fbpx

دھڑکنوں کی زبان…..ہم کسی کو کیسے ڈرائیں

…..محمد جاوید حیات….
انسان کی زندگی ایک کشمکش سے کم نہیں ایک حال میں نہیں رہتی۔ابھی غم ابھی خوشی۔۔ادھر آنسو ادھر مسکراہٹ۔۔یہاں مرگ وہاں حیات پل کو خوف پل کو امن۔۔ابتدائے افرینش سے یہ کشمکش ہے۔۔یہ لو انسان سورج سے ڈرا اس کو دیوتا مانا۔۔یہ لو آگ کے سامنے بے بس ہوا اس کی پرستش کرنے لگا۔۔یہ لو درندوں کی طاقت سے خائف ہوا شیر کو نجات دہندہ مانا۔۔بادشاہوں کی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالاتو سجدہ کرنے لگا۔فرغون کو خدا ماننا انسان کی مجبوری تھی اس کے پاس اتنی طاقت نہیں تھی۔اللہ نے جب ہدایت کیلئے اپنے نمائندے نہیں بھیجے تب انسان شتر بے مہار رہا اس لئے وقتا فوقتا بھیجتا رہا مگر انسان کی ایک صفت نسیان ہے بھولتا رہا۔۔تب اس کے پاس نہ قانون تھا نہ اصول تھے۔۔بس طاقت کی حکمرانی تھی۔۔طاقت والا کسی سے ڈرتا نہیں تھا اس سے ڈر نے والے سب تھے لیکن دنیا نے ایک دور دیکھی۔جب رسول مہربان ﷺ تشریف لائے کتاب ہداء کا پہلا سبق پڑھایا۔۔اللہ کی وحدانیت کا درس دیا۔۔اس کے بعد سب دوسروں کومخاطب کرکے کہنے لگے کہ ”اللہ سے ڈرو“ ۔۔لوگو! اللہ سے ڈرو۔۔اللہ پہ ایمان پختہ ہوا تو آخرت کی زندگی پہ ایمان پختہ ہوا۔۔حساب کتاب پہ ایمان پختہ ہوا۔۔اللہ کے اس حکم پہ ایمان پختہ ہو۔۔ا۔۔خیر اور شر کے ذرے ذرے کا حساب ہوگا۔۔تب حکمران رعایا سے کہتا ”لوگو!اللہ سے ڈرو“۔۔۔رعایا حکمران سے کہتے۔۔ارے حکمران! ”اللہ سے ڈرو“۔۔اس وجہ سے سب اللہ سے ڈرتے۔اور اس مختصر جملے نے سارے معاشرے کوبدل کے رکھ دیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ جملہ سب کے دلوں سے اُتر گیا۔۔رخصت ہو ا۔۔بھلا دیا گیا۔۔آخرت کا سبق یادنہیں رہا تب انسان پھر سے باغی بن گیا۔دنیا کی عارضی زندگی میں انسان جتنا بھی قوی، مضبوط اور طاقتور کیوں نہ ہو اس کو زوال ہے۔دنیا کے عظیم بادشاہ یہاں سے گئے وہ اصلاح نہ لا سکے انھوں نے ظلم و بربریت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ ان کو سن کررونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔اب کی بار دنیا میں بے سکونی اور افراتفری کیوجہ یہ ہے کہ ہم نے کتاب ہدیٰ کا وہ سبق بھلا دیا۔بظاہر دنیا کے ملکوں میں قانون ہیں۔۔اصو ل ہیں۔۔آئین ہے مگر اس سے کوئی کسی کو نہیں ڈراتا۔کوئی نہیں کہتا کہ خدا کے بندے آئین سے ڈرو۔۔۔ہم ملک خداداد میں آئین و قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرنے والوں کوبھی سوچناچاہیے کہ ہم اس ملک خداداد کو اللہ کے نام پہ حاصل کیاتھا مگر ہم پھر کبھی اللہ سے (نغوذوباللہ) نہیں ڈرے۔۔نہ خدا یاد آتا ہے۔۔الا ماشااللہ کسی کو یاد آتا ہو۔۔استاد کوکلاس روم میں خدا یاد نہیں آتا۔کوئی آواز اس کوسنائی نہیں دیتی۔۔کہ استاد وقت ضائع نہ کرو اللہ سے ڈرو۔۔آفیسر کواس کے دفتر میں یہ آواز سنائی نہیں دیتی۔۔”اے ذمہ دار آفیسر اللہ سے ڈرو“۔سیاست دان کو سنائی نہیں دیتا۔۔”اے سیاست دان لوگوں کے حقوق کے بارے میں اللہ سے ڈرو“۔۔پولیس کوسنائی نہیں دیتی۔۔”اے محافظ!لوگوں کی حفاظت کے بارے میں اللہ سے ڈرو“۔۔نہ بچوں کووالدیں کے بارے میں۔۔نہ بیوی کومیاں کے بارے میں۔۔سب یہ آوز بھول چکے ہیں۔۔دنیاسنسان ہے۔۔وہ کیا سماں ہوگا جب اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہونگے۔۔”اے لوگو!اللہ سے ڈرو“۔۔اور لوگ ڈر رہے ہونگے۔۔ہمارے معاشرے میں بے سکونی کی بنیاد یہی دین سے دوری ہے۔۔انسان کا بنایا ہوا قانون کہیں نہ کہیں جھول کھاتا ہے۔۔مغرب پھانسی کوغیر انسانی فعل کہتا تھا ہمارے مغرب نواز سکالرز کابھی یہی راگ تھا جوالاپ رہے تھے لیکن کچھ ایسے جرم ان کے سامنے سر زد ہوئے کہ وہ بھی اس قانون کے سامنے بے بس ہوگئے۔یہی خدائی قانون ہے جس میں انسان کی فلاح ہے۔ان خدائی قوانین پر اغیار نہ چاہتے ہوئے بھی عمل پیرا ہوئے تو ترقی کر گئے۔سنجیدگی، سچائی اور مسلسل محنت نے ان کو کہا ں سے کہاں تک پہنچا دیا۔انسان مجبور محض ہے۔لیکن اس کی نجات قانون ہے۔۔قانون کا ہاتھ مضبوط ہوگا تو ایک دوسرے کو ڈرانے کی سبیل نکل آئے گی۔۔اب ہماری حالت یہ ہے کہ ہم چور کو ایس ایچ او سے نہیں ڈراسکتے۔مجرم کو عدالت سے نہیں ڈرا سکتے۔سیاست دان کو قوم سے نہیں ڈرا سکتے۔ماتخت کو آفیسر سے نہیں ڈرا سکتے۔شاگرد کو استاد سے نہیں ڈرا سکتے۔بیٹی کو ماں سے نہیں ڈرا سکتے۔بیٹے کوباپ کا خوف نہیں دلا سکتے۔تب کو یہ جنگل ہے۔۔ہم انفرادی ذمہ داری کا سبق بھول چکے ہیں۔۔اپنا فرض بھول جاتے ہیں۔حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں انصاف کا تقاضہ ہے کہ اپنا احتساب کریں۔۔کیا کوئی حکمران ہر روز کسی دکان میں آکر نرخ نامہ چیک کر سکتا ہے۔۔کسی انجینئر کا کام روز چیک کرسکتا ہے؟ کسی کلاس روم میں بیٹھ کر روز استاد کی کارکردگی چیک کر سکتا ہے؟یہ بالکل ممکن نہیں۔البتہ ایک چیز ممکن ہے کہ کسی نہ کسی کو عبرت کا نشان بنایا جائے تب بے راہروی رک سکتی ہے۔۔اس لئے قرآن عظیم الشان نے قصاص کو حیات کہا۔۔جتنا جرم سنگیں ہوگا اتنی سزا سنگیں ہونی چاہیے۔۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہرکام کو حکمران پہ تھوپتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ حکمران اپنا ہے۔۔اپنی عزت ہے اپنا ناموس ہے۔اس کا احترام رعایا پہ لازم ہونا چاہیے۔۔مگرہم کسی کواس احترام سے ڈرا نہیں سکتے۔۔ہاں اپنے آپ سے اور اپنی کوتاہیوں سے ڈرنا زندہ قوموں کی صفت ہوتی ہے۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق