fbpx

ایم این اے چترال عبدالاکبر چترالی کی طرف سےقومی اسمبلی میں قومی احستاب آرڈی ننس مجریہ 1999میں ترامیم کاپیش کردہ بل مسترد

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)جماعت اسلامی پاکستان سے  قومی اسمبلی میں تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کی طرف سے موجود قانون قومی احتساب آرڈی ننس مجریہ 1999 میں ترامیم کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا لیکن حکومت کی طرف سے مخالفت کی بناء پر مسترد ہو گیا.

بل میں جماعتِ اسلامی نے نیب آرڈی ننس کے سیکشنز 4، 5، 6، 7، 8، 9، 10، 19، 20، 22، 25، 26، 27، 31، 33 میں ترامیم درج ذیل ہیں

۱ ۔ احتساب عدالت کے جج کی تعیناتی متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انتظامی کمیٹی کی مشاورت سے کی جائے گی۔ اور احتساب عدالت میں وہ جج تعینات ہو سکے گا جو کسی ضلعی یا سیشن عدالت کا حاضر سروس جج ہو اور جو ہائی کورٹ میں تعیناتی کا اہل ہو، جو عدالتی افسران میں انتہائی قابل، ایماندار اور اچھی شہرت کا حامل ہو ۔

۲ ۔ نیب آرڈینس کے سیکشن پانچ کے پیراگراف (r) کے پہلے، دوسرے اور تیسرے پیراگراف کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس سے قبل کچھ افرادیا عوامی نمائندوں کو قرضوں کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ڈیفالٹ سے استثناء دیا گیا تھا ۔ یہ قرین انصاف ہے کہ چاہے حکومتی ادارہ ہو یا پرائیویٹ یا کو ئی بھی با اثر شخصیت جس کے ذمہ جو بھی قرض کی ادائیگی ہے اسکو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور واجب الاداء رقم کی ادائیگی کرے ۔ اسکو مزید مہلت دینا کرپشن کی حوصلہ افزائی ہے ۔

۳ ۔ اسی طرح سیکشن پانچ کے پیراگراف(r) کے بعد ایک نئے پیراگراف (s) کے اضافہ کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اچھی حکمرانی وہ ہے جس میں ادارہ جاتی طرز عمل میں واضح مثبت تبدیلی اور اصلاحات ہوں ، اور مختصراً یہ انسدادِبدعنوانی پر مبنی ایک حکمتِ عملی ہے جہاں حکام اور ادارے بدعنوانی سے آزاد، عوام کو جوابدہ، موَثر اقدامات کی صلاحیت رکھنے والے اور بدعنوانی سے پاک ہوں ، اور انفرادی اور ریاستی سطح پر کسی بھی معنی میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تمام ادارے خود مختار ہوں ۔

۴ ۔ نیب آرڈینس کے سیکشن 6 اور 7 میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تعیناتی صدرِ پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دو دیگر سینئر ججز، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کیساتھ مشاورت کے بعد اکثریتی رائے کی بنیاد پرکرے ۔ صدرِ پاکستان ڈپٹی چیئرمین نیب کی تعیناتی چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیئرمین نیب کی مشاورت سے کرے ۔

۵ ۔ سیکشن 8 میں تجویز کردہ ترمیم کے مطابق صدرِ پاکستان پراسیکیوٹر جنرل کی تقرری چیئرمین نیب اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے مشورے سے کرے گا ۔ اور پراسیکیوٹر جنرل چھ ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے چھٹی پر نہیں جاسکے گا ۔

۶ ۔ سیکشن 9 میں تجویز کردہ ترمیم کے مطابق کسی بھی جرم کی تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد جو کسی بھی سرکاری عہدیدار یا دوسرے شخص کے خلاف ہو، اگر چیئرمین نیب مطمئن ہوجاتا ہے کہ بادی النظر میں اس کے خلاف کوئی کیس نہیں تو وہ خود فیصلہ کرنے کی بجائے مقدمہ کو احتساب عدالت میں بھیجے گا ۔ اور اگر عدالت نیب کی تفتیش سے مطمئن ہوتی ہے تو وہ ملزم اگر زیر حراست ہو تو اُس کی رہائی کے احکامات جاری کرے گی ۔

۷ ۔ نیب آرڈینس کے سیکشن 10 میں تجویز کردہ ترمیم کے مطابق کوئی سرکاری عہدیدار یا کوئی دیگر شخص جس نے کرپشن اور کرپشن پر مبنی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہواور کرپشن کی تعریف میں ہر قسم کی اوراس آرڈینیس کے سیکشن نو میں اور دیگر سیکشنز میں دیے گئے جرائم کے ہر مطلب میں کرپشن شمار ہوگی ۔ یا وہ ایسی بدعنوانی میں ملوث ہو جس یا دیگر تمام نوعیت کے جرائم میں ملوث ہو تو وہ 25 سال تک سزا کا موجب ہوگا اور جرمانہ بھی ہوگا اور سزا کسی صورت میں بھی دس سال سے کم نہ ہوگی اور اسے اس کے ایسے جائیداد سے محروم کیا جائے گا جو اس کے معلوم ذراءع آمدن سے متماثل نہ ہو، ےاجسے بدعنوانی سے حاصل کردہ پیسے سے خریدا گیا ہو، خواہ وہ جائیداد اس کے اپنے نام ہو یا کسی ماتحت کے نام، یا وہ بے نامی جائیداد ہو، وہ سب بحق حکومتِ پاکستان یا متعلقہ بنک یا مالیاتی ادارے، جو بھی صورت ہو، کے نام ضبط ہوں گی، اور اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کیا جائے گا، اس کی جائیداد منجمند کرکے اسے اس کے عہدے سے  ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا اور اسے آئندہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا اور وہ کسی بھی ادارے بشمول بلدیاتی ، صوبائی، قومی اسمبلی، سینیٹ کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا ۔

۸ ۔ سیکشن 20 میں تجویز کردہ ترمیم کے مطابق پیراگراف (a) اور (b) میں کہا گیا ہے کہ تمام بنکوں اور مالیاتی اداروں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کسی پاکستانی شہری یا دیگر ممالک کے شہری،خواہ وہ فی الوقت پاکستان میں رہ رہے ہوں یا بیرون ملک سے کاروبار کررہے ہوں ، خواہ وہ کہیں بھی ہو اور اُس کی کوئی بھی حیثیت ہو، کوئی ایسی مالیاتی سہولت فراہم نہ کریں جو مستقبل میں کسی قسم کے نقصان کا باعث ہو ۔ مزید کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی حکومت کو ایسے تمام افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہوگا اور بغیر کسی تصدیق کے ایسی کوئی مالیاتی سہولت فراہم کرنے یا قرض معاف کرانے میں ملوث یا معاون ہوگا، اور سیکشن (a)کے مطابق عملدرآمد نہیں کرے گا تو وہ ایسی سخت سزا کا مستحق ہوگا جس کی مدت 25 سال تک ہوگی اور اُسے جرمانہ بھی کیا جائے گا ۔

۹ ۔ بیرونی اثاثوں کے ظاہر کرنے سے متعلق ایک نئی سیکشن 22.اے تجویز کی گئی ہے، جس میں بیرونی اثاثہ جات کو ظاہر کرنے اور واپس لانے کے بارے میں نیب کے اختیارات کو وسعت دی گئی ہے ۔

۰۱ ۔ نیب آرڈی ننس کے سیکشن 25 کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ نیب قانون میں رضاکارانہ واپسی اور پلی بارگین کا قانون مجرموں کو تحفظ اور کرپشن کو فروغ دینے کے مترادف ہے لہٰذا اس کو ختم کیا جائے ۔

۱۱ ۔ نیب آرڈی ننس کے سیکشن 25-;65; میں ترمیم تجویز کی گئی ہے کہ کسی بھی شخص کے طے شدہ ڈیفالٹ کی صورت میں ثالثی کمیٹی کے حوالے سے گورنر سٹیٹ بنک کے بجائے چیئرمین نےب کو زیادہ اختیار ہونگے ۔

۱۱ ۔ نیب آرڈینس کے سیکشن 26 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، جس کے ذریعے چیئرمین نیب کو کسی کو وعدہ معاف گواہ بناکر ریلیف دینے یا دیگر کسی صورت میں معافی دینے کے اختیارات ختم کردیے گئے ہیں ۔

۲۱ ۔ نیب آرڈینس کی سیکشن 27 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب یا ان کی طرف سے نامزد کردہ نیب کا کوئی با اختیار افسر، کسی بھی مقصد، بشمول بدعنوانی اور بدعنوانی کی کوششوں کے خاتمہ کے لیے اسے اختیار ہوگا کہ وہ نیب میں زیر التواء مقدمات میں معاونت کے لیے کسی بھی قسم کی دستاویز، معلومات یا تعاون حاصل کرے، یا اگر وہ چاہے تو کسی بھی وفاقی، صوبائی، ضلعی حکومت کے ادارے، بنک، مالیاتی ادارے، شخص یا کسی تنظیم اور ادارے یا سرکاری شعبہ یا نجی کے تحت کسی ادارے کے کسی بھی جائیداد کو، اگر وہ ضروری سمجھے، تو ضبط کرسکتے ہیں ۔

۳۱ ۔ نیب آرڈی ننس کے سیکشنز 31 سی اور 31 ڈی کو ختم کرنے کی اس لیے تجویز دی گئی ہے کیونکہ ان کے ذریعے احتساب عدالتوں کے اختیارات پر قدغن لگائی گئی ہے اور عدالتوں کے دائرہ اختیارِ سماعت کو گورنر سٹیٹ بنک کی مرضی سے مشروط کیا گیاہے ۔

۴۱ ۔ سیکشن 33  میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں کہ کرپشن اور کرپشن پر مبنی اقدامات کو کم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ، ہائی کورٹس کے فیصلوں ، نیب کے انتظامی معاملات اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے کرپشن کے خلاف پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے نگرانی نیب کی بنیادی ذمہ داری ہوگی ۔ نیب آرڈی ننس کے شیڈول میں سزائیں بڑھائی گئی ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق