fbpx

داد بیداد….بجلی کی رائیلٹی

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ……..

پاکستان تحریک انصاف کی صو بائی حکومت نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے بجلی کے خا لص منافع میں صوبے کو ملنے وا لی رائیلٹی کے لئے طویل جدو جہد کے بعد وفاقی حکومت نے اے جی این قاضی فارمو لا کے مطا بق خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہر سا ل 128ارب روپے دینے پر رضا مند ی دکھا ئی ہے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس بات کا با ظابطہ فیصلہ کیا گیا مگر یہ رقم صوبے کو نہیں ملے گی اس میں ما یو سی اور قنوطبت (Passimism) کا طعنہ دینے والی کوئی نہیں حکومت خیبر پختونخوا کو سا لا نہ 128ارب روپے دینے کے سوال پر ایک کمیٹی قائم کی ہے کمیٹی کو یہ کام دیا گیا ہے کہ وہ صوبے کو رائیلٹی میں حصہ دینے کا طریقہ کا ر وضع کر یگی نیز یہ بھی دیکھے گی کہ وسائل کہاں سے آئینگے؟ طریقہ کار کی بات پر ہم کو تعجب نہیں ہوا سادہ معا ملہ ہے 4قسطوں میں ادائیگی ہو گی، دو قسطوں میں ہوگی یا ایک ہی قسط میں یکمشت ادائیگی مناسب رہے گی؟ ہمیں تعجب ہوا،چونکنے کی نو بت آئی اور باقاعدہ حیرت ہوئی تو دوسرے نکتے پر ہوئی واپڈا ہمارے صوبے کی بجلی صارفین کو فروخت کرکے آمدنی حا صل کرتی ہے واپڈا کے اخراجات کو الگ کرکے خا لص منافع کا حساب لگا یا گیا ہے خا لص منا فع ہمارے صوبے کا 128ارب روپے بنتا ہے یہ رقم واپڈا کے کھا تے میں پہلے ہی مو جود ہے وسائل تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں مگر ہم کمیٹیوں والے کام کے عادی ہو چکے ہیں حکومت جس کام سے جان چھڑا نا چاہتی ہے اس کے لئے کمیٹی یا کمیشن بنائی ہے اے جی این قاضی بھی ایک کمیٹی کے سر براہ تھے یہ کمیٹی 1985ء میں جنرل ضیاء الحق نے بنائی تھی کمیٹی کو بنے ہوئے 34سال ہو چکے ہیں اکثر ایسا ہو تاتھا کہ صوبے میں حکومت کسی اور پارٹی کی ہو تی تھی مر کز میں کوئی اور اقتدار میں ہوتا تھا اور دونوں حکومتوں میں رسہ کشی جیسی کیفیت چلتی رہتی تھی 2006ء میں پہلی بار وفاقی حکومت نے اے جی این قاضی فارمو لے کے تحت خیبر پختونخوا کو اس کا جائز اور منا سب حق دینے پر آماد گی کا اظہار کیا پہلے سے وفاق کے ذمے جو واجبات تھے وہ 300ارب سے زیادہ تھے فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو قسط وار ادا کیا جائے گا سالا نہ رائیلٹی ہر سال ادا کی جائیگی لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں میں صرف پا کستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے رائیلٹی کے مد میں صوبے کو قسطوں کی ادئیگی شروع کی صو بائی حکومت نے 2011ء میں اس رقم سے انر جی ڈیو لپمنٹ فنڈ قائم کیا لیکن 2013ء کے بعد یہ سلسلہ رُک گیا وفاق اور صوبے کی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے لگیں اس وجہ سے مو جو دہ حکومت کو پھر صفر سے آغا ز کرنا پڑا وفاقی حکومت فیاض اودریا دلی کا مظا ہرہ کررہی ہے تا ہم اس راہ میں کمیٹی حائل ہونے والی ہے کمیٹی اور کمیشن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے ایک افسانہ لکھا تھا افسانے کا عنوان ہے ”کمیشن“ منٹو نے افسانے کا پلا ٹ بادشاہ کے دربار سے لیا ہے باد شاہ کے دربار میں آکر دھو بیوں نے درخواست دی کہ ہم نے فوج کے کپڑے دھونے کا ٹھیکہ لیا تسلی بخش کام کررہے ہیں مگر فوج ہمیں پیسے نہیں دیتی باد شاہ نے اس پر کمیشن بٹھا یا معا ملہ ابھی کمیشن میں تھا باد شاہ کا ولی عہد بیٹا شکار پر نکلا شہزادہ معصوم تھا دھو بیوں کے محلے سے گزرا تو فاقہ زدہ لو گ ہڈیوں کے ڈھا نچے نظر آئے،شہزادے نے تیر پھینکا ایک ڈھانچہ گرا، دوسرا ڈھانچہ گرا، تیسرا ڈھانچہ بھی گر گیا اس طرح دھو بیوں کا محلہ خا لی ہو گیا ماہ و سال گذر گئے کمیشن کی رپورٹ آگئی اور دھوبیوں کا حق ان کو دینے کی سفارش کی گئی باد شاہ نے دھو بیوں کو بلا یا تو معلوم ہو اکہ محلہ خا لی ہو چکا ہے کوئی دھو بی زندہ نہیں ہے باد شا ہ نے کمیشن کے سر براہ کو شاباش دی اور دھو بیوں کا حق واپس خزانے میں جمع کرنے کا حکم دیا اس لئے مثل مشہور ہے کہ ”تریاق از عراق آور دہ شود مار گزیدہ مردہ شود“ جب عراق سے تر یا ق لا یا جائے گا سانپ کا ڈسا ہوا مر چکا ہو گا کمیٹی کی رپورٹ بھی عراق میں رکھا ہوا تر یاق ہے یہ تر یاق مریض کے مرنے کے بعد لایا جا تا ہے سیردست یہ بات خوش آئیند ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبے کو رائیلٹی کی مد میں 128ارب روپے سالانہ ا دا کرنے پر رضا مندی دکھائی ہے مشترکہ مفادات کونسل میں کیا گیا فیصلہ اٹل ہو تا ہے اگر وزیر اعظم عمران خان نے ذاتی طور پر دلچسپی لی تو وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور میں صوبے کو بجلی کی رائیلٹی میں اس کا جائز حصہ مل جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق