fbpx

دادبیداد…..ریا ست کے چار ستون

۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔۔۔

ایک مشہور یو نیور سٹی میں بر طا نیہ سے ایک مشہور ماہر سما جیات کو بلا یا گیا تھا اُس کے 10لیکچر تھے ہر لیکچر کے بعد سوا لوں کے جواب دیتا تھا اُس کا اہم لیکچر ریا ست کے ستو نوں پر تھا انہوں نے لیکچر کا آغا زافلا طون کے سٹی سٹیٹ یعنی شہری ریا ست سے کیا پھر انہوں نے دوسرے فلا سفروں کا حوالہ دیا ا نہوں نے اسلام اور عہد فاروقی کا بھی حوالہ دیا ان کے لیکچر کا لب لباب یہ تھا کہ ریا ست کے تین ستون ہوتے ہیں گذشتہ صدی میں چو تھے ستون کا اضافہ ہو اہے اب یہ عمارت چار ستونوں پر کھڑی ہے مقننہ، عد لیہ اور انتظا میہ کو ہزا روں سا لوں کے ریا ست کے ستو نوں کا درجہ حا صل رہا ہے،گذشتہ صدی کے اندر اخبارات آگئے ریڈیو کی نشریات نے سما جی شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو یورپ کے فلا سفروں نے ذرائع ابلاغ کو ریا ست کا چو تھا ستون قرار دیا پھر انہوں نے ریا ستی ستو نوں کے با ہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقننہ قا نون بناتی ہے، انتظا میہ اس قانون کو نا فذ کرتی ہے عد لیہ قانون کے نفاذ میں کو تا ہیوں پر نظر رکھتی ہے اور شہر یوں کو انصاف دیتی ہے ذرائع ابلاغ اس مقننہ، انتظا میہ اورعد لیہ کی سر گر میوں سے شہریوں کو آگاہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں گو یا پُل کا کر دار ادا کرتے ہیں ایک طا لب علم نے سوال کیا دوسرا! فوج کو ریا ست کا پانچوں ستوں ما نا جا تا ہے یا نہیں؟ دوسرے طالب علم نے سوال داغ دیا سکیور ٹی ایجنسی کو چھٹا ستون مانا جا تا ہے یا نہیں؟ پرو فیسر صاحب نے کہا علم سما جیات اور سیا سیات میں ریا ست کے5یا 6ستونوں کا کوئی ذکر نہیں فوج اور سیکیور ٹی ایجنسی ریا ستی ڈھانچے انتظا میہ کے ما تحت ہو تی ہے وفاقی حکومت کا ایک سیکرٹری ان کا سر براہ ہو تا ہے یہی حال پو لیس کا بھی ہے پرو فیسر صاحب یو رپ سے آئے تھے ان کو پتہ نہیں تھا کہ پا کستان میں پو لیٹکل سائنس کے مسلّمہ نظر یات کو اُلٹا کر کے لکھا اور پڑ ھا جا تا ہے جس ادارے کا نام ریا ستی ستو نوں میں شامل نہیں وہ ریا ست کا سب سے بڑا ستون ہے رات کھانے پر اس کا ذکر چھڑ گیا ؎
ذکر چھڑ گیا جب قیامت کا
بات پہنچی تیری جوانی تک
ایک سینئر اخبار نویس نے کہا ہمارے ہاں جنرل ضیاء الحق نے پا کستان سٹڈیزکے نام سے ملکی سیا ست اور سماجیات کا نیا علم متعارف کرا یا ہے مگر اس میں بھی ریا ست کے پانچویں یا چھٹے ستون کا کوئی باب یا چپٹر نہیں ہے پرو فیسر صاحب نے کہا ”تمہیں اس پر غور کرنا پڑے گا اس طرح تم عالمی سطح پر پو لٹیکل سائنس کے علم میں ایک چپٹر کا اضافہ کرو گے افلاطون کی روح تمہیں دُعا دے گی روسو، بیگل اور کارل مارکس تمہیں سلیوٹ کرینگے“اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیئے بر طانیہ میں تاریخ کے نا زک موڑ پر انتخا بات ہوئے اس ماہ انتخا بات کوٹیلیویژن سکرینوں پر لائیو دکھا یا گیا کسی بھی پولنگ سٹیشن پر فو جی کا پہرہ نہیں تھا کسی پو لنگ بوتھ پر فوجی بندوق لئے نہیں کھڑا تھا صبح 7بجے سے رات 10بجے تک پو لنگ ہوئی نتیجہ آیا تو بر سراقتدار کنز رویٹیو پارٹی جیت گئی بورس جانسن ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے یورپی یونین سے اخراج یعنی بریگزٹ کو مینڈیٹ ملا لیبر پارٹی نے خا موشی سے نتائج کو تسلیم کیا دونوں پارٹیوں کو یقین ہے کہ ملک میں ریا ست کے چاروں ستون، مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا درست طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں سیا سی پارٹیوں کی خا مو شی سے ریا ست پر عوام کا اعتمادمزید بڑ ھتا ہے مزید مظبوط ہو تا ہے سیا سی پارٹیوں کی ہلڑ بازی اس اعتماد کو مجروح کرتی ہے ریاست کے ستون لڑ کھڑا جاتے ہیں دوسری مثال امریکہ بہادر کی ہے جہاں گذشتہ دو مہینوں سے صدر ڈونلڈ ٹرم کے خلاف موا خذے (Impeachment)کی تحریک چل رہی ہے کانگریس کی ہاوس کمیٹی میں بحث ہوتی رہی، پھر کانگریس میں تحریک پیش ہوئی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اب یہ تحریک سینٹ میں پیش کی جائیگی مگر دو مہینوں کے اندر امریکہ میں کسی نے صدر ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے خلاف بینر لگا کر دیواروں کو گندا نہیں کیا کسی نے جلوس یاریلی نکا ل کر اپنے ملک کو بد نام نہیں کیا امریکی عوام کو پتہ ہے کہ صدر کا موا خذپارلیمنٹ کا کام ہے اور پارلیمنٹ پر سب کو اعتماد ہے اس لئے سب اپنا اپنا کام کرتے ہیں حزب اختلاف کو گذشتہ الیکشن میں شکست ہوئی تھی اس لئے وہ خا مو شی سے اگلے الیکشن کا انتظار کررہی ہے بات پھر ریا ست کے ستونوں کی ہے ریا ست کے ستو نوں پر عوام کو اعتماد ہے بر طانوی پرو فیسر نے یہ تمام مر حلے دیکھے ہوئے ہیں اس لئے پا کستان کے سسٹم پر اس کوتعجب ہوتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق