fbpx

نرسنگ کی تاریخ, نرسز کا مستقبل اور تبدیلی سرکار

…….ناصر علی شاہ

نرسنگ صرف انجکش لگانے کا نام نہیں بلکہ وینٹی لیٹر میں پڑی اس مریض کو بچانے کا نام ہے جس کی پروگنوسس ایک فیصد ہوتی ہے اور کمیونٹی میں اس کردار کا نام ہے جو مرض سے پہلے آگاہی و شفا کا کام کرتی ہے مگر آفسوس پاکستان میں اس پیشے کی اہمیت کو کبھی سمجھنے کی کوشش کی گئی نہ تو اس کو پروموٹ کیا جا رہا.
نرسنگ پروفیشن کی ایک تاریخ ہے جو انتہائی سست روی کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے. نرسز موجودہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں پیشے کے لحاظ سے قابل اعتبار اور قابل بھروسہ افراد ہیں، جو بیمار کا علاج اور طبی دیکھ بھال میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہے.
نرسنگ پیشہ جو صحت مند لوگوں کے ساتھ ساتھ بیماروں, زخمیوں, معزوروں اور مرنے والوں کی مسلسل دیکھ بھال کی زمہ داری قبول کرتا ہے طبی اور معاشرتی تربیت شدہ افراد, خاندانوں اور کمیونٹی کی صحت کی حوصلہ افزائی کا بھی زمہ دار ہے. نرسز صحت کی دیکھ بھال میں تحقیق, انتظامی, پالیسی اور مریضوں کی ایڈوکیسی میں سرگرم عمل ہیں.
نرسنگ کا پیشہ 300 قبل از مسیح میں رومی سلطنت کے عروج کے دوران فروغ پائی. قسطنطنیہ کے اندر ہسپتال تشکیل دے کر ڈاکٹروں کے ساتھ میل فی میل نرسز ٹرین کئے گئے اور نرسنگ شعبے کو آگے لے جانے میں مدد کی گئی مگر یہ سالم حقیقت ہے نرسنگ کا فروع اور پھیلاو یورپ میں کیتھولیک چارج کے زریعے ہوئی.
تاریخ اسلام کو اٹھا کر دیکھا جائے تو اسمیں نرسنگ پیشے کے گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے. تاریخ اسلام کی پہلی پیشہ ور مسلمان نرس روفائیدہ بنت سعد (روفائیدہ ال اسلامیہ) نامی خاتون تھی جنہوں نے نرسنگ کی تعلیم و تربیت اپنے والد سے جو ایک معالج تھا سے سیکھی. یہ نرس پہلی مسلمان خاتون تھی جنھوں نے ولینٹرز نرسز لیکر حضرت محمد صلی اللہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیکر زخمیوں کی مرہم پٹی, پانی پلانا اور شہیدوں کی جسد خاکی کو احترام کے ساتھ پیک کئے.
مسلمانوں کی مدینہ میں ریاست قائم ہونے کے بعد حضرت محمد صلی اللہ وسلم نے نرس رفائیدہ کو بلا کر عورتوں اور لڑکیوں کو نرسنگ شعبے کے ساتھ منسلک کرکے تربیت دینے کے بعد مریضوں کی خدمت کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا اور بعد میں یہی نرس مسجد کے باہر بیٹھ کر مریضوں کا معائنہ بھی کیا کرتے تھے.
1860ء میں رویال خاتون سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئی جس نے بعد میں جدید نرسنگ کی بنیاد رکھی اس درد دل رکھنے والی خاتون کا نام فلورنس نائٹ اینگل تھی اگر چاہتی تو آرام سے زندگی گزار سکتی تھی مگر دکھی انسانیت اور مریضوں کے لئے دل میں خدمت کا جذبہ رکھ کر نہ صرف خدمت کی بلکہ نرسنگ پیشے کو بھی اعلی مقام تک پہنچایا. یہ نرس, نرسز کو تربیت دینے کے بعد مریضوں کی خدمت پر معمور کرکے تنخواہ اپنے جیب سے دیتی تھی.
پاکستان بننے کے بعد 7 ڈے ہسپتال کراچی سے ٹریننگ دیا جاتا تھا جسمیں بہت ہی کم لوگ آتے تھے یہی وجہ تھی کہ اس وقت نرس, مریض ریشو 1:32000 تھا. اسی بنیاد پر ہی 1951 میں پاکستان نرسنگ کونسل کی بنیاد رکھا گیا اور ٹاسک دیا گیا کہ نرسنگ شعبے کے اوپر بھرپور کام کیا جائے اس کے بعد 1952 پھر 1973 میں بہترین قانون سازی کی گئی مگر افسوس اس کے اوپر عمل در آمد صحیح معنوں میں نہیں ہوئی اگر کی گئی ہوتی تو پاکستان کے نرسز آج قابلیت اور مہارت میں امریکہ یا کینیڈا کو پیچھے چھوڑے ہوتے.
1983 کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی اسی پیشے کو آگے لیجا کر دکھی انسانیت کی خدمت کو لیکر نرسنگ سکول و میڈوائف کا افتتاح کیا جس کی کڑی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی مسلمان خاتون نرس روفائیدہ سے ملتی ہے. اس ہسپتال سے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نرسز اور مڈوائف گریجویٹ ہوئے اور ہسپتالوں سمیت دیہات میں کام کرنا شروع کئے ڈاکٹروں سے پہلے یہی مڈوائف اور نرسز نے دیہاتوں میں خدمت شروع کی یوں کچھ سالوں میں اسی ادارے کی بدولت نرسنگ پورے ملک میں ایک منفرد پیشے کے طور پہ پروموٹ ہوئی
1988ء میں اس عظیم پیشے کی حقیقت جاننے کے بعد زیادہ تعداد میں میل نرسز بھی اس شعبے کے ساتھ منسلک ہونا شروع ہوگئے اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ لیکر نرسنگ پروفیشن میں قدم جمانے شروع کردیئے اور آج پورے ملک میں میل/ فی میل نرسز بہترین انداز میں دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں.
میں شکوہ کرونگا پاکستان نرسنگ کونسل سے, جو نرسنگ شعبے کی پروموشن صحیح انداز میں نہیں کر سکے تعداد تو بڑھا دئیے مگر کوالٹی ایجوکیشن کا نظام رائج کروانے میں ناکام رہے, ہسپتالوں میں نرسز کی صحیح کام کی نشاندہی, پاکستان کے ہسپتالوں میں ایک نظام اور غلط نسخے کو روکنے کے اختیارات دینے میں ناکام رہے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے آزاد شعبہ قرار دینے کے باوجود نرسز کو غلامی کی زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا.
نرسنگ شعبے کو پروموٹ کرنے کا مقصد مریضوں کی بہترین خدمت ہے مگر سابق صدر جنرل مشرف کے علاوہ کسی حکمران نے اس شعبے کو اہمیت نہیں دی ,جو دی وہ عالمی ادارہ صحت کے پریشر کی وجہ سے اور اس کو دکھانے کے لئے بس.
ہمارے ایسوسیشز جن کو سلیکڈ یا الیکڈ کرکے لایا جاتا رہا اپنے پروفیشن کو اپ گریڈ کروانے میں تا حال ناکام رہے ہیں . یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہماری زوال/ پستی میں ایسوسی ایشنز کا اہم کردار شامل ہے.
موجودہ تبدیلی سرکار نے تو انتہاء کردی. باہر سے اسکالرشپ دیکر جدید کورسز کروا کر مریضوں کی اچھی خدمت کروانے بجائے جو سٹوڈنٹس اچھی تعلیم کے لئے آگے آرہے تھے ان کی تنخواہ میں کٹوتی شروع کروا دی. گورنمنٹ نرسنگ کالج جو کم فیس میں بہترین پروفیشنل تعلیم مہیا کر رہی تھی اس میں داخلے بند کروا دی, کیونکہ منصوبہ نجکاری کا ہے. خیبر پختونخواہ کے اندر گورنمنٹ نرسنگ سکولز جن کی داخلہ تین مہینے پہلے ہونی تھی ابھی تک کچھ پتہ ہی نہیں. صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ نرسز کی کمی کا سامنا ہے مگر ان اداروں میں داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے کم سے کم 2000 سٹوڈنٹس اس سال نرسنگ نہیں کر سکیں گے اور معاملے کو کوئی ذی شعور بندہ ہی سمجھ سکتا باقی تو ٹماٹر کی جگہ دہی کا ہی مشورہ دے سکتے ہیں . 5 سال پہلے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے میڈیکل ٹیچینگ انسٹیٹوٹ کا نام تو دئیے مگر افسوس ابھی تک ان ہسپتالز میں پروفیشنل ایجوکیشن سسٹم متعارف کروانے میں ناکام ہیں جب سمسٹر کے حساب سے ٹرینگ نہیں کروائینگے تو مریضوں کو جدید علاج اور نرسنگ کئیر کیسی ملے گی. آب تو ان ہسپتالوں میں جینڈر ڈسکریمنشن بھی شروع ہو چکا مگر آفسوس پاکستان نرسنگ ایکشن لے رہی ہے اور نہ حکومت, اس پروفیشن کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جس کا اثر مریضوں کے ساتھ پروفیشنل پر بھی پڑ رہا ہے.
میری وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب, وزیر اعلی محمود خاں صاحب سے گزارش ہے کہ خدارا نرسنگ پروفیشن کی طرف توجہ دیجئے اس پروفیشن کو سخت قانون اور تنگ ماحول میں رکھنے کے بجائے آزاد ماحول میں رکھکر کوالٹی پروفیشنل تعلیم عام کیا جائے تاکہ پاکستان سے شرح امراض کے ساتھ شرح اموات پر بھی قابو پایا جاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق