fbpx

چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات، موضوع پر ضلعی انتظامیہ اورشہید اسامہ وڑائچ کیرئیراکیڈمی کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

چترال (نمائندہ چترا ایکسپریس) چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات،اسباب،علامات اور تدارک کے موضوع پر ضلعی انتظامیہ اور شہید اسامہ وڑائچ کیرئیراکیڈمی کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر فاضل مقالہ نگار نے خودکشی کے اسباب،علامات اور تدارک کے موضوع پر اپنے مقالوں میں اس قبیح فعل کی کئی وجوہات پر روشنی ڈالی ۔ ڈسٹرکٹ خطیب مولانا فضل مولیٰ نے کہا کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور جو اپنی زندگی کا خاتمہ اپنی مرضی سے کرتاہے وہ بہتبڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے رویے ہمارے بچوں اور بچیوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خواتین میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان بارے بلال احمد نے کہا کہ گھریلو ناچاقی اوردوسرے وجوہات اس کی وجہ بنتے ہیں ۔ الواعظ علی اکبر قاضی زندگی ایک نعمت کے موضوع پراپنے پر مغز خطاب کرتے ہوئے حاضرین سے داد حاصل کی۔ اس موقع پر محمد عالمگیر بخاری ام کلثوم اور ڈائریکٹرشہید اُسامہ اکیڈیمی فدا الرحمن نےبھی خودکشی کے موضوع پر تقریر کی۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر لوئیر نویداحمد اورڈپٹی کمشنراپرچترال شاہ سعود نے بالترتیب خودکشی کو ایک قبیح فعل قراردیتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے ضلع کی سطح پر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق