fbpx

بجلی کے بقایا جات ادا کرنے کی بڑی خبر

………محمد شریف شکیب
وفاقی حکومت نے سکوک بانڈز کی صورت میں خیبر پختونخوا کو بجلی کے بقایا جات کی مد میں 250ارب روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پانی، بجلی، پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمورسلیم جھگڑا کو ایک ملاقات میں بتائی۔وفاقی وزیر نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ خیبر پختونخوا کے مالی مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔ یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے اور وفاقی کابینہ میں بھی اہم وزارتیں خیبر پختونخوا کے حصے میں آئی ہیں صوبے کو بجلی کے بقایا جات کی ادائیگی میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرپانی و بجلی اور قدرتی وسائل عمر ایوب کی ذاتی دلچسپی شامل ہے۔ ماضی میں بھی وفاق اور صوبوں میں ایک ہی پارٹی یا اتحادی جماعتوں کی حکومتیں رہی ہیں لیکن وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے پسماندہ اور چھوٹے صوبوں کی ہمیشہ حق تلفی کی۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں اگرچہ وفاقی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولہ بھی طے پایا تھا لیکن اس فارمولے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ بجٹ میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز بھی پنجاب اور سندھ میں خرچ کئے جانے کی شکایات رہی ہیں وفاقی حکومت نے پن بجلی کے بقایا جات کی مد میں جو رقم صوبے کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ کافی پرانا کھاتہ ہے۔ خیبر پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع ادا کرنے کا تنازعہ 1980کے عشرے سے چل رہا ہے1987میں وفاقی سیکرٹری آفتاب غلام نبی قاضی (اے جی این قاضی) کی سربراہی میں بجلی کے خالص منافع کا تعین کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی نے اس وقت بجلی کی قیمت میں سے اکیس پیسے فی یونٹ کے حساب سے خیبر پختونخوا کو منافع دینے کا فیصلہ کیا۔ جس کے تحت صوبے کو ملنے والا سالانہ منافع چھ ارب روپے بنتا تھا۔ کمیٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حساب سے منافع کی شرح میں بھی پانچ فیصدسالانہ اضافے کی سفارش کی تھی۔ مشترکہ مفادات کونسل نے 1991میں بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے اے جی این قاضی فارمولے کی منظوری دیدی۔ جس کے تحت بقایا جات کی مد میں صوبے کو 128ارب اور سالانہ منافع کی مد میں چھ ارب روپے ملنے تھے تاہم بعد ازاں صوبے کو ملنے والا سالانہ منافع چھ ارب روپے پر کیپ کردیا گیا۔ ہر حکومت این جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کو حقوق دینے پر آمادگی کا اظہار تو کرتی رہی لیکن اس کو عملی جامہ کسی نے نہیں پہنایا۔ اور صوبے کے واجبات بڑھ کر اڑھائی سو ارب روپے تک پہنچ گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے اپنے اخراجات کا صرف انیس فیصد ہی پورا کرپاتی ہے۔ زیادہ تر انحصار وفاق سے ملنے والی امداد، قابل تقسیم وسائل سے ملنے والے حصے اور بین الاقوامی اداروں کی مالی مدد پر کیا جاتا ہے۔ اگر صوبے کو بجلی کے بقایا جات کے علاوہ ہر سال طے شدہ فارمولے کے تحت واجبات ملتے رہے تو صوبے کو وفاقی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا بینکوں سے قرضے لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔صوبائی حکومت نے بلین ٹری سونامی، زرعی ترقی، معدنیات، سیاحت کے فروغ اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے منصوبے تو بنارکھے ہیں لیکن وفاق کے ذمے واجبات نہ ملنے کی وجہ سے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس بار تبدیلی نظر آنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق اگر صوبے کو سکوک بانڈز کی صورت میں اڑھائی سو ارب روپے کے بقایا جات مل گئے تو صوبے کی معیشت کو مضبوط سہار ا مل سکتا ہے۔ صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بھی صوبائی حقوق کے لئے مل کر جدوجہد کی ہے اس بار بھی اپنے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر صوبے کے حقوق کے لئے اتحاد و اتفاق اور یک
جہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔کیونکہ اب صوبے پر قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی کا اضافی بوجھ بھی پڑا ہے۔ جس کے لئے وفاق اور خیبر پختونخوا نے قابل تقسیم وسائل میں سے اپنے حصے کا ایک فیصد قبائلی اضلاع کو دینے کا اعلان کیا ہے تاہم سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی حکومتیں اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کرپائی ہیں۔ اگر صوبے کو اس کے بقایاجات پورے مل گئے تو صوبے کے سو فیصد مالی مشکلات دور ہونے کی توقع ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق