fbpx

پٹرول ہیلمٹ سے مشروط

…….محمد شریف شکیب……..

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے موٹر سائیکل سواروں کے لئے پٹرول کی فراہمی ہیلمٹ پہننے سے مشروط کردی۔ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے شہر کے تمام پٹرول پمپ مالکان اور منیجروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بغیر ہیلمٹ پہنے کسی موٹر سائیکل سوار کو پٹرول فراہم نہ کیا جائے۔ ضلعی انتظامیہ نے پٹرول پمپ مالکان کو تنبیہ کی ہے کہ حکم عدولی کی صورت میں پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت مالکان او رمنیجرز کو ایک لاکھ روپے جرمانہ یا تین سال قید یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ اس بہانے عوام کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ پرائس کنٹرول ایکٹ نام کا کوئی قانون بھی موجود ہے۔کل کلاں یہی قانون اشیائے خوردنی میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کے خلاف بھی حرکت میں آسکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا فرمان شاہی سرآنکھوں پر۔ بغیر ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل چلانے والوں کو تیل ڈلوانا تو دور کی بات، پٹرول پمپ کے دائرے میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن کسی پٹرول پمپ پر موجود اہلکار نے اپنے کسی دوست، رشتہ دار،جاننے والے یا عام مسافر کو ترس کھاکر ہیلمٹ کی شرط کے بغیر پٹرول دیدیا تو کیسے پتہ چلے گا۔ظاہر ہے کہ تین سال قید کاٹنے یا ایک لاکھ جرمانہ بھرنے کے شوق میں خود پٹرول پمپ والے جاکر رپورٹ نہیں کریں گے کہ آج ہم نے بغیر ہیلمٹ کے کتنے موٹر سائیکل سواروں کو تیل دیدیا۔ ممکن ہے کہ ضلعی انتظامیہ شہر کے تمام پٹرول پمپوں پر خفیہ کیمرے نصب کروائے اور ڈی سی ہاوس میں تمام کیمروں کی مانیٹرنگ کی جائے۔ مگر سردست ایسا کرنا ممکنات میں سے دکھائی نہیں دیتا۔ کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے کے حق میں ہیں۔ سردیوں کے موسم میں ہیلمٹ ٹھنڈ اور گردوغبار سے بچانے کا بھی اہم ذریعہ ہے، کسی حادثے کی صورت میں بغیر ہیلمٹ والوں کے سرمیں چوٹ لگنے کی صورت میں مرنے کے امکانات 80فیصدزیادہ ہوتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں کچی سڑکوں پر تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلانے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے حادثات اور اموات کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔ شہر کے ہسپتالوں میں روزانہ پشاور، نواحی علاقوں اور صوبے کے دیگر اضلاع سے سر میں چوٹ لگے درجنوں زخمیوں کو لایا جاتا ہے۔ جن میں سے اکثریت طبی امداد ملنے یا ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔شہریوں کو ہیلمٹ پہننے کی ترغیب دینے کے لئے ٹریفک پولیس مفت ہیلمٹ بھی تقسیم کرتی رہی ہے اور بغیر ہیلمٹ والوں کا چالان کرکرکے بھی پولیس تھک چکی ہے مگر اس جنجال کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ ہمارے ایک دوست ٹریفک وارڈن نے ایک دن ایسے ہی موٹر سائیکل سوار کا ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان کردیا۔ اگلے دن ایک شخص ہیلمٹ پہنے فٹ پاتھ پر پیدل جارہا تھا۔ ٹریفک وارڈن نے اسے روکا اور چالان کرنے لگا، مسافر نے حیران ہوکر پوچھا کہ کس بات کا چالان کررہے ہو۔ کل مجھے ہیلمٹ پہنے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر چالان کرچکے ہو۔ ٹریفک وارڈن نے جواب دیا کہ کل اس لئے چالان کیا کہ تمہارے پاس موٹر سائیکل تھی اور آج اس لئے چالان کر رہا ہوں کہ تمہارے پاس ہیلمٹ تو ہے مگر موٹر سائیکل نہیں ہے۔ خیر یہ بات برسبیل تذکرہ آگئی، اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ پہننے کا پابند کیسے بنایاجائے۔اس کے لئے قوانین بھی موجود ہیں حکومت، انتظامیہ، پولیس اور سول سوسائٹی کی طرف سے مہمات چلائی گئیں لیکن صورتحال کنٹرول میں آتی نظر نہیں آتی،موٹر سائیکل سواروں کے لئے پٹرول کی فروخت ہیلمٹ سے مشروط کرنے کے حوصلہ افزاء نتائج کی توقع تو ہے لیکن تیل بیچنے والوں کو پابند بنانا کافی مشکل لگ رہا ہے۔یہاں مشتاق احمد یوسفی مرحوم کی شہرہ آفاق کتاب کو ایک پیرا مجھے یاد آگیا، کہتے ہیں کہ ان کے دوست مرزا نے بے روزگاری سے تنگ آکر کتابوں کی دکان
سجادی۔ مرزا اپنے اصولوں کے بڑے سخت تھے۔ جو لکھاری اسے ناپسند ہوتا۔ اس کی کتاب اپنی دکان پر قطعی نہ رکھتے۔ خواہ اس کی کتنی ہی ڈیمانڈ کیوں نہ ہو۔ اور جس شاعر اور ادیب کی کتاب اسے پسند ہوتی۔ اسے برکت کے لئے اپنی دکان پر سجائے رکھتے۔ کوئی خریدنا بھی چاہئے تو صاف انکار کردیتے۔ آج مرزا کے مزاج والے پٹرول پمپ مالکان کہاں ملتے ہیں جو قانون اور اصولوں پر اپنا کاروبار قربان کریں۔بہرحال ہماری نیک خواہشات اور دعائیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہیں۔خدا کرے کہ ان کی کاوشیں رنگ لے آئیں اور ہماری قوم کے بچے ننگے سر موٹر سائیکل چلانے اور ون ویلنگ جیسے خطرناک شوق سے قانون کی گرفت میں آنے کے ڈر سے ہی توبہ کرلیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق