fbpx

نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے ان کی درست سمت میں رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔مشتاق احمد خان کاچترال میں جے آئی یوتھ سے خطاب

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ دنیا میں جنگیں بندوق اور ٹینک کے بجائے اب ٹیکنالوجی،علم وہنر میں مہارت اور نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی صورت میں جیتی جاتی ہیں۔انسانیت،تعلیم،اخترام اور باہمی رواداری کو پروان چڑھا کر ہی دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔قوموں کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار ہردور میں مسلمہ رہا ہے۔تبدیلی کا خواب نوجوانوں کے بغیر شرمندہ تعبیر ہوناممکن نہیں ہے۔نوجوانوں کا پلڑا جس طرف ہوگا کامیابی اسی کی ہوگی،ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کا کردار ہمالیہ سے بھی اونچا ہو اور ان کے ہاتھوں سے سگریٹ اور بندوق چھین کر انہیں قلم اور کتاب تھمادے تاکہ وطن عزیز پاکستان کوترقی یافتہ اقوام کی صف میں لاکھڑا کر سکے۔جے آئی یوتھ کے جوان قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے احتجاج کے حق کو اس انداز میں استعمال کریں کہ آپ ظلم کا راستہ روک لیں۔آئین پاکستان کی دفعات 17اور19نے ہمیں حق دیا ہے کہ ہم پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی کے زریعے ظلم کے خلاف مظلوم کی آواز بنے۔ان خیالات کا اظہار سینٹر مشتاق احمد خان نے چترال میں جے آئی یوتھ کے زیر اہتمام یوتھ کنونشن و جے ایی یوتھ کویز مقابلے کی تقریب تقسیم انعامات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمن پراچہ ضلعی امیر مولانا جمشید احمد،ضلع چترال کے صدر وجیہ الدین سمیت دیگر مقامی قائدین بھی موجود تھے۔ سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ چترال صرف پہاڑوں کے درمیان آباد ضلع کا نام نہیں بلکہ یہ ایسے غیرت مند مسلمانوں کا ضلع ہے کہ اس کی ایک زندہ تاریخ ہے انہوں نے کہا کہ میں دنیا بھر میں جہاں بھی جاتا ہوں تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے وہاں کی تاریخ اور جغرافیہ کا مطالعہ ضرور کرتاہوں برطانیہ دورے کے موقع پر میں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں انگریز تاریخ دان کی مشہور کتاب کامطالعہ کیا جس میں ہمارے ملک کے حوالے سے لکھا تھا کہ انگریز نے یہاں پر 100سال حکومت کی اور 100جنگیں لڑی۔اس کتاب کا آغاز جس باب سے کیا گیا اس کا نام خوفناک قلعہ ہے اور اس سے مصنف کی مراد چترال ہے۔آپ کے قلعوں سے ماضی میں بھی دشمن نے خوف کھایا ہے اور آج بھی ان پہاڑوں کے اندر بسنے والے جونوانوں سے انہیں خوف ہے۔انہوں نے کہا کہ چترال امن خوشخالی اور دین سے لگاؤ رکھنے والے باصلاحیت افراد کا وہ علاقہ ہے کہ جس کے باسی پورے ملک میں اپنی صلاحیت کا لوہا منواچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد64فیصدہے اور ماہرین کے مطابق 2050ء تک پاکستان میں یوتھ کا یہی تناسب رہے گا جوکہ اللہ تعالی کی طرف سے پاکستان پر بہت بڑا انعام ہے۔لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے ہر دور میں اس نعمت سے وہ استفادہ نہیں کیاجو وقت اور حالات کا تقاضا تھا۔آج دنیا میں جو قومیں اپنی یوتھ پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں وہ قومیں ترقی کی بلدیوں پر ہیں۔ پروگرام میں جے آئی یوتھ کی طرف سے منعقدہ کویز مقابلے میں نمایان پوزیشن حاصل کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔پہلے پوزیشن لینے والے کو 30 ہزار دوسرے کو 20 ہزار اور تیسرے پوزیشن لینے والے کو پانج ہزار کیش پرائز دی گئی۔پروگرام میں جے آئی یوتھ کے مختلف وی سی کے سطح پر نو منتخب عہدادروں سے حلف بھی لیا گیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق