fbpx

غدار کون۔۔۔؟

……..تحریر: تقدیرہ خان…….

جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور عدل کے ایوانوں میں انہیں سخت ترین سزا دینے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف12اکتوبر کے آپریشن ”سالیڈ یریٹی“ کے نتیجے میں ملک کے چیف ایگزیکٹواور پھر صدر پاکستان بن گئے۔
قانون، آئین اور آئین کی محافظ عدلیہ کا اپنا طریقہ کار ہے جس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اللہ ربّ العالمٰین ہے۔وہی پیدا ہونے والا، مارنے والا پھر پیدا کرنیوالا اور یوم حساب کا مالک ہے۔ دنیا کا کوئی جج یا منصف سوائے محمد عربی ﷺ کے ایسا نہیں جسے بہترین منصف یا عادل کہا جاسکے۔ انسان عقل، ہوس اور منطق کی سرشت لیکر پید اہوا اور اُسی راہ پر چل رہا ہے۔ وہ جس بھی مذہب، ملت، عقیدے یا فرقے کا ماننے والا ہو وہ اپنے عقل کے تابع اپنے ہر فعل کو درست گردانتا ہے اور منطق کے ہتھیار سے اپنی عقلی دنیا کو وسعت دیتا ہے۔ ہر شخص چاہے وہ کسی بھی عہدے یا رتبے پر فائیز ہواُس کا ایک ماضی اور ایک حال ہے۔ وہ اپنے ماضی سے صرف نظر کرتا ہے اور حال کی قوت سے مستقبل کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں غالب عنصر خود نمائی، خود غرضی اور بے اعتنائی کا ہوتا ہے۔
کوئی بھی انسان سوائے اللہ کے منتخب اور چنیدہ بندوں کے اپنی غرض مندی میں خدا او ر خدا کے حکم کو بھی مداخلت بے جا سمجھتا ہے۔ وہ اپنی عقل، علم اور ظاہری دنیاوی رتبے اور عہدے کا اظہار اپنی برتر حیثیت میں کرتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ وہ جس روسٹرم کے پیچھے کھڑا ہے شاید خدا بزرگ و برتر اسے اس روسٹرم سے پیچھے ہٹنے کا موقع ہی نہ دے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ جب وہ اس عہدے پر فائز نہ ہو گا تو دنیا اس کا کیا حشر کریگی۔
فرمان ربیّ ہے کہ یہ دنیا محض کھیل تماشہ ہے۔ جس نے اس دنیا سے دل لگا لیا وہ برباد ہوگیا۔ علمائے حق کا بیان کہ جہنم میں کا قاضیوں اور عورتوں کا کثیر تعداد ہوگی۔ تشریح میں لکھا گیا ہے کہ قاضی عدل نہیں کرتے اور عورتیں غیبت اور بے حیائی کی مرتکب ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں بار بار عدل کا ذکر آیا ہے۔ فرمایا تم سے پہلے کتنی قوموں پر عذاب نازل ہوا چونکہ وہ عدل نہیں کرتی تھیں۔ عدل صرف عدالتوں میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انسانی اندگی میں اعتدال کا عمل ضروری ہے۔ اعتدال کے لیے عد ل اور عدل کے عمل میں اعتدال نہ ہو تو دونوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ عالمگیر مشاہدے میں آیا ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اعتدال نہیں ہوتا اور نہ ہی قوانین بنانے والوں کا علم مکمل ہوتا ہے۔ ہر علم میں ہو س وحرص اور منطق کا عنصر غالب ہوتا ہے اور انسانی اجتماعی سوچ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ قوانین ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بتائے جاتے ہیں اور قوانین بنانے والوں کی ضرورتیں ہر حال میں قانون کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اسی طرح قانون کی تشہیر اور قانون کا نفاد کرنے والوں کی خواہشات و ضرورت قانون کے ہتھیار سے انسانی ضروریات و خواہشات کو دبانے یا پھر مٹانے کا موجب بن کر عام لوگوں کو قوانین توڑنے اور قانون کی خلاف ورزی پر مجبور کر دیتی ہیں۔
سورہ مائدہ میں ذکر ہے کہ جو لوگ ملک میں فساد کرتے ہیں انہیں قتل کیا جائے، سولی چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں تاکہ وہ دنیا میں نشان عبرت بن جائیں۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کی سلامتی، استحکام اور عوام کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ملک میں فساد برپا کر نے والوں کو سزاؤں کے بجائے انعامات سے نوازا جانے لگا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ایم کیوایم، تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر تنظیموں جن میں الذوالفقار اور اب پی ٹی ایم قابل ذکر ہیں جنہوں نے ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا۔انہیں معاشی دہشت گردوں، بڑے بڑے سیاسی، سماجی گروہوں اور سرمایہ کاروں کی معاونت حاصل تھی مگر بوجہ قانون کا نفاذ نہ ہوا اور سیاستدانوں نے محض اپنی ضرورت و خواہشات کے پیش نظر فساد برپا کرنیوالوں کو طرح طرح کی سہولتیں دیکر ان کا رُخ پاکستان فوج اور ملکی سالمیت کی طرف موڑ دیا ہے۔
شریف خاندان کی سازشوں سے ساری دنیا واقف ہے۔ پہلے فوج کی مدد سے لو ہے کے ساتھ ساتھ سیاست کے کاروبار میں آئے اور ملکی و سائل لوٹ کر دنیا کے امیر ترین گھرانوں میں شامل ہوگئے۔ عدالت سے خطرہ محسوس ہوا تو پہلے نوٹوں کے بریف کیس ججوں کی خریداری کے لیے مارکیٹ میں لائے اور آخر کار ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ کر کے ججوں کو کرسیاں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس فتنے پر عدلیہ نے مصلحت سے کام لیا اور چند کارندوں کو معمولی سزائیں دیکر ملک پر شریف راج قائم کر دیا۔
عدلیہ پر حملے کی شہ پاکر شریف خاندان نے ہر شعبہ زندگی پر شب خون مارا اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاندان شریفیہ کی بنیاد رکھ دی جسے اب کسی آئین و قانون کی گرفت میں نہیں لایا جاسکتا۔ جلاوطنی یاجیل اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پاکستان بحیثیت نظریاتی اسلامی ملک کے نام نہاد اسلامی بلاک سمیت ساری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے جسے ایک باجگزار ریاست بنانے میں شریف اور زرداری خاندان عالمی سہولت کار او رپاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار ہیں۔ نامور وکلا، ہوس و حرص اور منطق کے زور پران کا دفاع کرتے ہیں اور ملکی بکاؤ میڈیا اربوں روپے لیکران کی مظلومیت، شرافت، حب الوطنی اور عوام دوستی کی داستانیں بیان کرتا مقامی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔
آج پرویزمشرف کوسخت ترین سزا دینے کا ہر سطح پر چرچاہے مگر نواز شریف اور اُس کے حواریوں کی سازشوں اور فساد پر پا کرنے کی چالوں پر کسی کا دھیان ہی نہیں۔ اگر اکتوبر1999؁ ء کی سازش کامیاب ہو جاتی تو ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی جس کے نتیجے میں مشرقی وسطیٰ میں بیٹھی امریکی اور اسرائیلی فوجیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی مدد سے ہماری عزت اورآزادی کی خاتمہ کر کے شریف آف مکہ کی طرح شریف آف پاکستان کو بادشاہی دے کر خود سیاہ و سفید کی مالک بن جاتیں۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ جرم ہے کہ اُس کے محب وطن ساتھیوں نے یہ سازش کامیاب نہ ہونے دی اور ملک کو شریف خاندان کے طے شدہ فتنے و فساد سے بچا لیا۔
افتخار چوہدری کی سازشیں بھی ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے والی تھیں۔افتخار چوہدری نے قانون کی پروہ کیے بغیر شاہانہ پروٹو کول کا استعمال شروع کیا اور گارڈ آف آنر کے علاوہ سربراہ مملکت جیسے اختیارات استعمال کرنے شروع کر دیے۔ افتخار چوہدری کا بیٹا ملک کا ولی عہد بن بیٹھا اور باپ کی پوزیشن کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ ملک ریاض اور ارسلان چوھدری کا جھگڑا عدالت میں تو گیا مگر جلد ہی سرد خانے کی سب سے نچلی تہہ میں رکھ دیا گیا۔
افتخار چوہدری نے ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو تقسیم کرنے اور ملک میں فسا د برپا کرنے کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں کے صلاح مشورے سے ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے افتخار چوہدری کو اُسکے منصب سے الگ کر دیا۔
قانون وآئین کی رو سے جنرل پرویز کا یہ قدم غلط سہی مگر ملک کو فساد اور خلفشار سے بچانے کی کوشش بھی تھی۔یہ پہلی بار ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا سب سے بڑا جج انتظامی اختیارات بھی استعمال کرنے لگا جس کی وجہ سے ملک کے انتظامی امور چلانے والی مشینری کا حکومت وقت پر اعتماد اُٹھ گیا۔
افتخار چوہدری کی اس سازش کے دو ہی حل تھے۔ اوّل صدر مملکت اور وزیراعظم جناب افتخار چوہدری کے حق میں دستبردار ہو جاتے یا پھر جس طرح سکندر مرزا نے ایوب خان کو وزیر دفاع بناکر حکومتی امور میں شامل کیا تھا ویسے ہی جناب افتخار چوہدری کے لیے حکومت میں کوئی متوازی عہدہ تلاش کر لیتے۔ اس سلسلے میں بڑی آسانی سے آئینی ترمیم بھی ہو جاتی اور آئندہ عدلیہ اور انتظامیہ میں کوئی اونچ نیچ بھی نہ ہوتی۔ اگر زرداری اور نواز شریف کی خواہشات پر اٹھارویں آئینی ترمیم ہو سکتی تو جناب افتخار چوہدری کی خواہش ان سے بڑھ کر مقدم و محترم تھی۔
آئین و قانون کے لحاظ سے جنرل مشر ف کے اقدامات اگر سزا کے زمرے میں آتے ہیں تو نواز شریف اور افتخار چوہدری کے اقدامات بھی ملک میں شر و فساد پھیلانے او ر سیاست کے نظام کو تباہ کرنے کے زمرے میں آتے تھے۔ جنرل مشرف کو سزا دینے سے پہلے شریف خاندان اور افتخار چوہدری کے کردار پر نظر نہ ڈالنا جنرل پرویز مشرف کے ساتھ زیادتی ہوگی اور وہ مر کر بھی زندہ رہیگا۔
جنرل پرویز مشرف محب وطن سپاہی اور بہترین جرنیل تھا جس کے رُعب ودبدبے سے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت آج بھی خائف رہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے گھر میں کبھی مودی اور جندال نہیں آئے اور نہ ہی لاکھوں کشمیریوں کے قاتل بی جے پی کے سرکردہ قاتلوں سے مشرف کا رابطہ رہا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق