہے ہیں جن میں سے بعض پرتحقیق ہوچکی ہے اور ان کا علاج بھی دریافت ہواہے تاہم بعض بیماریاں ابھی تک طبی ماہرین اور سائنس دانوں کے لئے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔چترال میں سرطان اور عارضہ قلب سے مشابہہ پراسرار مہلک بیماری بھی ان میں سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ان بیماریوں کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موسمی تغیرات کاان امراض کے پھیلاو میں عمل دخل ہے۔ بعض صاحب الرائے حضرات اسے گلیشئر کے پانی کا اثر بتاتے ہیں جسے چترال کے بیشتر علاقوں میں پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اکثر لوگوں کا کہناہے کہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی اور وہاں روسی اور امریکی فوج کی طرف سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ فضاء آلودہ ہوچکی ہے اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے اس فضائی آلودگی کے منفی اثرات چترال میں ظہور پذیر ہورہے ہیں۔اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ،بارشیں کم ہونا اور دیگر عوامل کو بھی مہلک امراض کاسبب قرار دیا جارہا ہے۔ضلع میں ذہنی امراض میں بھی حالیہ سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ضلع بھر میں 45افراد خود کشی کرچکے ہیں جن میں اکثریت پندرہ سے پچیس سال کی عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہے۔طبی ماہرین ذہنی امراض کی وجوہات میں غیر صحت مندانہ تعلیمی مسابقت، محبت میں ناکامی، غربت، بے روزگاری اور خاندانی ناچاقی کو شمار کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کاکہنا ہے کہ ذہنی بیماریوں میں اضافے سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس مرض کو لوگ بیماری تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی طور پر بیمار بچوں کے علاج پر فوری توجہ نہیں دی جاتی اور وہ رفتہ رفتہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ذہنی امراض کا صرف بڑے شہروں میں علاج کی سہولت میسر ہے۔ ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتالوں میں ذہنی امراض کاکوئی شعبہ ہوتا ہے نہ ڈاکٹر۔ لوگ اپنے پیاروں کو علاج کے لئے پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں لے جانے پر مجبور ہیں۔ساڑھے چار پانچ لاکھ کی آبادی والے علاقے میں ایک سال کے دوران سرطان اور پراسرار مرض سے ہونے والی ہلاکتیں صوبائی اور وفاقی حکومت، صحت کے اداروں اور شعبہ صحت میں کام کرنے والی ملکی اور بین الاقوامی این جی اوز کے لئے چیلنج ہیں۔طب پر تحقیق کرنے والی والے سائنس دانوں اور یونیورسٹیوں کو بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔ تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے اور ان آفات ناگہانی کی وجوہات اور اسباب کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے کیا جاسکتا ہے؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق