تازہ ترین

سپریم کورٹ میں چترال کے کیمپس میں یونیورسٹی ملازمین کو باقاعدہ بنانے سے متعلق کیس کی سماعت، رجسٹرار (ایس بی بی یو) کو طلب

اسلام آباد (چترال ایکسپریس)سپریم کورٹ نے چترال کے کیمپس میں یونیورسٹی ملازمین کو باقاعدہ بنانے سے متعلق ایک کیس میں رجسٹرار شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی (ایس بی بی یو) کو طلب کیا ہے جو کہ اب یونیورسٹی آف چترال کے قیام کے بعدیونیورسٹی میں ضم ہوگئی.۔


جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے ملازمین کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

کارروائی کے دوران، بینچ نے مشاہدہ کیا کہ چترال کیمپس اب ایک یونیورسٹی بن گیا ہے اور ملازمین کو باقاعدہ بنانا یونیورسٹی کے دائرہ اختیار میں تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس خاطر خواہ بجٹ نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ جب بجٹ نہیں تھا تو یونیورسٹی نے دوبارہ پوسٹوں کی تشہیر کیوں کی؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے تعلیم کو بزنس سمجھنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ملازمین کو ان کی قابلیت کے لحاظ سے باقاعدہ بنایا جانا چاہئے اور بھرتییاں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔

یونیورسٹی کے وکیل نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام اخراجات اپنے بجٹ سے اُٹھائے جاتے ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے کوئی فنڈ نہیں ملا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر ایچ ای سی نے بجٹ مختص نہیں کیا تو کیا یونیورسٹی تمام ملازمین کو نکال دے گی؟ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی ایسے ملازمین کو نہیں ہٹا سکتی جس کی کارکردگی اچھی تھی۔

یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ 2017 میں چترال کے سب کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ مل گیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ نئے ایکٹ میں کنٹریکٹ ملازمین کے بارے میں کیا لکھا گیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ یونیورسٹی اور ملازمین کے مابین معاہدہ ہوا ہے۔

ملازمین کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ملازمین کو باقاعدہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سالوں سے ملازمین کو باقاعدگی کے باوجود کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

بعدازاں، عدالت نے یونیورسٹی کے رجسٹرار کو طلب کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق