fbpx

غلامی سے نجات کا دن

……محمد شریف شکیب……

Advertisements

پاکستان سمیت دنیا بھر میں غلامی سے نجات کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے ملک کے مختلف شہروں میں آگاہی واکس، سیمینارز اورتقریبات کاانعقاد کیاگیا۔یہ دن منانے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ، بچیوں کی جبری شادی،چائلڈ لیبر کی بدترین شکلیں،جنسی استحصال جیسے سنگین جرائم سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے جبکہ غریبوں،نسلی گروپوں،اقلیتوں، تارکین وطن اورنادار خواتین کے ساتھ نارواسلوک کے خلاف اظہار ہمدردی کرنا ہے۔ خواتین، بچوں، مذہبی، نسلی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں شعور بیدارکرنا بھی اس دن کے مقاصد میں شامل تھے۔تاکہ لوگوں کو غلامی اورآزاد زندگی کا فرق معلوم ہو سکے اور حکومتوں کو عوامی حقوق تسلیم کرنے اور لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پر قائل کیا جا سکے۔انسانی تہذیب کی تاریخ جتنی پرانی ہے غلامی کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔دنیا کے ہر خطے میں طاقتور اپنا اثرورسوخ دکھانے کے لئے کمزورلوگوں کی خواہشات،ضروریات اور زندگی کے رنگ ڈھنگ کو اپنی منشا کے تابع رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنی انا،خواہش، مرضی اور مقاصد کو بہ امر مجبوری کسی اور کی مرہون منت رکھنا غلامی ہے جو آج بھی ہر معاشرے،خطے اور ملک میں موجود ہے۔ اقوام عالم کا دعوی ہے کہ غلامی کا دور قصہ پارینہ ہو گیا۔ آج انسان مکمل آزاد اور خود مختار ہے۔اسے اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔ وہ کوئی بھی مذہب، قومیت،نظریہ اور طرز زندگی اختیار کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔حالانکہ یہ سب دل بہلانے والی باتیں ہیں۔تمام ممالک اپنے قومی مفادات کے غلام ہیں اور ان مفادات کے حصول کے لئے وہ کسی سے بھی اتحاد کرسکتے ہیں خواہ ان کے نظریات، روایات، اقدار، خیالات اور افکار ایک دوسرے سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بلا کر اسے ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا۔ جبکہ عرب امارات کے شیوخ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ مودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں پچاس لاکھ کشمیریوں کی زندگی اس وجہ سے اجیرن بنادی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ایران اور بھارت کی دوستی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔امریکہ، برطانیہ،فرانس، جرمنی، جاپان سمیت تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک بھی مالی مفادات کے لئے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔اگر ہم اپنے گھر کی بات کریں تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں آزادی کی جو تحریک چلی، اس کے نتیجے میں چودہ اگست 1947کو ہم نے بیک وقت انگریز اور ہندو کی غلامی سے آزادی حاصل کرلی۔بابائے قوم نے پاکستان کے نام سے زمین کے دو ٹکڑے تو حاصل کرلئے مگر یہاں جو نظام وہ لانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے ان کی عمر نے وفا نہیں کی۔ قائد کی وفات کے بعد ملک میں وہی جاگیردارانہ نظام رائج ہوگیا، جسے برصغیر کے لوگوں کو محکوم رکھنے کے لئے انگریز نے رائج کیا تھا۔ سندھ میں وڈیرے، بلوچستان میں سردار، پنجاب میں چوہدری اور خیبر پختونخوا میں خوانین سیاہ و سفید کے مالک ہیں، سیاست بھی انہی کے گھر کی لونڈی ہے، صنعتیں بھی ان کی ہیں، جاگیریں بھی ان کے پاس ہیں، افسر شاہی میں بھی وہی براجماں ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر ان کے حلقے میں کتا بھی نہیں بھونک سکتا۔ان لوگوں نے دانستہ طور پر اپنی قوم کو تعلیم سے محروم اور جاہل رکھا ہے تاکہ ان کی برتری کو کوئی چیلنج نہ کرسکے۔قیام پاکستان سے اب تک سیاسی پارٹیوں کی قیادت پراگر طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں گنے چنے خاندانوں کی ہی حکمرانی رہی ہے۔ اور کئی کئی نسلوں تک رہی ہے۔ پارٹی اور حکومت کو وہ اپنے باپ دادا کی وراثت سمجھتے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ڈیڑھ سو سے زیادہ سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ
ہیں۔ایک دو پارٹیوں کو چھوڑ کر کسی بھی چھوٹی بڑی پارٹی میں جمہوری طرز پر انتخابات نہیں ہوتے۔ انٹراپارٹی الیکشن کے نام پر صوبوں، اضلاع اور تحصیل کی سطح پر عہدہ داروں کا چناو ہوتا ہے لیکن مرکزی قیادت کے لئے کبھی چناو نہیں ہوتا۔انتخابات میں ووٹ بھی مالی مفادات، دھونس، دھمکی، برادری، قومیت،فرقے اور مسلک کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں،جب جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہی الٹی لگی ہو تو ملک میں جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے۔ ان حقائق کو سامنے رکھ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے خدا کو حاضر و ناظر جان کر آپ فیصلہ کریں کہ کیا ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہیں اور اگر نہیں ہیں تو غلامی سے نجات کا دن کیوں منائیں؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق